مردم شماری پر سیاست نہ کی جائے

05 ستمبر 2017

کسی بھی ریاست کے وسائل اس کی آبادی ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم کئے جاتے ہیں۔ جدید ریاستی تصور کا احیا بھی اسی صورت ممکن ہے کہ نظام چلانے والے ادارے عوام الناس کے عددی شمار سے لے کر ان کے بنیادی کوائف تک کی معلومات بخوبی رکھتے ہوں۔ مردم شماری کی روایت یوں تو قبل از مسیح ہی سے ملتی ہے لیکن اس کی ضرورت تب بڑھی جب جمہوریت کی بنیاد پڑی ۔یہ کہا جائے تو ہر گز غلط نہیں ہو گا کہ جمہوریت کی دلکشی مردم شماری ہی سے مشروط ہے۔ آج کی دنیا میں جب عام آدمی کی رائے اور سوچ کو اہمیت حاصل ہو رہی ہے تو تمام ممالک میں مردم شماری کو نہایت ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان وجود میں آیا تو بے سروسامانی کے عالم میںبھی مردم شماری کو بھی مسائل کی اولین فہرست میں رکھا گیا۔پہلی مردم شماری انیس سو اکیاون میں ہوئی جس کے بعد انیس سو اکسٹھ، بہتر، اکیاسی، اٹھانوے اور اب امسال مردم شماری کی گئی ہے۔یہ دلچسپ تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی مردم شماری کی گئی اسے کسی نہ کسی طرح سیاسی طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ہر مردم شماری کے حوالے سے کہا گیا اس میں خاص مقاصد حاصل کرنے کے لیے غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ بعض اوقات ان اعتراضات میں جان بھی تھی اور اکثر یہ الزامات وقت کی دھول تلے اپنی آواز کھو بیٹھے۔ حالیہ مردم شماری کے حوالے سے بھی ایسا ہی ہوا ہے، اعتراضات ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔یہ آوازیں اپوزیشن کی جانب سے تو آہی رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض حکومتی اتحادی بھی اس پر اعتراضات بلند کر رہے ہیں۔ ان اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ سندھ حکومت کی طرف سے اٹھائے جائے رہے ہیں جہاں ایک جانب پیپلز پارٹی ہے تو دوسری جانب ایم کیو ایم بھی سخت موقف اپنائے ہوئے ہے۔ متحدہ کے سربراہ فاروق ستار نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پہلے انہیں دیوار سے لگایا جا رہا تھا ،اب دیوار میں چنوادیا گیا ہے۔ اسی طرح سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کو جان بوجھ کر کم دکھایا گیاہے۔ کچھ ایسا ہی خیبر پختونخوا کی جانب سے بھی کہا جارہا ہے اور فاٹا کے کچھ ارکان نے بھی ان اعتراضات میں اپنی آواز شامل کر دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا جب اتنے اعتراضات سامنے آرہے ہوں تو مردم شماری کے تمام عمل ہی کو غیر شفاف سمجھ لیا جائے؟ اور کیا واقعی مرکزی حکومت نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب کی آبادی زیادہ ظاہر کردی ہے جبکہ دیگر صوبوں کی آبادی میں اتنا اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا جتنا زمینی حقائق کے مطابق ہے؟ان اہم ترین سوالات کو عقل اور تجربے کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ان میں کوئی جان دکھائی نہیں دیتی۔خاص طور پر اس اعتراض میں کہ مردم شماری کا عمل شفاف نہیں،واضح رہے کہ یہ تمام عمل فوج کی نگرانی میں ہوا ہے جس کی کوئی سیاسی ہمدردیاں نہیں۔اس عمل کو مشکوک بنانے کا مطلب یہی ہے کہ صوبوں کے درمیان خلیج بڑھائی جائے، ان حالات میں کہ جب ملک اندرونی اور بیرونی محاذ پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ایسی سیاست کے نتائج نہایت منفی نکل سکتے ہیں۔ جہاں تک ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کا معاملہ ہے تو وہاں کی آبادی ان تصوراتی بیان بازیوں سے کہیں کم نکلی ہے جو محض سیاسی مجلسوں یا تقریبات کا حصہ ہوتی تھیں۔ اگر کراچی کے معاملے کو دلیل کے زاویے سے دیکھا جائے توبڑی حد تک ہمیں مردم شماری شفاف نظر آئے گی۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت شہر قائد کی کل آبادی ایک کروڑانچاس لاکھ سے زائد ہے۔اس تناسب سے دیکھا جائے تو گزشتہ سترہ سال کے دوران کراچی کی آبادی ساٹھ فیصد تک بڑھی ہے۔ معترضین اسے منطقی حوالے سے غلط قرار دے رہے ہیں لیکن غور کیا جائے تو اس اعتراض میں بھی اتنا دم نہیں ہے۔ کراچی ملکی معیشت کی شہ رگ ضرور ہے لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کراچی کے جو حالات رہے ہیں وہ بھی کسی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور عدم تحفظ کی فضا میں یہاں سے بڑی تعداد میں نقل مکانی ہونے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے آباد کاروں کی تعداد میں بھی بہت کمی واقعی ہوئی ہے۔ ممکن ہے اس رائے کو بھی جانبداری کہہ دیا جائے لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جو تھوڑا ہی عرصہ پہلے ہی سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ اندازہ پیش کیا گیا ہے کہ کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہے، یعنی کوئی بہت بڑا فرق نہیں۔دوسال قبل شہر قائد کے حوالے سے ایک سٹڈی بھی ہوئی تھی، اس میں بھی اقوام متحدہ ہی کے اعدادو شمار سے ملتے جلتے نتائج سامنے آئے تھے۔ہمیں کراچی کی آبادی کا جائزہ لیتے ہوئے ان حالات کو کسی طور فراموش نہیں کرنا چاہیے جن کا سامنا اس شہر کو رہا ہے۔

جہاں تک لاہور کی آبادی پر اعتراض کا معاملہ ہے تو اس شہر کی آبادی کا تناسب دیکھنے سے پہلے یہاں کی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے بعد جس تیزی کے ساتھ ترقی ہوئی ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔خاص طور پر پنجاب میں صنعتیں آباد ہوئی ہیں اور لاہور جیسے شہر نے باقاعدہ ایک بڑے کاروباری مرکز کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں نقل مکانی ہوئی اور آبادی تیزی کے ساتھ بڑھی۔ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پنجاب کی ترقی نے یہاں کی آبادی میں اضافے کو تیزی کے ساتھ بڑھایا ہے جبکہ عالمی اداروں کے اعدادوشمار کے مطابق دیگر صوبوں میں نہ تو روز گار کے اتنے مواقع ہیں اور نہ ہی صنعتوں کو ایسا تحفظ حاصل ہے۔مردم شماری پر اٹھائے گئے دیگر اعتراضات میں بھی دم نہیں ہے،یہ اعتراضات بھی وقت کے ساتھ ساتھ یادداشت سے محو ہو جائیں گے۔ اگر ان اعتراضات میں جان ہوتی تو یہ عوامی نمائندوں سے آگے عوامی تائید بھی حاصل کرتے لیکن یہ تو محض پریس کانفرنسوں اور سیاسی مقاصد کے لیے ہونے والی شعبدہ بازیوں تک محدود ہیں۔ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس وقت ریاست کو بہت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،ان حالات میں ایسے نان ایشوز کا اٹھانا ہر گز وطن دوستی نہیں۔سیاست ہونی چاہیے لیکن وہاں جہاں ملکی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔
۔۔۔۔۔۔