ہجیرہ کی قسمت کب بدلے گی؟

05 ستمبر 2017

ہجیرہ سے منتخب نمائندوں نے صرف سبزباغ دکھائے اور عوام کا کوئی مسئلہ حل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی‘ پندرہ پندرہ سال سے لوگ جن مسائل کا رونا روتے تھے وہ آج بھی اسی طرح ہیں۔ اس حلقہ دو ہجیرہ میں پندرہ سال نمائندگی سردار غلام صادق نے کی‘ دس سال وہ روتے رہے میں اقتدار میں نہیں ہوں اور کے بی خان میرے کام نہیں ہونے دیتا مگر موصوف اپنے ذاتی کام کراتے رہے اس کے بعد موصوف مشیر وزیراعظم بنے پھر سپیکر بنے اور پھر موصوف اپنے کام میں اتنے مصروف ہوئے عوام کو بھول گئے‘ اپنے عزیز و اقارب کو نوکریوں اور ٹھیکوں سے نوازا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ سردار غلام صادق بری طرح شکست سے دوچار ہوئے اور سردار خان بہادر خان کواپنا نمائندہ چنا ، اس کامیابی کے پیچھے غلام صادق کی مخالفت کا اظہار زیادہ تھا مگر اب حکمران جماعت کا بھی حال کچھ ایسا ہے وہ توسردار غلام صادق سے بھی چند قدم آگے جا رہی ہے۔ کوئی ذمہ دار نمائندہ ہجیرہ میں نہیں عوام کا سب سے ضروری مسئلہ علاج معالجہ کا ہے مگر ایک ہسپتال کی بلڈنگ کے علاوہ اور کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے‘ دواءکی پرچی لکھ دی جاتی ہے بازار سے لے لیں اگر کوئی ٹیسٹ کرنا ہے تو اس کی فیس بازار ریٹ کے مطابق لی جاتی ہے۔ زیادہ تر مریض راولاکوٹ راولپنڈی ریفر کر دئیے جاتے ہیں۔ ہجیرہ میں مریض کو ایمبولینس دستیاب نہیں ہوتی‘ سرکاری سکول جن کی اکثریت خستہ حال ہے‘ بلڈنگ کا دروازہ نہیں ہوتا‘ باتھ کا بندوبست نہیں ہوتا اور زیادہ تر سکول ملی بھگت کر کے ٹھیکے پر دئیے گئے ہیں اور اوپر سب اچھا کی رپورٹ جاتی ہے سیکرٹری تعلیم و ناظم تعلیم خفیہ طورپرچیک کریں تو پتہ چل جائے گا۔ برقیات والے بڑے بادشاہ ہیں‘ بل بغیر ریڈنگ کے دیتے ہیں اور تاریں پول سے اتر کر فضا میں جھول رہی ہیں۔ سرکاری اہلکار ڈیوٹی کم اور سیاست زیادہ کرتے ہیں۔ سڑکوں کی حالت زیادہ خراب ہے‘ سڑک کی نالی تک پراپر طریقہ سے نہیں بناتے۔ ناڑہ کھتیاڑہ سڑک کا ٹھیکیدار کام ادھورا چھوڑ کر چلا گیا۔ ٹرانسپورٹ والے اوورلوڈنگ سے باز نہیں آتے۔ کسی پبلک ٹرانسپورٹ کے پاس کرایہ نامہ نہیں ہوتاسیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی ایک دورہ کر لیں سارے حالات سامنے آ جائیں گے۔ (سردار یاسین زیب,آزاد کشمیر)