عید میلادالنبی اور یوم کشمیر

05 فروری 2012
برصغیر پاک و ہند میں یہ دونوں دن اکٹھے ہوئے ہیں یہ ایک خوشخبری آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں دینے والے کشمیریوں کیلئے ہے۔ میں اس منظر کو تصور میں لاتا ہوں تو ایک تڑپ اور ایک لگن میرے وجود میں وجد کرنے لگتی ہے۔ ملال اور جلال و جمال کے امتزاج سے کشمیری مسلمانوں کا مزاج ایک نئی تاریخ بلکہ ایک نئی تقدیر کا منتظر ہے اور مستحق بھی ہے۔ عشق رسول کے بغیر اسلامیان عالم کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ان دیکھی حقیقتوں پر ایمان لانے والے لوگ کسی تلخ حقیقت میں پھنس گئے ہیں۔
میں عشق رسول کا دعویٰ کرنے والوں کے جذبوں کی قدر کرتا ہوں۔ یہ بھی متاع ایمان ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ایمان ہی عشق رسول ہے۔ عشق رسول دنیا کی طاقتور ترین کیفیت ہے۔ ہم ایٹم بم کی خفاظت کرتے کرتے ذلیل و خوار ہو گئے ہیں مگر عشق رسول کی حفاظت نہیں کر پائے۔
اگر آپ مجھے معاف کریں تو اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک کا جو حال ہے کہوں مگر اس کی کس کس بدحالی کا ذکر کروں۔ ہم اتنے بھی نہیں کہ ہم بے حال ہو سکیں۔ مشرقی پاکستان بھی اسلام کے نام پر بنا تھا۔ میں تو پاکستان کو قریہ عشق محمد کہتا ہوں۔ مجھے دل والے لوگوں کی اس بات پر بھی پورا پورا یقین ہے کہ بنگلہ دیش بھی کسی خاص مقصد کیلئے بنا ہے مگر اس کیلئے جو ذلت اور رسوائی ہمیں اٹھانا پڑی ہے اس کا ازالہ کون کرے گا۔ وہ جو اس کیلئے قربان ہو گئے ان کے دل پہ جو گزر گئی ہو گی۔ اس کا بدلہ کون دے گا۔ مشرقی پاکستان غیر متنازعہ علاقہ تھا۔ مگر کشمیر تو ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اسے بھارت نے اپنا حصہ بنا لیا ہے اور غیر متنازعہ مشرقی پاکستان کو ایک الگ ملک بنگلہ دیش بنا دیا۔ ہمارے جرنیلوں‘ حکمرانوں‘ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ وہ الگ ملک ہو جاتا مگر اس کا نام مشرقی پاکستان رہتا۔ اس بے تدبیری کا ذمہ دار کون ہے۔ جسے ہم پاکستان کہتے ہیں۔ یہ مغربی پاکستان ہے تو اسے مغربی پاکستان کیوں نہیں رہنے دیا گیا۔ ہمیں یہ تو یاد رہتا کہ مشرقی پاکستان بھی تھا اور وہ ہمارا پاکستان تھا۔
آدھا پاکستان جسے ہم نے آدھا ادھورا پاکستان بنا دیا اور اب وہ ادھ موا پاکستان بن گیا ہے۔
مشرقی پاکستان میں بھارتی مکتی باہنی داخل نہ ہوتی تو کبھی بنگلہ دیش نہ بنتا اور کشمیر میں مجاہدین کی معرکہ آرائیوں پر اعتراض کیا جاتا ہے اور ہم نے مجاہدین کی ساری تنظیموں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ ایسے میں ہمیں کیا حق ہے کہ ہم عید میلادالنبی منائیں۔ روشنیاں کر لینا عمارتوں کو سجا لینا کوئی عمل ہے۔ یہ بھی عمل ہے مگر اس کیلئے جواز بھی ضروری ہے۔ خوشی منانے کا حق اسے ہے جو غم منانا بھی جانتا ہو۔
اس میں کیا راز ہے۔ کیا حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ یہ دن ایک دن میں جمع ہوئے ہیں۔ قربانی کی ایک کہانی ہے جس کا انجام کبھی منفی نہیں ہوتا۔
یہ بھی یقین ہے کہ عالم اسلام میں سب سے بہتر پاکستانی ہیں۔ عشق رسول کی لہر یہاں کے لوگوں کے دلوں میں طوفان برپا کرتی رہتی ہے۔ عام مسلمانوں کا دکھ صرف پاکستانی محسوس کرتے ہیں۔ فلسطین کے معاملے میں جو پاکستانیوں نے ہمیشہ محسوس کیا۔ وہ تو عرب مسلمانوں کے دلوں میں نظر ہی نہیں آتا۔ وہ بھارت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی اس زیادتی کو محسوس نہیں کرتے۔
اس خطے کی طرف میرے آقا و مولا رسول کریم حضرت محمد نے انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا تھا کہ مجھے یہاں سے ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔ یہ ٹھنڈی ہوا چلے گی جو آسودگی کاباعث ہو گی اور دشمنوں کیلئے طوفان بھی بنے گی جو انہیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔ ایک روایت غزوہ ہند کی بھی ہے۔ غزوہ وہ لڑائی ہے جس میں بنفس نفیس رسول کریم حضرت محمد خود شریک ہوئے ہیں۔ یہ علامتی بات تھی کہ ایک حدیث میں کہا گیا کہ جو دس بھوکوں کو کھانا کھلائے گا وہ میرے ساتھ عمرہ کرے گا۔ عمرے میں ان کا ساتھ ایک علامتی بات ہے۔ بہرحال غزوہ ہند کی اہمیت کیلئے یہ بات بہت اہم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فتح ان لوگوں کے حصے میں آئے گی جو حضور کی علامتی قیادت میں جہاد کریں گے۔ امریکی یورپی جہاد سے ڈرتے ہیں کہ یہ جنگ سے مختلف ہے۔ امریکہ نے جہاد کے خلاف تحریک چلائی اور عشق رسول کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی مگر اسے ہزیمت اور ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کسی سازش میں کامیاب نہیں ہو گا۔ غزوہ ہند ایک قابل غور بات ہے کہ ہند مسلمانوں کا بھی ہے۔ جب اقبال نے کہا تھا تو ان کا اشارہ اسی ہند کی طرف تھا .... ع
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
دنیا کی دوسری بڑی قوت (سپر پاور) امریکہ ہمارے ہی خطے میں تباہ ہو گی۔ سپر پاور کہنا مناسب نہیں۔ تو پھر (سپریم پاور) کون ہے۔ وہ اللہ کی قوت ہے اور آخری فیصلے آخری قوت کے ہوں گے۔ یوم کشمیر اور عید میلادالنبی ایک ہی دن میں آئے ہیں تو پھر کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اور بہت جلد ہونے والا ہے۔!!!

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...