قالین،جھاڑی اور شیر

05 ستمبر 2017

مسلمانوں کی تاریخ خونچکاں واقعات سے بھری پڑی ہے،ایسی ہی ایک داستان شیر میسور ٹیپو سلطان کی ہے جس نے ہندوستان میں مسلمانوں کا وقار برقرار رکھنے کے لئے تن ،من دھن کی بازی لگا دی تھی،’’سلطنت خدا داد‘‘یہی اس کی ریاست کا نام تھا ،سب جانتے ہیں کہ جب اس کا سقوط ہوا تو یہ ریاست نہ تو معاشی طور پر کمزور تھی اور نہ اس کا دفاعی نظام فرسودہ تھا ۔سلطان شہید نے جس کا مقولہ تھا ’’شیر کی ایک دن کی ذندگی گیدڑ کی سو سال کی ذندگی سے بہتر ہے‘‘کسی معاشی یا دفاعی کمزوری کے باعث جان نہیں دی تھی ،بلکہ یہ غداروں کی سیاہ کاری تھی جنہوں نے سلطان شہید کو دفاع ،معیشت اور سیاست میں بظاہر ناکام بنا دیا تھا،سلطان نے بہادروں کی طرح جان دینا قبول کیا،مگر سودے بازی نہیں کی،اس وقت سلطان شہید کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کاتذکرہ مقصود نہیں ہے ،مگر کچھ چیزیںآفاقی حیثیت رکھتی ہو تی ہیں ، کسی بھی صورتحال میںخواہ وہ اچھی ہو یا بری اس کے مظاہر دکھائی دیتے ہیںاور پھر نتیجہ سامنے ا ٓجاتا ہے ،فرد اور قوم کو ان کو سمجھنا چاہیے اور خود میں تبدیلی لانا چاہئیے،مملکت خدا داد اور سلطنت خداداد کے حالات میں کیا مماثلت ہے ؟ اس کو سمجھنا چاہیے ،ڈاکٹر عطش درانی کی کتاب’’میسور کا شیر‘‘ میں ٹیپو سلطان شہید کا ایک واقعہ درج ہے ،جو اختصار کے ساتھ یوں ہے،’’سلطان عبادت گزار ہونے کے ساتھ ساتھ توہم پرست بھی تھا،1784ء میں مارچ کے مہینہ کی سہانی صبح ،سیر کرتے ہوئے سلطان کی نظر ایک فقیر پر پڑی،جسے چند آدمیوں نے گھیر رکھا تھا،سلطان نے اپنے محافظ سے پوچھا کہ یہ کون ہے ،محافظ نے کہا کہ یہ ایک نجومی ہے جس کو لوگ اپنا ہاتھ دکھا رہے ہیں،سلطان نے کہا کہ اس کو محل میں پیش کیا جائے،سلطانی محل کے ایک وسیع کمرے میں ایک خوشنما قالین اور ایک آرام دہ صوفہ پڑا ہو اتھا ،فقیر آتے ہی پائوں پھیلا کر بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر بعد سلطان کمرے میں داخل ہوا،خادم آداب بجا لائے،لیکن فقیر بیٹھا رہا،اس کی نظر قالین پر جمی ہوئی تھی ،قالین پر ایک خوبصورت جھاڑی بنی ہوئی تھی،جس میں گلاب کے پھول کھلے ہوئے تھے، اس کے ایک طرف عظیم الحبثہ شیرآرام کررہا تھا اور جھاڑی کے پیچھے پتوں میںایک شکاری ہاتھ میں بندوق لئے شیر کو تاک رہا تھا ،شکاری کے سر پر فرنگی ٹوپی تھی،شیر اس کے وجود سے بالکل بے پروا نظر آرہا تھا۔فقیر بڑی حیرت سے اس نقش ونگار کو دیکھ رہا تھا،سلطان نے بیٹھتے ہی پوچھا ’’سلطنت خدا داد میں کیا دیکھا؟فقیر نے کہا ہر طرف عدل وانصاف کا دور دورہ دیکھا،رعایا نہایت آرام سے رہ رہی ہے ۔ہندو مسلمان سگے بھائیوں کی طرح ہیں،اب سلطان نے دوسرا سوال کیا کہ علم نجوم کے متعلق کچھ کہیے،کیا یہ علم صحیح ہے؟فقیر نے اعتماد سے کہا کہ بالکل صحیح ہے لیکن صرف جاننے والے جانتے ہیں،دھوکہ بازوں نے اپنے فائدے کے لئے بدنام کر رکھا ہے،‘‘سلطان نے اپنے محافظ کو اشارہ کیا اور وہ باہر چلاگیا،تھوڑی دیر بعد وہ ایک پنجرہ لے کر آیا جس میں طوطا بند تھا ،اس کے پیچھے ایک سپاہی چاقو لئے تھا،سلطان نے پنجرہ کھول کر پرندے کو ہاتھوں میںاس طرح پکڑ لیا کہ اس کی دونوں ٹانگیں سلطان کی مٹھی میں تھیں،اور پر کھلے ہوئے تھے،طوطا پھڑپھڑانے لگا،سلطان نے سپاہی کے ہاتھ سے چاقو لیتے ہوئے نجومی سے پوچھا،بتاوں اس طوطے کی قسمت کیا ہے؟فقیر نے بے پروائی سے کہا کہ ایک کاغذ اور قلم،سلطان کے حکم پر دونوں چیزیں آگیئں،فقیر نے کاغذ پر کچھ لکھا اور لپیٹ کر دوسری جانب پھینکتے ہوئے کہا کہ اب آپ جو چاہیں کریں‘‘ ،سلطان کا وہ ہاتھ جس میں چاقو تھابلند ہوااور نہایت زور کے ساتھ پرندے پر اترا ،پرندہ جان کے خوف سے پھڑپھڑیا،اس کشمکش میںگرفت ڈھیلی پڑ گئی،اور پرندہ ہاتھ سے چھوٹ کر اڑ گیا،اور چاقو سلطان کے ہاتھ پر لگا اور خون بہنے لگا،سلطان نے حکم دیا کہ کاغذ اٹھا کر دیا جائے،کاغذ پر لکھا تھا’’تم پرندے کی جان نہیں لے سکتے،یہ مخلوق بھی تمھاری طرح آزاد ہے۔اس کے چوٹ نہیں آئے گی البتہ تم نقصان اٹھائو گے‘‘سلطان سراپا حیرت بن گیا،ابھی اس کی حیرت ختم نہ ہوئی تھی کہ فقیر اٹھ کر چلنے لگا،سلطان بھی ساتھ ہی اٹھا اور منت سے کہنے لگا کچھ قسمت کا حال بھی بتا دیں،فقیر پلٹا اور یہ کہہ کر باہر نکل گیا کہ ’’سلطان کی قسمت؟وہ تو اس قالین پر نقش ہے‘‘ جھاڑی، شیر اور گھات میں شکاری ،یہ علامتیں آج بھی ہیں،ٹیپو سلطان کی مملکت کے ساتھ جو ہوا وہ تو تاریخ کا حصہ ہے ،لیکن یہ تسلسل آج بھی دیکھا جا سکتا ہے ،یہ اس شیر کا ذکر نہیں جو جی ٹی روڈ کے ذریعے روانہ ہوااور اب لندن میں گرجے گا،شہید سلطان کی سلطنت خدا داد تھی اوریہ پاکستان ،مملکت خداداد ہے جس کی گھات میں بہت سے رہتے ہیں ،یہ جھاڑی ان خطرات کی علامت ہے جواس ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر لاحق ہیں،سیاست مضطرب ہے،کرپشن کا ناسور بڑھ رہا ہے مگر ’’سلیکٹو‘‘ احتساب نے اس کے جڑوں کو اور مظبوط کیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی موجود ہے کہ احتساب تو محض ایک بہانہ ہوتا ہے ،اس کے پس منظر میں دیگرایشوز ہوتے ہیں ، چونکہ ان کو منظر پر لانا ممکن نہیں ہوتا ،اس لئے کرپشن کا آسان الزام لگا دیا جاتا ہے، اس میں کسی کو رگیدنا آسان جو ہوتا ہے ،جن الزامات میںمقدمے بنتے ہیں وہ تو احتساب کرنے والوں پر بھی بدرجہ اتم موجود ہیں،وہ جو آصف علی زرداری کا 19سال سے احتساب کر رہے تھے بتائیں نا ، کہ الزام کیوں ثابت نہ ہو سکے ،ورنہ پھر کہا تو جائے گا کہ بات کچھ تھی بنا کچھ دی گئی،کیا پانامہ کے بعد بھی یہی کچھ ہونے والا ہے؟پس منظر اور پیش منظر کو ایک کرنا پڑے گا تب ہی اصل احتساب ہو سکے گا ،جو اصل ایشوز ہیں ان کو سامنے لا کر بات کی جائے،ان ایشوز کو طے کیا جائے،اور بدعنوانی کو بلا خوف اور بلا امتیاز بنائے ختم کئے بغیرکام نہیں چلنے والا ہے،معاشی معاملات میں شفافیت کی ضرورت ہے۔زرا سی بارش، ہوا کی تیزی لیپا پوتی کو واضح کر دیتی ہے،ہسپتالوں کا حال دیکھیں ،رونا آتا ہے ،ملک کی ایک وسیع آبادی کو سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے،ان تمام معاملات پر کام کو تیز کرنے کی ضرورت ہے،سلطنت خدا داد میں انصاف تھا حکمران بیدار مغز اور غیرت مند تھا اس کے باوجود نشان مٹ گیا اور یادیں باقی رہ گئیں،ناآسودہ عوام اور غفلت ذدہ حکمران خود مملکت کے لئے ضرر رساں ہوتے ہیں۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...