جنگ ِ ستمبر

05 ستمبر 2017

اچھی طرح یاد ہے سن 1965ء میں ، جب میں چار برس کا تھا اور مجھے صرف اور صرف اُس جنگ کی ایک بات اب تک یاد ہے اور وہ یہ کہ ہم آدھی رات کو اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے اور ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کی آواز سن کر ہم سب لوگ ہربرا کر اُٹھ پڑے میر ے والد صاحب دوڑتے ہوئے گلی میں گئے اور گلی میں بے شمار لوگ اکھٹے ہو چکے تھے جب میرے والد صاحب گلی سے ہوکر گھر میں داخل ہوئے تو انھوں نے بتایا کہ بھارت نے پا کستان پر حملہ کر دیا ہے اور اِس کے بعد جنگ ستمبر کے حوالے سے میں نے جو کچھ پڑا سنا اور لکھا وہ اپنی ہوش سنبھالنے کے بعد جب میں میٹر ک کا طالب علم تھا اُس دور میں ہمارے نصاب میں ہمارے قومی ہیرو ز کے بارے میں ہمیں پڑھایا جاتا تھا اُن بڑے بڑے ناموں میں محمد بن قاسم ، سلطا ن صلاح الدین ایوبی ، نور الدین زنگی ، حیدر علی ، سلطان فتح علی ٹیپو ،سر سید احمد خان ، علامہ اقبال ، قائد اعظم محمد علی جناح، کیپٹن سرور شہید ، میجر طفیل ، میجر عزیر بھٹی ، فلائٹ لیفٹینٹ یونس حسن شہید اور فلائٹ لیفٹینٹ غازی ایم ایم عالم یہ وہ لوگ تھے جو ہمارے قومی ہیروز تھے اور اِن کے بارے میں ہمارے نصاب میں بے شمار جرا ت اور بہادری کی داستانے لکھی گئیں تھیں جو کہ ہماری تاریخ کا ایک سنہری باب ہے اور خاص طور پر جنگ ستمبر کے حوالے سے بر گیڈئیر شامی شہید اور یونس حسن اور ایم ایم عالم اور فلائٹ لیفٹینٹ سرفراز رفیقی جیسے قومی ہیروز کے بارے میں پڑھ پڑھ کے ہمارے اندر بھی جذبہ شوق شہادت ، شجاعت اور بہادری کا ایک سیلِ رواں چل پڑتا تھا اور ہم اکثر اِ ن ہیروز کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے یہ محسوس کرتے تھے کہ ہم شاید اُس وقت ان ہیروز کے ساتھ وہ جنگ ِ لڑ رہے تھے اِ س سارے واقع کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کی جنگ نے جو کہ پاکستا ن کے بننے کے18سال بعد ہندوستا ن کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر لڑی گئیں اُس سے پہلے 1948ء میں ایک مختصر سی جنگ مسئلہ کشمیر پر پہلے بھی لڑی جاچکی تھی مگر جنگ ِ ستمبر وہ جنگ تھی جس جنگ میں پوری پاکستانی قوم کو پہلی دفعہ ایک پیج پر اکٹھا کر دیا اور آپ یقین مانئے کہ جب 3ستمبر 1965ء کو یہ اعلان کیا گیا کہ بھارت نے واہگہ کے بورڈر سے لاہور میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے اور اُس کے فوجی جر نیلوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم آج دوپہر کا کھانا لاہور جم خانہ میں کھائیں گے مگر تاریخ گواہ ہے کہ میرے لا ہور کے بہادروں نے بغیر سوچے سمجھیں کہ اُن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے صرف ڈنڈے اور لاٹھیاں اُٹھائیں اور میری سویلین آبادی لاہور کی دیوانہ وار واہگہ بارڈر کی طر ف بھاگنا شروع ہوگئی اور اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ جا کر کھڑے ہوگئے اور بڑی بہادری اور شجاعت کے ساتھ انھوں نے ہندوستا ن کی فوجیوں کے دانت کھٹے کر کے رکھ دئیے اور اُن کا خواب شر مندہ تعبیر نہ ہونے دیا کہ وہ لاہور کہ جم خانہ میں دوپہر کا کھانا کھائیں گے بھارت نے 1965ء میں چونڈہ کے میدان میں بھی عبرت ناک شکست کھائی جب ہمارے جوانوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد چونڈہ کے میدان میں اپنی چھاتیوں پر بم باندھ کر بھارت کے ٹینکوں کا مقابلہ کیا اور اُن کو تباہ و برباد کر دیاچونڈہ کہ میدان میں لڑی جانے والی ٹینکوں کی یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جنگ مانی جاتی ہے اِ س محاذ پر بھی بھارت کو منہ کی کھانا پڑی اور پھر میرے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جنگ ستمبر میں وہ کا ر ہائے نمایاں انجام دئیے کہ جن کی کوئی مثال نہیں ملتی اُن میں سب سے ہرا ول دستے میں فلائٹ لیفٹیننٹ ایم ایم عالم کا نام سر فہر ست ہے جنھوں نے پانچ منٹ میں ہوا سے ہوا میں اُڑتے ہوئے بھارت کے چھ جنگیں طیارے مار گرائے جو کہ آج تک ایک عالمی ریکارڈ ہے اِ سی طرح سے سرفراز رفیقی نے اپنی فضائی شجاعت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے جامع شہادت نوش کیا اور اِ ن میں سب سے بڑھ کر ایک نام فلائٹ لیفٹینٹ یونس حسن کا بھی ہے جنھوں نے پٹھان کوٹ کے ہندوستانی فوجی اڈے پر حملہ کیا اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے بھارت کے بے شمار جنگی طیارے جو اُس وقت پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے تیا ر کھڑے تھے اُن پر عذاب الہٰی بن کر برسے اِس دوران یونس حسن کے جہاز کو آگ لگ گئی اگر وہ چاہتے تو وہ پیرا شوٹ سے اپنے آپ کو بچا سکتے تھے مگر انھوں نے کمال بہادری سے اپنے جلتے ہوئے جہاز کو پٹھان کوٹ کے ائیر پورٹ پر کھڑے ہوئے بھارتی جنگی ہوائی جہازوں کے اوپر گرا کر جام شہادت نو ش کیا اِن تمام واقعات کو بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جنگ ستمبر نے ہمیں جنگ بدر کی وہ یاد تازہ کرا دی جب کہ چند مٹھی بھر مسلمانوں نے جذبہ اسلامی سے سر شار ہوکر آپنے سے کئی گناہ زیادہ طاقت ور کفار مکہ پر فتح حاصل کی تھی یہی جذبہ ایک دفعہ ہمیں جنگ ستمبر 1965ء میں نظر آیا نہ صرف ہماری تینوں افواج میں بلکہ ہماری پوری قوم میں ایک یک جہتی اور یقین ِمحکم کا احساس اور باطل طاقتوں سے ٹکرانے کا جوش و جذبہ اپنی انتہائوں پر نظر آیا اور یہ سب کچھ ہمارے قومی ہیروز کی وجہ سے ممکن ہوا کہ جن کے اندر جذبہ ایمانی جوش ِ مسلمانی اور اپنے اسلاف سے عشق اور جنون و رفتگی کا رشتہ قائم تھا کیونکہ اُس دور میں ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو اپنے اسلاف کے کار ہائے نمایاں کے بارے میں اُن کی نصابی کتب میں پڑھایا اور بتایا جاتا تھا اور اُن کے اندر وہ جوش و جذبہ پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی تھیں مگر اب مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں میں ہم لوگوں نے اپنے بچوں میں اپنے قومی ہیروز کے بارے میں لکھنا ، پڑھنا اور بتا نا چھوڑ دیا ہے جس کی بنا پر میری آج کے دور کی نسل کے جتنے بھی ہیروز ہیں اُن کا تعلق میرے اسلاف اور میری مسلم تاریخ سے دور دور تک کا نہیں ہے میرے آج کے بچوں کے ہیروز سپر مین ، بیٹ مین ، اور میرے دشمن ملک کے فلمی ہیروز رہ گئے ہیں جس کی وجہ ہمارے ملک میں غیر ملکی ثقافتی ِ یلگار کو روکا نہیں جا سکا جس کی بنا پر میر ے آج کے دور کے بچے نہ تو محمد بن قاسم بن سکتے ہیں اور نہ ہی صلاح الدین ایوبی ،نور الدین زنگی اور ٹیپوسلطان ،ہمیں چاہیے !اور ہمارے حکمرانوں کو چاہیے !کہ وہ ہمارے آج کے دور کے تعلیمی نصاب میں اِن تمام قومی ہیروز کو ایک دفعہ پھر جگہ دیں اور اُن کے بارے میں ہماری آنے والی نسلوں کو بتائیں کہ ہمارے اسلاف کس قدر بہادر اور باایمان تھے اگر ہم ایسا نہ کرسکے تو ہماری آنے والی نسلیں بیرا روی کا ہو کر رہ جائیں گی ۔