پگڑی کا سفر

05 ستمبر 2017
پگڑی کا سفر

مکرمی! افغانستان اور پاک و ہند برصغیر میں ’’پگڑی‘‘ صدیوں سے لباس کا حصہ ہے۔ چونکہ یہ سر کے اوپر باندھی جاتی ہے لہٰذا یہ لباس کی سردار ہے۔ پگڑی ایک پہچان اور عزت و وقار کی علامت بھی ہے جیسے پنجابی زبان میں کہا جاتا ہے ’’پگڑی سنبھال جٹا۔ تیری پگ نوں لگ گیا داغ اوئے‘‘۔ قبائلی سردار جب کسی اہم مسئلہ میں جرگہ میں بیٹھتے ہیں تو سب کے سر پر پگڑی ضرور ہوتی ہے۔ تاہم علاقائی اور جغرافیائی اعتبار سے پگڑیوں کی ساخت اور حجم میں فرق ضرور ہوتا ہے۔ پنجاب کے چوہدری نوکیلے کلّے پر طرہ دار پڑی پہنتے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے پٹھان گول کلّے پر قدرے چھوٹے طُرے والی پگڑی استعمال کرتے ہیں اور بلوچی بھائی بھاری پگڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان کی پگڑی کا لڑ کمر کی بجائے سامنے سینے کے اوپر گردن سے نیچے گھیرے کی صورت کانوں کے قریب پگڑی میں ٹھونسا ہوتا ہے۔ امیر طریقت ہو یا پیر شریعت سر پر دستار بندی کا اہتمام ضرور کرتا ہے۔ مریدان خاص کیلئے دستارِ پیر و مرشد، بعض اوقات اندھی تقلید کی کرشمہ سازیاں بھی دکھاتی ہے۔ مثلاً جب کوئی پیر کامل کسی مرید پر زیادہ ہی مہربان ہوتا ہے تو پھر پیر صاحب کی پگڑی تھال میں رکھی ہوئی سفر کرتی ہوئی اس مرید خاص کے گھر پہنچتی ہے تو وہ ’’پیر کی کہانی پگڑی کی زبانی‘‘ فوراً سمجھ جاتا ہے اور طوعاً کرہاً اپنی چودہ سالہ نو عمر بیٹی کو 80 سالہ پیر کے حرم میں داخل ہونے کی رضا مندی دے دیتا ہے۔پاکستان کے کالم نگاروں میں روزنامہ نوائے وقت کے معروف کالم نگار ڈاکٹر محمد اجمل نیازی بھی محض اپنی بے طرہ پگڑی کی وجہ سے اپنی خاص شناخت کے حامل ہیں۔ گا ہے بگا ہے اپنی پگڑی کا تذکرہ بھی کرتے ہیں ان کی دیگر بے شمار معصومانہ خواہشات میں الگ ننھی سی یہ خواہش بھی ہے کہ کاش! پگڑی کا کلچر عود کر آئے۔ آج کل ان کی نظر ایک زنانہ پگڑی پر پڑی ہے اور ان کی خوشی دیدنی ہے۔ پگڑی پر پورا کالم لکھ ڈالا جو روزنامہ وقت میں 23 اگست 2017ء کو شائع ہوا۔ عنوان باندھا ہے۔ ’’عائشہ گلا لئی کی پگڑی اور پگڑی‘‘ آگے عائشہ کی کہانی بیان کی ہے

۔(چوہدری اسد اللہ خان سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن واپڈا، عثمان سٹریٹ شاہ کمال روڈ، نیو شاہ کمال کالونی اچھرہ لاہور )

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...