بے نظیر بھٹو قتل کے محرکات اور…

05 ستمبر 2017

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد میں نے اٹھارہ اکتوبر 2007 سے لیکر 27 دسمبر 2007ء تک کے قیام کو ایک کتاب کی صورت میں بک ہوم لاہور کے تعاون سے چھپوایا۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد قارئین کو بی بی شہید کی زندگی کے آخری چند ہفتوں کو جاننے اور پرکھنے کا موقع ملا۔ چونکہ میں آخری بہتر دن بھی بی بی کے ساتھ تھا اور آج میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ بی بی کی شہادت کے بعد 4 ہزار اور پانچ سو ساٹھ ایام گزر گئے۔ مگر بی بی کے خون نا حق کو انصاف نہ مل سکا۔ قارئین نوائے وقت کو یاد ہو گا کہ میں نے پچھلے پونے دس سالوں میں بی بی کی شہادت، اس کے پیچھے چھپی سازشوں اور نقاب کے پیچھے چھپے قاتلوں کی دھندلی دھندلی تصویریں بھی اپنے کالمز میں پیش کیں اور متعدد بار میرے پڑھنے والوں نے مجھ سے استفسار بھی کیا کہ اگر آپ بی بی کے قتل کے محرکات کو اتنا گہرائی سے جانتے ہو تو آپ سامنے کیوں نہیں آتے؟ مگر میرا استدلال یہ تھا کہ میں پاکستان کے ایک مؤقر روزنامہ کے ذریعے بی بی کی شہادت سے متعلقہ کیس اور ان اداروں کو بار بار یہ میسج دے رہا تھا کہ قتل کی اس سازش کی تہہ تک جانے کیلئے مجھے شریک تفتیش بنائیں۔ قارئین اس دوران کیونکہ میں زیادہ عرصہ صحت کی بناء پر اور حفاظتی نقطۂ نظر سے ملک سے باہر مقیم رہا لہٰذا ان وجوہات کی بناء پر میں زنجیر عدل نہ کھینچ سکا مگر پاکستان کی جوڈیشری کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ بی بی شہید کے قتل اور اس کے پیچھے چھپے محرکات اور قاتلوں کی نشاندہی کے لئے اعزازی گواہان تک رسائی اور رابطہ کرتے اور حیرت تو اس بات کی ہے کہ پاکستان میں دو گروپوں کی لڑائی پر 51-7 کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ یہ انتہائی قابل ضمانت دفعہ ہوتی ہے مگر پھر بھی دونوں طرف کے لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں چونکہ اس کیس میں دونوں پارٹیاں ملزمان تصور کی جاتی ہیں اس لئے وہ خود ان کے حمایتی اور وکلاء عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ یہ تو بات تھی ایک چھوٹے سے مقدمے کی مگر اتنی حیرت ہے کہ بی بی شہید جس کا دادا سر شاہ نواز بھٹو جو کہ متحدہ سندھ کے وزیراعظم تھے اور بی بی کے عظیم باپ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو 1973ء کے آئین کے بانی، شملہ معاہدہ کر کے بھارت سے 90 ہزار قیدی چھڑانے والے اور اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے خلاف سازش کی کاپیاں یو این او کے سیکرٹری جنرل کے منہ پر مارنے والا اور پاکستان جو آج دنیا کی ساتویں نیوکلیئر طاقت ہے اس کے موجد اور بانی اور چیئر مین اسلامی سربراہی کانفرنس اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے غریب اور محکوم طبقے کو شعور دینے والے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو، وہ دلیر بیٹی جس نے آمر وقت کو للکارا اور جیلوں کے دھکے کھائے۔ جو خود اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں اور ان مخدوش حالات میں بھی پاکستان کو فرانس سے ایٹمی ریکٹر لے کر دیا اور بے شمار مراعات پاکستان کے غریبوں کو ظالمانہ نظام سے چھین کر دیں۔ محترمہ شہید جن دنوں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں میں ان کے ساتھ موجود ہوتا تھا۔ ان دنوں شہید بی بی ہر ماہ تین یا چار لیکچرز عالمی یونیورسٹیوں کے طلباء کو دیتیں اور پنتالیس منٹ کے ہر لیکچر کا معاوضہ پچاس ہزار ڈالرز سے کم نہ ہوتا تھا۔ ان کے بدترین دشمن بھی ان کے زمانہ اقتدار کے دوران ان پر کرپشن کے الزام نہ لگا سکے۔ مگر قارئین یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دونوں دفعہ ان کی بنائی ہوئی حکومتوں کو کرپشن کے شدید الزامات کے تحت گرایا گیا اور اس سے بھی کڑوا سچ یہ ہے کہ میرے دیرینہ دوست اور بی بی کے شوہر نامدار آصف علی زرداری کی ذات ان برطرفیوں کا سبب بنی۔

دراصل محترم آصف علی زرداری کو احساس کمتری کے سبب یہ یقین ہو چلا تھا کہ سائوتھ ایشیاء کے ممالک جیسے پاکستان میں حصول اقتدار دولت کے بغیر ممکن نہیں۔ بی بی شہید نے مجھے سوئٹزر لینڈ میں اپنے کیسز بشمول ایس جی ایس اور کوٹیکنا اور دیگر کیسز کا نگران مقرر کیا ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ فاروق نائیک، کے کے آغا، مخدوم شہاب الدین اور خود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جب سوئٹزرلینڈ کیسز کی پیروی کے لئے آتے تو شرف میزبانی مجھے بخشا جاتا۔ بلکہ بی بی کے جنیوا میں کیسز کے سلسلے میں ان کے مقامی سوئس وکلاء اور برٹش وکلاء سے تمام معاملات میرے ہی ذریعے طے پاتے تھے۔ قارئین آپ کو یاد ہوگا آپ نے ٹی وی سکرین پر صاحب، طاقت کے نشے میں آپے سے باہر ہونے کو بے قرار نظر آتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے خوب جانتے ہیں کہ رحمان ملک، راجہ پرویز اشرف خود آصف علی زرداری اور بے شمار سندھی دوست بی بی کی حیاتی میں پیپلز پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگیکٹرو کونسل کے ممبران نہیں بنائے گئے تھے۔ مگر 2007ء کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی ان اور آئوٹ لک بالکل تبدیل کر دی گئی۔ 2008ء کے بعد پیپلز پارٹی کی جزوی کامیابی صرف سانحہ لیاقت باغ کی مرہون منت تھی۔ مگر اس کے بعد کسی ضمنی الیکشن یا الیکشن 2013ء میں کم از کم پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے پیپلز پارٹی کا کامیاب نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آصف علی زرداری صرف چند کرپٹ بیورو کریٹس جرنیلوں اور کرپٹ سیاستدان وزراء کو بھتہ دے کر اقتدار کے پانچ سال پورے کر سکے اور آج بھی پیپلز پارٹی کے چند ذہنی غلام اور مراعات یافتہ طبقہ اسے آصف زرداری کی سیاسی حکمت جانتے ہیں جبکہ آج حالت یوں ہے کہ لاہور کی چار سو سے زائد یو سی نشستوں پر ایک بابر بٹ شہید کا بھائی چیئر مین منتخب ہوا ہے۔ راجہ ریاض، ذکریا بٹ، اخلاق گڈو، پیر ناظم شاہ، فردوس عاشق اعوان، صفدر وڑائچ، صمصام بخاری، بابر اعوان، نذر گوندل کے علاوہ درجنوں قومی اور درجنوں صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ہولڈرز پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں اراکین پیپلز پارٹی الیکشن کی نوبت کا بجنے کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی میں رہ جانے والا طبقہ وہ ہے جسے کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت لینے کو تیار نہیں۔ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں آصف علی زرداری محترمہ فریال تالپور، بلاول بھٹو، بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو میں سے کوئی بھی محترمہ بے نظیر کے قتل کی سماعت پر ایک دن کے لئے بھی عدالت میں حاضر نہ ہوئے جبکہ محترمہ کی شہادت کے بعد جب آصفہ کو پتہ چلا کہ اسکے ٹیلی فون کرنے پر جب اس کی ماں گاڑی کی چھت (روف) سے باہر نکلی تو قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئیں۔ کیا آصفہ کو نہیں پتہ کہ اسے کس نے مجبور کیا تھا کہ وہ اپنی ماں کو کال کر کے کہے کہ گاڑی سے باہر سر نکال کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے۔ کیا انہی وجوہات کی بناء پر آصفہ بھٹو نے بعد ازاں اپنی کلائی کی رگیں کاٹ کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی؟ قارئین! گزشتہ روز بی بی شہید کے قتل کا فیصلہ دہشت گردی کی مقامی عدالت نے پونے دس سال بعد سنایا یہ فیصلہ کیا تھا۔ دراصل یہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والے این آر او کا فائنل میچ تھا۔ اس سے پہلے چند روز قبل زرداری صاحب کو خورشید شاہ اور نواز شریف کے لگائے ہوئے چیئر مین احتساب کمیشن قمر الزماں نے با عزت بری کر دیا۔ قمر الزماں مرحوم جنرل ضیاء الحق کے اے ڈی سی تھے اور دوران ملازمت منشیات سمیت دیگر غیر قانونی حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے ان کی یہ کریڈیبلٹی تھی کہ وہ سبکدوش ہونے سے پہلے اپنی کرامات دکھا گئے اور جب تک فری اینڈ فیئر ٹرائیل نہیں ہوگا آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے ملزمان قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں گے۔ اگر بے نظیر بھٹو کے ورثا انصاف کے متلاشی ہیں تو انہیں انویسٹی گیشن اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگی اور اس کیس سے متعلقہ سبھی گواہان کو طلب کرنا ہوگا۔ قارئین آج یہ خبر مقتدر حلقوں میں گردش کر رہی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں یہ محض حسن اتفاق ہے کہ لیبیا، شام اور عراق کی تباہی کے وقت برطانیہ، انڈیا، فرانس، امریکہ، کینیڈا اور جرمنی کے جو سفیر اس وقت اسلام آباد تعینات ہیں یہی خانہ جنگی کے دوران عراق، شام اور لیبیا میں تعینات تھے۔ دراصل صہیونی سامراجی اور ہندو بنیے کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں اور نظریاتی اساس کو گھیرنے کا منصوبہ نہ صرف بنا لیا ہے بلکہ یہ پلان خدانخواستہ عملدرآمد ہونے کے لئے تیار ہے مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور فوج ایسی سازشوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب قوم افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی نہ ہوگی ہم محض نیوکلیئر پاور ہونے کی بنا پر اپنے ارد گرد منڈلانے والے خطرات سے نہیں نمٹ سکتے اور موجودہ حالات کے تناظر میں شکست کے زخم چاٹتے ہوئے میاں نواز شریف اور ان کے ساتھ کسی وقت بھی کوئی ایسی حرکت کر سکتے ہیں جس سے استحکام پاکستان خطروں سے دو چار ہو سکتا ہے اسی لئے ہمیں آنکھیں، کان اور دماغ کھلا رکھ کر دل کے دروازے پر فلٹر لگانا ہوگا۔