کام کام اور صرف کام

05 ستمبر 2017

مکرمی! میاں برادران کے والد میاںمحمد شریف مشرقی اقدارکے دلدادہ محافظ اور پاسدار تھے انہوں نے اپنے بیٹوں اور اپنے خاندان کے لوگوں کو رزق حلال کی کمانا سکھایا وہ سینما چلانا شراب لوٹ مار اور دونمبری کام کے سخت مخالف تھے وہ کام کام اور صرف کام کے حامی تھے اس پرزندگی بھر عمل کیا اور اپنی محنت اور حق حلال کمائی سے اتفاق انڈسٹری کا آغا کیا جب اتفاق کے نام سے مختلف انڈسٹریز کا قیام عمل میں آیا تو عین اس زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو سیاست میں آئے جب الیکشن ہوئے تو مجیب الرحمان کے ووٹ زیادہ تھے حق تو بنتا تھا کہ جب بھٹو مجیب کے حق میں دستبر دار ہوجاتے لیکن انہوں نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے سوشلزم کا اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ بلند کیا خیر نتیجہ یہ نکلا کہ سرحد میں عبدالغفور ہوتی کی جائیداد اور دکانیں تقسیم کی گئیںاور لاہور میں میاںمحمد شریف نے جو انڈسٹریز قائم کی اس کو بھٹو صاحب نے نیشنلائز کیا جب سمجھ گئی تواس انڈسٹری کو ڈی نیشنلائز کیا اس عمل سے میاں محمد شریف کی انڈسٹری تباہ ہو کر رہ گئی یہ 1971ءکی بات ہے بعد میں 1999ءجب پرویز مشرف نے آئین او قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط الٹ دی میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کے خلاف جہاز کا جھوٹا اور جعلی مقدمہ دائر کر کے پہلے ان کو جیل میں ڈالا پھر ان کو ہتھکڑیاں لگا کر بیرون ملک بھیج دیا پرویز مشرف نے سال دس ماہ چھ دن تک بلاشرکت غیرے حکومت کی اور ان کی ساری انڈسٹری کو دوبارہ تباہ کیا گیا۔ میاں نوازشریف اور بھائیوں نے سوچا کہ انڈسٹری کو کیسے بچایا جائے تو وہ جائیداد باہر لے گئے۔(میاں محمد اکرم اٹک شہر)