اسلام کو مغربی معیار پر نہ جانچیں

05 ستمبر 2017

آج کل کے اسلامی خصوصاً جمہوری ممالک میں مغرب پرستی کی ایسی لہر چھائی ہوئی ہے کہ لوگ اسلام کی خوبیوں کو بھی مغربی معیارپر شمار کرتے ہیں۔ اگر کوئی بات مغربی معیار پر اچھی ہو تو اسے اچھا گنتے ہیں اور اگر بُری ہو تو اسے چھوڑ دیتے ہیں اور معاذ اللہ جاہلیت سمجھتے ہیں۔ گویا اصل شریعت اور معیار مغرب کے انسانی قوانین کو بنا کر خدا کا ازل قانون چھوڑ ڈالا ہے۔
مثلاً آپ کو بڑی آسانی سے لوگ یہ کہتے مل جائیں گے کہ اقوامِ متحدہ کا” انسانی حقوق کا منشور “ عین اسلام کے مطابق ہے، دیکھو اسلام نے تو ہمیں یہ قوانین چودہ سو سال پہلے ہی دے دئے تھے وغیرہ۔ بظاہر سننے میں یہ بات بڑی اچھی معلوم ہوگی لیکن دراصل اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات کرنے والا اسلام کو مغربی نظام پر معاذ اللہ پورا اُترنے کی وجہ سے ہی اچھا سمجھ رہا ہے۔ اگر اسی آدمی کو یہ بات کہیں کہ انسانی حقوق کے منشور کے مطابق تو کسی بھی قوم و مذہب کو آدمی کسی بھی دوسرے مذہب والے سے شادی کر سکتا ہے جبکہ اسلام کے مطابق کفار سے (سوا اہلِ کتاب کے ) نکاح جائز نہیں ، تو یہی آدمی یہ اعتراف کرنے کے بجائے کہ اقوامِ متحدہ نے غلطی کی ہے ، اُلٹا یا تو کم از کم خاموش ہو جائے گا یا اُلٹاآپ کو تنگ نظر، شدت پسند وغیرہ جیسے ”پیارے“ القاب سے نوازے گا۔ گویا اس کے نزدیک سچ بولنے والا تو تنگ نظر ہے جو اسلامی نظام کے قوانین بتا رہا ہے لیکن ”انسانی حقوق کا منشور“ کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح ”علم“ کو بھی مغربی معیار پر دیکھتے ہیں، حالانکہ اسلام میں علم کا تصور صرف وہ علم ہے جو لوگوں کو نفع پہنچانے کے لئے اللہ کی خاطر حاصل کیا جائے۔ دنیاوی اغراض سے علم حاصل کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ مثلاً اگر کوئی اس وجہ سے ڈاکٹر یا وکیل وغیرہ بننا چاہتا ہے کہ عزت آرام کی زندگی گزاروں گا اور اس کے دل میں ہلکہ سا بھی خیال نہ ہو کہ میں یہ کام اللہ کے لئے ، اپنے گھر والوں کا خرچ برداشت کرکے ثواب کا مستحق بننے کے لئے کر رہا ہوں تو کل قیامت کے دن یہ علم اس کے لئے وبال ہو گا۔ چنانچہ مثلاً امام ابن حجر ہیتمی اللہ ان پر رحم فرمائے ، نے اپنی کتاب ”کبیرہ گناہوں کے ارتکاب سے جھڑک “ میں ۴۳ نمبر پر یہ گناہ لکھا ہے: ”تعلم العلم للدنیا“ دنیاوی غرض سے علم سیکھنا۔ اور اس باب میں کئی احادیث لکھیں، سند کے لئے اسی کتاب میں تفصیل دیکھیں ۔ مثلاً ”جس نے غیر اللہ کے لئے علم سیکھا یا علم کے ذریعے غیر اللہ (کوئی دنیاوی چیز) (حاصل کرنے کا )ارادہ کیا تو اسے ٹھکانہ جہنم میں بسالینا چاہئے۔ “ اسی طرح ایک دوسری حدیث لکھی: ”جس نے کوئی ایسا علم سیکھا جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے (علمِ دین یا علمِ کسب ) ، اور اسے صرف کسی دنیاوی غرض کے لئے سیکھتا ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو (تک) نہ پائے گا۔“ انا للہ وانا الیہ راجعون!
اور یہاں اکثر لوگوں کا حال ہے کہ بالکل مغربی ملحد لوگوں کی طرح علم حاصل کرتے ہیں ۔ بعض لوگ ہرکسی کا یوں دفاع کرتے ہیں: ” کسبِ حلال بھی تو بہت بڑا ثواب ہے“۔ میں کہتا ہوں : کیا مُلحد مغربی ممالک میں لوگ کمائی نہیں کرتے ؟ اور اس کے لئے علم حاصل نہیں کرتے؟ کیا کوئی مسلمان بھی اسی طرح علم حاصل نہیں کرسکتا؟ اصل بات نیت ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں دور دور تک بھی یہ خیال نہ ہو کہ میں اس وجہ سے یہ علم حاصل کررہا ہوں کہ اسلام میں کسبِ حلال کا حکم دیا گیا ہے ، تو اسے جان لینا چاہئے کہ مغربی معیار کے مطابق تو وہ ”ڈاکٹر“ یا ”افسر“ یا کم از کم”پڑھا لکھا آدمی“ ہے ، لیکن اسلام کی نظر میں اس کا علم وبال ہی وبال ہے۔
اسی طرح بعض لوگ مغربی جمہوریت وغیرہ کے ایسے دیوانے ہیں کہ صحابہ کرام کی حکومت کو بھی معاذ اللہ ”جمہوریت“ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور بادشاہت کی برائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رکھتے ۔ حالانکہ قرآن و سنت میں بادشاہت کی تعریف میں بہت کچھ وارد ہوا ہے۔ مثلاً تمام تواریخ اور قرآن و حدیث کے واضح ارشادات متفق ہیں کہ حضرت داو¿د و سلیمان علیھما السلام معصوم بنی ہونے کے باوجود بادشاہ تھے۔ نیز اللہ نے اس کو ان پر اپنے احسان کے طور پر گنوایا ہے۔ اسی طرح ایک بڑے صحابی سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی بادشاہ تھے۔
اسی طرح بعض لوگ اسلام کی ممدوح چیزوں کو معاذ اللہ مغربی معیار کے مطابق ”بیماری“ قرار دیتے ہیں۔ مثلاً قرآن و سنت میں قہقہہ لگانے اور زیادہ ہنسنے کی شدیدمذمت آئی ہے لیکن ڈاکٹر یہاں تک کہہ دیتے ہیں: ”قہقہہ لگائیں ، درد برداشت کرنے کی طاقت بڑھے گی“ ! اسی طرح ان بزرگوں اور صحابہ کرام کو بُرا بھلا کہتے ہیں جو کئی کئی سال علیحدہ جنگلوں میں گزار آئے تھے۔ انہیں معاذ اللہ دنیا سے فرار “ کا شکار قرار دیا جاتا ہے۔ اے مسلمانوں ! اپنے ضمیر سے پوچھو! کیا اس نظام کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی نہیں کہ اس معیار کو ماننے سے اسلام اور صحابہ کرام کی مقدس ہستیوں پر ضرب پڑتی ہے؟؟؟
غرض یہ کہ صرف دو راستے ہیں : ۱: مغرب کا نظام ٹھیک ہے اور اسلام کا نظام غلط۔ ۲: اسلام کی نظام ٹھیک ہے اور مغرب کا نظام غلط۔ ان دونوں کے درمیان کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ دونوں اُلٹ نظام صحیح نہیں ہوسکتے۔ باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ وباللہ التوفیق!