محسن پاکستان پر رنگیلے ڈکٹیٹر کے بے بنیاد الزامات

05 ستمبر 2017

گزشتہ دنوں پرویز مشرف نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان پر جھوٹے، من گھڑت اور بے سروپا الزامات لگائے جس کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ’’کہ پرویز مشرف جھوٹا اور مکار شخص ہے جو امریکہ سے ڈالر لے کر بک گیا اور ملکی سالمیت کا سودا کیا اور ملک کا غدارہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے جو کچھ کہا وہ لغو، بے بنیاد اور جھوٹ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ مشرف نے مجھے گھر میں قید کروا دیا وہ مجھے امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا اس نے اس وقت کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی کو فون کیا کہ سی آئی اے کا طیارہ آیا ہوا ہے ڈاکٹر قدیر خان کو ان کے حوالے کردیا جائے اس بات کا اظہار ظفر اللہ جمالی نے خود بھی اپنے ایک گزشتہ انٹرویو میں کیا جس کا اعادہ انہوںنے ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے 31اگست 2017کو پھرکیا ہے‘‘ پاکستان نے جس دن ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی بنیاد رکھی اس دن سے اسلام دشمن اور پاکستان دشمن عناصر نے اس کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ شروع کردیا جو آج تک جاری ہے اور اس سلسلے میں ان عناصر نے چند غداران وطن کو خرید رکھا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں اور مذموم حرکتوں سے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم رکھنے کی کوششیں شروع کردیں لیکن وہ ناکام رہے اور پاکستان ، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شبانہ روز کوششوں سے ایٹمی قوت بن گیا جو اب بھی پاکستان کے دشمنوں کو بری طرح کھٹکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر کی ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو پرویز مشرف پیش پیش رہا اس نے ملک کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکا ، امریکہ کو اڈے دئیے، 3 بار آئین توڑا اورکئی پاکستانی امریکہ کے حوالے کئے جن کے بدلے ڈالر لئے اور قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کیا اور امریکہ سے ڈیل کرنے والا پرویز مشرف آج سچا بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن عوام اسے اچھی طرح جانتے ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ہرزہ سرائی پر اس کی اصلیت کو پہچانتے ہیں۔ پرویز مشرف ڈاکٹر صاحب کے خلاف کیوں بول رہا ہے اس کی وجہ آپ کے گوش گزار کرتا چلوں یہ اس وقت کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے ایماء پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کا پہلا بلاسٹک میزائل ’’غوری‘‘ تخلیق کیا جس کا تجربہ 6 اپریل 1998ء کو جہلم کے علاقے ’’ٹلہ جوگیاں‘‘ میں کیا جا رہا تھا اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم اور اعلی فوجی حکام موجود تھے پرویز مشرف اس وقت منگلا کا کور کمانڈر تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر اسے بلایا گیا میزائل کا تجربہ کرنے سے پہلے وہاں موجود ہر شخص اللہ تعالی سے میزائل کے کامیاب تجربہ کے لئے دعائیں مانگ رہا تھا کچھ لوگ اس حوالے سے نوافل پڑھ رہے تھے کچھ لوگ درود شریف اور قرآنی آیات کا ورد کر رہے تھے کہ اتنے میں پرویز مشرف آیا جو نشے میں تھا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس کی یہ حالت دیکھی تو اسے کہا کہ سب لوگ میزائل کے کامیاب تجربے کے لئے سر بسجود ہیں اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے ہیں تم کس حالت میں آئے ہو۔ جسے پرویز مشرف نے اپنی بے عزتی سمجھا اور وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ہوگیا۔ پرویز مشرف جو پہلے ہی ڈاکٹر صاحب کے خلاف تھا امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا اور اس سے لاکھوں کروڑوں ڈالروں کے عوض امریکہ سے سودے بازی کر لی یہی وجہ تھی کہ اس نے امریکہ کو افغانستان تک زمینی اور فضائی راستے اور اڈے دئیے اور یہ شخص امریکی آلہ کار کے طور پرکام کرتا رہا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کا سودا کیا مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے باعث عوام کی آنکھوں کا تارہ بن چکے تھے اور پھر فوج بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی تو پرویز مشرف عوام کے احتجاج اور محب وطن فوجی جرنیلوں کے خوف سے اپنے اس مذموم ارادے کو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا سکا اور ڈاکٹر صاحب کوان کے گھر میں قید کر دیا جس پر روزنامہ نوائے وقت کے معمار مجید نظامی مرحوم و مغفور نے ایک بھرپور اشتہاری مہم چلائی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی رہائی کے لئے آواز بلند کی جس نے پرویز مشرف کو انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے باز رکھا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے خلاف ہوچکے ہیں تو مشرف کو ایسے وقت میں انٹرویو دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ گمان غالب ہے کہ مشرف نے یہ انٹرویو اپنے آقا امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے ایما پر دیا۔ پرویز مشرف جو پہلے بھی امریکہ کے کہنے پر پاکستان کے جوہری پروگرام کو سبوتاز کرنا چاہتا تھا مگر عوام کے غیظ و غضب او ر افواج پاکستان کے خوف سے ایسا نہ کرسکا اور اب وہ نئے سرے سے گڑے مردے اکھاڑنے کے مترادف دوبارہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو متنازع بنانے کی کوشش کررہا ہے اس بار بھی اسے اس سلسلے میں منہ کی کھانی پڑے گی۔ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے تو پرویز مشرف کا مذکورہ انٹرویو تو تضادات کا مجموعہ ہے اس نے اس میں خود تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی راز دوسرے ملکوں تک پہنچانے کے لئے کوئی رقم وصول نہیں کی تو پھر کیا وہ ممالک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے رشتہ دار تھے جو ڈاکٹر صاحب ان ممالک سے اپنی رشتہ داری قائم رکھنے کیلئے یہ سب کچھ کر رہے تھے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پرویز مشرف کے انٹرویو کے پس پردہ کچھ اور قوتیں کار فرما ہیں پرویز مشرف نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو اگر کسی دوسرے ملک میں جانا ہوتا تھا تو وہ اجازت لے کر جاتے تھے اور ساتھ ہی یہ دروغ گوئی بھی کی کہ ڈاکٹر صاحب نے ایٹمی راز اور ایٹمی پرزے ایران کو دیئے ہیں۔ کیا وہ پرزے سوئی جیسی چھوٹی سی چیز تھے کہ جنہیں ڈاکٹر صاحب بآسانی ائیر پورٹ سے نکال کر لے جاتے تھے مشرف نے اپنے انٹرویومیں یہ بھی کہا کہ جب اس نے امریکہ کا دورہ کیا جس کے دور ان اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے مشرف سے کہا کہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ جان ڈی بینٹ John D Bennet سے آپ ملاقات کر کے جائیں جس نے پرویز مشرف سے ملاقات کے دوران اسے چند پیپر اور ایک فوٹو دکھایا اور بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جوہری راز ایران کو دے دئیے ہیں یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ پرویز مشرف نے کسی تصدیق کے بغیر اس کی بات مان لی اور ڈاکٹر صاحب کو ان کے گھر میں مقیدکر دیا۔ یہ ایک ناکام ڈرامے کا بے ترتیب سکرپٹ لگتا ہے اصل بات یہی تھی کہ لہو و لعب میں مست رنگین محفلیں سجانے والا پرویز مشرف پوری طرح ڈالرو ں کے عوض امریکہ کا آلہ کار بن چکا تھا۔
ہم اپنی باوقار عدلیہ اور بہادر افواج سے گزارش کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے پاکستان کو جوہری طاقت بنا کر پاکستانی قوم اور فوج کا مورال بلند کیا اس پر ایک رنگیلا ڈکٹیٹر بے بنیاد الزامات لگائے جو کسی بھی پاکستانی کو قابل قبول نہیں۔عدلیہ اور فوج کو چاہیے کہ پرویز مشرف کے انٹرویو کا بغور مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جو ناروا پابندیا ں عائد ہیں انہیں ختم کیا جائے۔