قوم کو سوچنا ہوگا

05 ستمبر 2017

جولائی کے آخر میں وزیراعظم میاں نواز شریف کو بوجوہ سپریم کورٹ کے نا اہل قرار دینے پر مستعفی ہونا پڑا۔ کچھ نا دیدہ طاقتیں اور کچھ سیاسی پارٹیاں ابھی خوشیاں ہی منارہی تھیں۔ کہ حکومتی پارٹی نے مثالی تنظیم اور اتحاد کا کمال مظاہرہ کرتے ہوئے وقت ضائع کئے بغیر پارٹی کے اندر سے ہی نیا وزیراعظم منتخب کرلیا۔ اور فورا ہی نئی کا بینہ کا چناﺅ بھی ہوگیا جو اصحاب اس بحرانی کیفیت میں قومی حکومت بننے کا خواب دیکھ رہے تھے ان کی مراد پوری نہ ہوسکی۔ خوشی اور بہتری کی بات یہ ہے کہ اس طرح سے حکومتی پارٹی اور پارلیمنٹ کو اپنی طبعی مدت پوری کرنے کا موقع مل گیا۔ جمہوری سسٹم جاری ہی ہوگا۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی اور بحران نہ پید انہ ہواتو آنے والے انتخابات کا انعقاداپنے وقت پر ہوگیا۔ تمام سیاسی پارٹیاں اس انتخاب میں حصہ لے سکیں گی۔ جتنے والی سیاسی پارٹی اپنی حکومت بناسکے گی۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کا اس عمل سے گزر کر نئی حکومت بنانے پر اسے خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔ اس عمل کے مکمل ہونے پر کسی کوبھی کوئی احتراز نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہی آئنیی راستہ ہے کسی کو بھی اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی مداخلت۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں صرف2008ءمیں الیکشن جتنے والی پارٹی ہی اپنی آئنیی مدت پورا کرسکی اسمبلی میں حزب مخالف نے بڑی برداشت کا مظاہرہ کرنے اور مخالفین کی طعنہ زنی کے باوجودحکومتی پارٹی اورپارلیمنٹ کو آئنیی مدت پورا کروانے میں اپنا تاریخی کردار کیااور حصہ ڈالا۔تاریخی حوالہ سے دیکھا جائے۔ کہ اگر وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو آئنیی مدت پورا کرنے دی جاتی تو پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ پہلے ایسے نہیں ہوسکا تو اب گزشتہ حکومت کی آئینی مدت (2008-2013)ء کے مکمل ہونے کی روایت کوآگے بڑھاناچاہئے۔اور اس تسلسل کو برقرار رکھاجانا چاہئے آنے والی تمام سیاسی حکومتوں کی آئنیی مدت کو پورا ہونے دیا جائے۔ اسی میں ہماری بقا ہے اور مستقبل میں ہماری معاشی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ اس تسلسل کی وجہ سے سیاسی حکومتوں کے ساتھ ساتھ تمام ادارے بھی مضبوط اور با اختیار ہوتے جائیں گے ہر محب وطن سیاسی پارٹی کو اس کا ادراک اور احترام ہونا چاہیے۔ عوام کو بھی اس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے کہ کیونکہ ہماری اجتماعی زندگی کی سماجی معاشی اور سیاسی ترقی کا راز اس میں ہی پوشیدہ ہے۔
دورنہ جائیں ہمارے ہمسایہ ملکوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان ملکوں کی ترقی کاراز تسلسل سے آئینی حکومتوں کاآئینی مدت کے مکمل ہونے میں ہے۔ احترام سب اس روایت احترام کرتے ہیں ہندوستان کی تیز اور مسلسل ترقی کاراز اس میں مضمر ہے وہاں پر حکومتیں کے مطابق تبدیل ہوتی آرہی ہیں۔ تمام ادارے مضبوط اور بااختیار ہیں۔ کوئی ادارہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نہیں نکل سکتا نہ ہی سیاسی حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرسکتا ہے۔ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان کے تمام سیاست دان ایماندار نہیںہیں۔ پھر بھی سول حکومتیںمظبوط ہیں۔ اسکی ثمر ہے کہ آج ہندوستان کی معیشت مظبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت بڑی تیزی سے پسپا ہورہی ہے۔2006¾ تک41ٰفیصد ہندوستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ جبکہ 2015 ءمیں یہ تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ جو ا ب تک اور بھی کم ہوگئی ۔ یہ بھی خبر ہے۔ کہ چین میں اقتصادی ترقی کی شرح کم ہونے کے باعث سرمایہ کار ہندوستان کارخ کررہے ہیں۔ اندازہ لگایا جارہا ہے۔ کہ 2030ءتک ہندوستان عالمی منظر نامے پر اقتصادی طاقت بن کر نمودار ہوگا۔ہمارا دوسرا ہمسایہ ایران ہے۔ وہاں بھی ایک انتخاب کے بعد دوسرا انتخاب ہوتا آرہاہے حکومتی تبدیل پر امن طریقہ سے ہوتی آرہی ہے۔ ہر پالیمنٹ اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے۔ تسلسل سے ایسا ہوتا آرہا ہے اقتصادی پابندیوں اور ایران عراق جنگ کے باوجود ایران نے ترقی کی ہے۔آج کاایران گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہوچکا ہے۔99فیصد عوام پڑھی لکھی ہے۔ 90فیصد آبادی Piped Gasاستعمال کرتی ہے۔ اپنی سٹلائیٹ خلا میں بھجواچکا ہے۔ اس حساب سے ایران دنیا میں دسویں نمبر پر ہے۔ ایٹمی توانائی کا پر امن استعمال کرکے طبی سائنس میں بین الاقوامی طورپراپنا ایک امیتازرکھتا ہے۔90 کی دہائی میں جب غیر ملکی اسلحہ کی فراہمی رگ گئی تو ایران نے اپنے جنگی ہتھیار بنانا شروع کئے۔ آج اپنی ہر قسم کی ضرورت کا جنگی اسلحہ خود بنا رہا ہے۔یہاں پر ترکی کی مثال بھی دی جاسکتی ہے۔2000 ءکے بعد سے لگاتار طیب اردگان کی حکومت چلی آرہی ہے جو وقت پر انتخابات کے انعقاد کی وجہ سے مظبوط ہوئی ہے۔جس کی بنا پر معاشی ترقی کی رفتار9فیصد ہے۔ سول حکومت کی سیاسی اور عوامی طاقت کی بنا پر حال ہی میں فوجی بغاوت ناکام ہوئی ہے اور حکومت مطبوط ہوئی ہے۔ہمارا ملک اس وقت دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ اور معاشی حالات بھی اچھے نہیں۔ مزید مسائل سے ملک کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔ لہذا اگلے انتخابات تک اسی حکومت کو مضبوط بنانا ہوگا۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ملک کاایک طبقہ موجودہ حکومت کی جگہ اپنی پسند کی سیاسی پارٹیوں کو مسنداقتدار پر بیٹھا نا چاہتا ہے ۔ چاہے جمہوری عمل کو پامال ہی کیوں نہ کرنا پڑے جبکہ جمہوری راستہ انتخابات کا ہی ہے۔ انتخابات کوئی بھی سیاسی پارٹی جیت سکتی ہے۔ جلد بازی سے پچھلے دروازہ سے داخل ہو کر کسی سیاسی پارٹی یا فرد کا حکومت سنبھالنا نہ صرف غیر جمہوری ہے اور وقت کا ضیاع ہے۔ بلکہ ماضی میں چلے جانے کے مترادف ہے۔ اس طریقہ سے حاصل کی گئی حکومت کی بنیاد کمزور ہوگی۔ چند سال پہلے ایک آمرنے پچھلے دروازہ سے داخل ہوکر حکوت سنھبالی تھی۔ جوکہ کمزور بنیادوں پر استوار تھی۔ لہذا آخرکا راین آ راو کے ذریعہ سے مصالحت کرسیاست دانوں کو ساتھ ملانا پڑا جو قوم کے ساتھ مذاق تھا۔ لیکن اس قدم سے حکومت مزید کمزور ہوگئی ۔یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کہ یورپ اور امریکہ جیسے جمہوری ممالک میں سال ہا سال سے مقیم بہت سے پاکستانی جمہوری اقدار کیوں نہیں سکیھ پائے جوکہ قابل افسوس ہے۔ ان کو تو پاکستانی عوام کی رہنمائی کا سبب بنتا چاہےے تھا۔ لیکن بدقمستی سے ایسا نہیں ہے۔ ہم سب کو ادراک ہونا چاہئے۔ کہ جب تک سیاسی حکومت اور پارلیمنٹ اپنی آئنیی مدت پورا نہیں کرتی اور تسلسل سے ایسا نہیں ہوتا جمہوریت پھل پھول نہیں سکتی۔ ملک مضبوط نہیں ہوسکتا معاشی ترقی نہیں ہوسکتی موجودہ پر وازیراعظم کے آنے سے جو عارضی کمزوری واقع ہوئی ہے اس وجہ سے امریکہ نے بھی اپنا دباﺅ بڑھا دیا ہے۔ اودھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ مظبو ط حکومت کے سبب ہی ان دھمکیوں سے نپٹاجا سکتا ہے۔ اس وقت ہمیں انتشار نہیں بلکہ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو حالات کا تقاضا ہے ۔ایسا سماجی ادارہ ہونا چاہیے جوعوام کو مضبوط جمہوریت کے فوائد کے متعلق رہنمائی بہم پہنچا کے ۔تاکہ بار پار عوام زخم نہ کھائے۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
آمین۔