یہ زندگی اُسی کی ہے جو کسی کا ہو گیا…

05 ستمبر 2017
یہ زندگی اُسی کی ہے جو کسی کا ہو گیا…

بہت سی خبروں اور بہت سی قربانیوں کے جلو میں یہ عید بھی گزر گئی۔ میں سوچ رہی تھی کہ ہم کتنی بدعت زدہ قوم ہیں۔ ہم نے اسلام اور شریعت میں کتنی بدعتوں کو دعوت دی ہے۔ اسلام پھر بھی اپنی جگہ مستحکم ہے لیکن مسلمان بدل گئے ہیں۔ ہر مسلمان نے اپنا طریقہ وضع کر لیا ہے۔ اپنی سوچ‘ اپنی سہولت اور اپنی سادگی کی وضاحت یا پرچار کے لئے اسلام کوڈھال بنا لیا ہے۔ اسلامی ارکان کو اپنی جاہ و حشمت اور شان آن بان کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ عید قرباں کی فلاسفی سے ہر سچا مسلمان آگاہ ہے لیکن اس بار تو نمود و نمائش کے سلسلے زیادہ ہی دراز ہو گئے۔ حیرت ہے چھوٹے دور افتادہ‘ پسماندہ علاقوں سے انتہائی جاہل بیوپاری اپنے اپنے جانور لے کر بڑے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ جانور جو سارا سال یہ گھاس پھوس پر پالتے ہیں۔ کچھ بہتر غذا بھی کھلا دیتے ہیں لیکن شہر آ کر لمبی لمبی چھوڑتے ہیں کہ جی ہم انہیں روزانہ ایک کلو بادام‘ پانچ کلو دودھ‘ ایک کلو دیسی گھی وغیرہ کھلاتے ہیں تو اس حساب سے ان کی روزانہ خوراک تین ساڑھے تین ہزار بنتی ہے اور سالانہ کے حساب سے اس کی خوراک لاکھوں میں بنتی ہے لیکن وہ ایسا بکرا ایک ڈیڑھ لاکھ اور گائے سات آٹھ لاکھ میں بیچ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بکرے یا گائے کو صرف ان کا دیسی چارہ ہی کھلایا جائے تو وہ قدرتی طور پر تندرست و توانا ہوتا ہے جس طرح گاؤں کے بچے زیادہ صحت مند اور طاقتور ہوتے ہیں بہ نسبت شہری بچوں کے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں کی فضا کھلی ہوتی ہے اور غذا بالکل خالص ہوتی ہے۔ شہروں میں مہنگے ترین برگر‘ پیزا‘ شوارمے‘ پاستہ حلوہ پوری‘ نہاری‘ حلیم‘ روسٹڈ چکن کھا کر بھی بچوں کے چہرے پیلے پھٹک پڑے رہتے ہیں۔ ڈبوں کا قیمتی دودھ پی کر بھی بچے بیمار‘ مہنگا ترین منرل واٹر پی کر بھی بچوں کے معدے خراب رہتے ہیں کیونکہ لاہور میں شاید کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں خالص دودھ ملتا ہو۔ ڈبوں کے دودھ میں پاؤڈر اور طرح طرح کے کیمیائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جبکہ فریش ملک جو گوالوں سے کھلے دودھ کی شکل میں ملتا ہے۔ اس میں گندے پانی کے علاوہ کئی طرح کی آلائشیں شامل ہوتی ہیں۔ لاہور میں فروخت ہونے والا دودھ دو سو فیصد مضر صحت ہے۔ منرل واٹر کے نام پر بوتلوں میں عام گندا پانی بک رہا ہے اور نلکوں میں آنے والا پانی کسی بھی طرح قابل اعتبار نہیں۔ پوش سوسائٹیوں میں کسی حد تک پانی بہتر ہے لیکن پورے لاہور کے نلکوں میں آلودہ پانی ہے۔ لوگ صرف پانی کے لئے اس طرح ذلیل ہوتے ہیں جیسے آدمی جرم پکڑے جانے کے بعد ذلیل ہوتا ہے۔ لوگوں کا روزانہ ایک گھنٹہ پانی لانے میں ضائع ہوتا ہے۔ ہر آدمی گاڑی موٹرسائیکل رکشہ میں پانی کی بوتلیں خرید کر لا رہا ہوتا ہے لیکن ن لیگ کی حکومت 35 سال برسراقتدار رہنے کے بعد بھی صرف لاہور کو صاف پانی مہیا نہیں کر سکی جس لاہور کے سر پر وہ اقتدار کی پینگیں لیتے آ رہے ہیں۔ صرف پانی کی وجہ سے صحت مند اور خوش مزاج‘ سرخ سفید لاہوریوں کی شکلیں بدل گی ہیں۔ گندے پانی‘ آلودگی‘ تپش‘ حبس اور مضر صحت غذا کی وجہ سے لاہوریوں کے رنگ روپ بگڑ گئے ہیں اور جس خوش مزاجی‘ زندہ دلی کے لئے لاہوری پوری دنیا میں شہرت رکھتے تھے۔ اب بہت زیادہ چڑچڑے‘ بدمزاج‘ جھگڑالو اور بدلحاظ ہو گئے ہیں۔ لاہور کو گندے پانی‘ ناخالص غذا اور آلودگی نے غصیلا بنا دیا ہے لیکن وزیراعلیٰ کو میٹرو‘ اورنج ٹرین‘ پل پلیاں اور سولر یا لیپ ٹاپ کا شوق سوار رہتا ہے۔ پہلے آپ انہیں صحت کے مسائل سے تو نکالیں۔ ایک طرف دھڑا دھڑ ہسپتالوں کو اپ گریڈ اور ڈاکٹروں کی بھرتیاں ترقیاں کی جا رہی ہیں دوسری طرف پورے لاہور میں انجکشن زدہ زہریلی مرغیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔ پوری نسل کو بانجھ بنایا جا رہا ہے۔ نئی نسل کے لڑکے لڑکیوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ یہ ایک ایسا خوفناک مسئلہ ہے کہ اس پر قابو نہ پایا گیا اور آئندہ پندرہ بیس سال یہی مرغیاں کھلائی جاتی رہیں تو اگلی جنریشن ماں باپ بننے کی صلاحیت سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ لاہور کی ترقی اور خوشحالی بھی مصیبت بن چکی ہے۔ مختلف اضلاع‘ تحصیل‘ دیہاتوں سے لوگ منہ اٹھا کر لاہور آ جاتے ہیں۔ اکثریت کندہ ناتراش ہوتی ہے۔ خاص طور پر مزدور طبقہ‘ گھروں میں کام کرنے والیاں‘ لوئر مڈل کلاس طبقہ آ جاتا ہے۔ ہر سال لاہور میں ایسے جاہل‘ ناخواندہ‘ بدتہذیب لوگوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے لاہور کا حسن‘ تہذیب‘ ماحول‘ فضا اور حرارت میں فرق آ رہا ہے۔ اس چیز کو شدت سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر عیدالاضحی پر ہزاروں کی تعداد میں یہ جاہل بیوپاری آ کر لاہوریوں کو چونا لگا جاتے ہیں۔ ان کے پاس لاتعداد ہتھکنڈے ہوتے ہیں مثلاً نحیف و نزار بکرا دنبہ گائے اور اونٹ بھیڑ راتوں رات ایک انجکشن یا مشروب سے ہٹا کٹا ہو جاتا ہے۔ خریدنے والے کو دو تین دن بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہاتھ ہوا ہے۔ جب انجکشن کا اثر ختم ہوتا ہے تو وہ ایک مریل اور بیمار جانور نکل آتا ہے۔ اسی طرح ٹوٹے ہوئے دانت یا سینگ جوڑ دیئے جاتے ہیں۔ وہ بکرا جس پر انہوں نے دو ہزار روپے بھی خرچ نہیں کئے ہوتے۔ اسے پچاس ہزار یا لاکھ میں بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر ایک بیوپاری تین سو بکرے بھیڑیں لایا ہے اور اس نے اوسطاً چالیس ہزار فی جانور فروخت کیا تو اندازہ لگایئے کہ ایک جاہل گنوار آدمی صرف ایک ہفتے میں ایک کروڑ بیس ہزار جیب میں ڈال کر چلا جاتا ہے۔ اس حوالے سے لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد میں سب سے زیادہ اور سب سے مہنگے جانور بکتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ جاہل لوگ چھ سات ہزار کا بکرا پچاس ساٹھ ہزار کا بیچ کر لوگوں کو اُلّو بناتے ہیں یعنی عید قربان پر جھوٹ‘ ریاکاری اور مکاری کرتے ہیں تو دوسری طرف اشرافیہ کا یہ حال ہے کہ جس کی چار کنال یا دو کنال کی کوٹھی ہے‘ وہ چھ بکرے‘ تین گائیں اور ایک اونٹ ایک ہفتے پہلے خرید لیتا ہے۔ ایک ہفتہ اپنے پچاس لاکھ کے جانوروں کی خوب نمائش لگاتا ہے۔ اسی طرح ایک کنال یا دس مرلے کے گھروں میں رہنے والے بھی کم و بیش دو بکرے ایک گائے آٹھ دس دن پہلے خرید کر اچھی طرح نمود و نمائش کرتے ہیں۔ اب کوئی یہ بتائے کہ اس نمائش اور غل غپاڑے کا کتنا ثواب ہے۔ اس کے بعد ڈیپ فریزر اور معدے گوشت سے اٹ جاتے ہیں پھر یہ لوگ کھا کھا کر بیمار پڑجاتے ہیں۔ اس بار قربانی کے جانور جس قدر مہنگے تھے۔ لاہور کے امراء نے اسی قدر زیادہ خریدے اور اپنی امارت کی دھاک بٹھانے کے لئے یہ چھچھورپن کی نئی نئی مثالیں ایجاد کر لیتے ہیں۔ اس میں ’’نمائش‘‘ کا عنصر حاوی رہتا ہے۔کوئی اللہ کا بندہ بتائے کہ اس سارے عمل میں ’’قربانی‘‘ کی اصل روح کہاں ہے۔ قربانی کا فلسفہ ضرور ہر سال عید قرباں پر ’’قربان‘‘ کیا جاتا ہے۔قربانی کا فلسفہ ضرور ہر سال عید قرباں پر ’’قربان‘‘ کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو اس عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے جن کی استطاعت ایک دیسی مرغا قربان کرنے کی بھی نہیں ہے یعنی مڈل کلاس‘ لوئر مڈل کلاس اور غریب غریاء کو ایک ہی گھر میں آٹھ دس قربانی کے جانور دیکھ کر جتنی اذیت ہوتی ہو گی اور اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہو گا۔ ان کی مایوسی‘ بے بسی اور غریبی کا احساس ثواب کے بجائے گناہ کو دعوت دیتا ہے۔ یہ لوگ جو عیدالاضحی پر قربانی کے نام پر اپنی نمود و نمائش کا اہتمام کرتے اور لوگوں میں احساس محرومی پیدا کرتے ہیں۔ کیا کبھی انہوں نے سوچا کہ آٹھ جانوروں کی جگہ دو جانوروں کی قربانی کر لیں اور باقی رقم غریبوں یا ضرورت مندوں کو دے دیں۔ ہر سال حج اور عمرے کرنے کے بجائے کسی غریب کی شادی کے لئے رقم دے دیں۔ حج ایک بار فرض ہے لیکن پاکستان میں حج اور عمروں کے شائقین کی تعداد لاکھوں میں پائی جاتی ہے۔ آپ ان کے باطن میں ان کے کرداروں رویوں میں جھانکیں… بلا کی منافقت ہے۔ ایسی نمائشی عبادت کا کیا فائدہ جو آپ کے کردار کی تطہیر نہ کر سکے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے مذہب کو بھی بزنس بنا لیا ہے۔ قربانی کا فلسفہ یہ تو نہیں کہ آپ اسے نمائش بنا دیں۔ یہ زندگی بار بار نہیں ملتی بلکہ یہ زندگی اسی کی ہوتی ہے جو کسی کا بن کر دکھاتا ہے خواہ وہ عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی! اس کے لئے قربانی سے گزرنا پڑتا ہے۔