تمام شہروں میں گفتگو کاچراغ ہم ہیں

بہار رخصت ہوچکی تھی،آم کے درختوں پر کوئل کی نغمہ سرائی کا موسم آنے والا تھا،پیرانہ سالی کے دکھوں کی ماری فصیلِ شہر خود کو نئے سرے سے موسم کی شدتوں کو سہنے کے لیے آمادہ کررہی تھی،بہاءالدین زکریا کے روضے کی جالیوں سے جھانکتی کرنوں سے سور ج بار بار آکرمنہ دھوتا تھا۔یہ شہراپنی نیلی کاشی کاری کے کام اوراہل حرفہ کے کمالات کے باعث وسطی ایشیا سے تہذیبی تعلق رکھتاہے۔یہیں نیلے شیشوں والا چشمہ لگائے اسلم انصاری سے ملاقات ہوئی۔انصاری صاحب کے اجداد ملتان کے قدیم باشندے تھے۔ جس مکان میں بچپن گزرا ،وہ گرد ونواح کے علاقے بیرون پاک گیٹ ملتان میں” پھولوں والی حویلی“ کے نام سے مشہور تھا۔خبر نہیں ریاست لوہارو کی اونچی ممٹیوں والی حویلیوں کی طرح اس حویلی کے صحن میں پھولوں سے لدے پودوں پر پنکھا جھلنے کا رواج تھا کہ نہیں البتہ گھرکے مکین گہری نیند کے جلو میں معطر خواب دیکھیں یا کتابوں کے لازوال خزانے سے اپنی باتوں کو خوشبو سے آراستہ کریں،ان کی نفاستیں ضرور مثال بنتی ہیں۔اسلم انصاری کی ایمرسن کالج ملتان ( اب ایمرسن یونیورسٹی)اور اورینٹل کالج لاہورجیسی تاریخی درس گاہوں سے وابستگی رہی۔اورینٹل کالج میں ایم اے اردو کے دورا ن میں ڈاکٹر سید عبداللہ اورسجاد باقررضوی جیسے اساتذہ نے انکی غیر معمولی ذہانت ،وسعت مطالعہ اور ادبی ذوق کو دیکھتے ہوئے انھیں اپنے خصوصی شاگرد کادرجہ دیا۔ڈاکٹرسیدعبداللہ تواسلم انصاری کے سوادِتحریر کے اس قدر دیوانے ہوئے کہ کچی پینسل سے لکھی ہوئی پیچ وخم والی اپنی تحریریں ان کے حوالے کرتے اوراسلم انھیں آراستہ ومزین کرکے استاذگرامی کواپنا گرویدہ بنالیتے۔انھی دنوں وولنر ہاسٹل میں قیام تھا،جہاں ان کی ناصرکاظمی سے ملاقاتیں بھی رہیں ،یہ رسم و راہ جلد دوستی میں بدل گئی،ناصر کاظمی کے مجموعہ کلام” پہلی بارش“ کا عنوان بھی اسلم انصاری کا تجویز کردہ ہے۔اس مجموعے کی مسلسل غزلیں بھی ناصر کاظمی نے نوجوان اسلم انصاری سے متاثرہوکرکہیں۔اورینٹل کالج لاہور سے ایم۔اے اردو کے امتحان میں اسلم انصاری نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ڈاکٹراسلم انصاری کی علمی وادبی شخصیت کی بہت سی جہتیں ہیں۔ انھوں نے شاعری (نظم،غزل، مثنوی، رباعیاتِ معریٰ وغیرہ) تنقید وتحقیق،ترجمہ نگاری اوراقبالیات کے شعبے میں تخصص حاصل کیا۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی شاعری کا آغاز طالب علمی کے زمانے سے ہوا، اورینٹل کالج میں دورانِ تعلیم وہ مختلف مشاعروں میں شرکت کرتے رہے،ان دنوں کی ایک خوش کن یاد شمع تاثیر مشاعرہ میں معروف مزاحیہ شاعر انور مسعود کے ساتھ اورینٹل کالج کی نمائندگی کرنا تھا۔ اس مقابلے میں انور مسعود نے نظم اور اسلم انصاری نے غزل کے مقابلے میں حصہ لیااور کامیاب رہے۔ ڈاکٹراسلم انصاری نے اردو،فارسی میں شاعری کی،جیلانی کامران مرحوم کے اشتراک سے خواجہ غلام فرید کی سرائیکی کافیوں کے انگریزی تراجم بھی کیے۔ میر، غالب اوراقبال شناسی کی روایت میں شاندار اضافہ کیا۔تنقید وتحقیق کے متنوع موضوعات میں مضامینِ نو کے انبارلگادئیے۔روایتی اندازکے افسانے بھی لکھے۔ جن دنوں وہ ملتان آرٹس کونسل میں ڈیپوٹیشن پر بطور ڈائریکٹر متعین تھے ،غلام عباس کی گائی ہوئی ا±ن کی ایک غزل بہت زیادہ مشہور ہوئی:
میں نے روکا بھی نہیں اوروہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیاتھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
وہ توصدیوں کا سفرکرکے یہاں پہنچا تھا
ت±ونے منہ پھیرکے جس شخص کودیکھا بھی نہیں
اک مسافرکہ جسے تیری طلب ہے کب سے
احتراماََ تیرے کوچے سے گزرتا بھی نہیں
 اسلم انصاری نے اقبال کی تفہیم کے لیے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم،یوسف حسین خان،پروفیسر آرتھر آربری،ڈاکٹر عبدالوہاب عزام،الیزاندر بوسانی اور ڈاکٹر این میری شمل جیسی شخصیات سے استفادہ کیا ہے۔اقبال کی مسلم الثبوت شاعری رجائیت کی حامل ہے۔اپنی تحریروں میں ڈاکٹر اسلم انصاری نے فکر اقبال کے متعدد مخفی گوشوں کی تلاش کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے طویل عرصے تک روزنامہ ”نوائے وقت“ملتان میں”تکلمات “ کے عنوان سے علمی ،ادبی اورتہذیبی کالم بھی لکھے۔ان کالموں کا اسلوب شان داراور عالمانہ ہے۔عام تر موضوعات کی اس انداز میں کی گئی مفصل تشریح ایک بالغ نظر انسان کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ایک معلم کی زندگی کے مختلف پہلوہمیشہ دوسروں کے لیے مشعل راہ ہونے چاہیں۔ڈاکٹر اسلم انصاری نے تعلیم وتعلم کے سلسلے کو عبادت کے طور پراپنایا،اورایک خاموش طبع اور ہردل عزیز استاد کامقام حاصل کیا۔ہمارے اساتذہ کی اکثریت پڑھتی ہے نہ لکھتی ہے بس پڑھاتی ہے۔ اسلم انصاری جیسا باکمال شاعر، صاحب ِعلم ودانش تعلیم دیتے ہوئے نصاب کواعلیٰ سطح پردیکھتاہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ خود اسلم انصاری کے ہاں اقبال کا اثر ونفوذ ایک مرشد کے انداز میں دکھائی دیتا ہے، ان کے اہم اساتذہ میں ڈاکٹر سید عبداللہ ،سجاد باقر رضوی ،تاج محمد خان اورملک بشیر الرحمن خان کے بعد جن استاد نے ان کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ سید علی عباس جلال پوری تھے۔طالب علم کلاس روم کے ماحول سے ایک خاص قسم کا لطف کشید کرتا ہے۔ایک مثالی طالب علم ہی بعدمیں قابل تقلید استاد کا درجہ اختیار کرسکتا ہے۔ انصاری صاحب کی بی۔اے کی کلاس میں پروفیسر علی عباس جلال پوری جب اپنی پوری فلسفیانہ تھیوری کے ساتھ آن کھڑے ہوئے توشاگرد اسلم انصاری اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا،یہاں تک کہ اردو زبان وادب کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی اس کا پسندیدہ مضمون ٹھہرا،فلسفے کا پس منظررکھنے والے استاد نے مرزااسداللہ خان غالب کی شاعری پہلی بار نفسیات اورفلسفہ کی اصطلاحات کی روشنی میں نہایت عمدہ انداز میں پڑھائی۔وہ اپنے عہد کی ذاتی اور اجتماعی صداقتوں کے ترجمان ہیں۔ان کے ہاں گہری عصری بصیرت دکھائی دیتی ہے۔مشرقی اقدار کے رسیا اور مذہبی افکار کے شیدا اسلم انصاری مسلم تہذیب و تمدن اور اسلامی آئیڈیالوجی سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔انھوں نے بڑی خاموشی سے شعر و سخن کی دنیا میں نیک نامی حاصل کی ہے۔ان کا تعلق ملتان سے ہے لیکن ان کے افکار و نظریات کے اثرات قومی سطح پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ملکی منظر نامے میں تاریخ و ثقافت کے حوالے سے جو مقام ملتان کو حاصل ہے ،اسلم انصاری کو اپنے ہم عصروں پر وہی فوقیت حاصل ہے۔آخرمیں انصاری صاحب کی ایک معروف نظم ”گوتم کاآخری وعظ“کا ایک اقتباس پیش ہے،اس میں غم والم کا فلسفہ بڑی عمدگی سے بیان کیاگیاہے:
جدائی توخیرآپ دکھ ہے ملاپ دکھ ہے
کہ ملنے والے جدائی کی رات میں ملے ہیں یہ رات دکھ ہے
شعور کیا ہے ،اک التزام وجود ہے اوروجود کاالتزام دیکھ ہے
سکوت دکھ ہے کہ اس کے کرب عظیم کوکون سہہ سکا ہے
کلام دکھ ہے کہ کون دنیامیں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے
یہ زندہ رہنے کا باقی رہنے کا شوق یہ اہتمام دکھ ہے
مرے عزیزو !تما م دکھ ہے
٭....٭....٭

ای پیپر دی نیشن