ڈرون حملوں میں بے گناہوں کا قتل کر کے ہماری جانب حقارت سے چند کوڑیاں پھینکی جاتی ہیں: شہباز شریف

05 فروری 2012
ڈرون حملوں میں بے گناہوں کا قتل کر کے ہماری جانب حقارت سے چند کوڑیاں پھینکی جاتی ہیں: شہباز شریف
لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانا ہے تو قرآن پاک اور نبی اکرم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ الحمراءہال میں منعقدہ صوبائی سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہاکہ جب تک علماءباہمی اتحاد، نفرتیں کم کرنے اور فروعی مسائل ختم کرنے میں کردار ادا نہیں کریں گے ملک کو اسلامی فلاحی مملکت نہیں بنایا جا سکتا۔ مغرب نے میثاق مدینہ کا چربہ اپنا کر معاشرتی، معاشی اور سماجی انصاف دیا جبکہ ہم قرآن اور نبی اکرم کی تعلیمات کو بھول کر اغیار کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم جب تک دہشت گردی اور شدت پسندی کو قابو نہیں کریں گے، معاشرہ بہتری کی طرف نہیں جائے گا۔ انصاف کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا ہو گا، ہم دنیا کے سامنے مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ ”ڈومور“ کہا جاتا ہے ہم سر جھکا دیتے ہیں۔ ملک کی تعمیر کے لئے میثاق مدینہ کی ضرورت ہے۔ اغیار سے بھیک مانگنا نبی اکرم کی تعلیمات کی نفی ہے۔ قیام پاکستان کا مقصد انصاف کی فراہمی بھی تھا۔ غریب آدمی دوا نہ ملنے پر دم توڑ دیتا ہے اور مجھ سمیت ایک مخصوص طبقہ بیرون ملک علاج پر کروڑوں خرچ کر دیتا ہے۔ علماءاتفاق و اتحاد پیدا کرنے میں کردار ادا کریں۔ پاکستان جلد اسلامی فلاحی ریاست بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے، ڈرون حملوں میں بے گناہوں کو قتل کرکے ہماری جانب نفرت اور حقارت سے چند کوڑیاں پھینک دی جاتی ہیں اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کراتے ہیں اور ہمیں احکامات دئیے جاتے ہیں کہ یہ کرو ورنہ ڈرون حملے ہونگے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے ہمیں نبی اکرم کی حیات طیبہ سے رہنمائی حاصل کرنا ہو گی، باہمی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کے جذبات کو فروغ دینا ہو گا، ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب کو ماننے والوں کو دشمن کی طرف سے ہونے والی سازشوں سے خبردار رہتے ہوئے امت مسلمہ کی اجتماعی بہتری کے لئے کام کرنا ہو گا۔ پاکستان آج تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، علمائے کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محراب و منبر سے اسلامی وحدت، محبت اور اخوت کے درس کو عام کریں۔ آج بھی باہمی رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد و یگانگت کو فروغ دے کر گذشتہ 64 برسوں کی خرابیوں کو دور کیا جا سکتا ہے جس کے لئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام کو اس تاریخی کردار کو دہرانا ہو گا جس کا اظہار انہوں نے تحریک پاکستان میں بے پناہ قربانیاں دے کر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کی ابدی اور ہمہ گیر تعلیمات پر عمل کر کے کوئی بھی معاشرہ مثالی بن سکتا ہے۔ مختلف معاشروں نے انہی اصولوںکو اپناتے ہوئے ترقی کے مینار کھڑے کئے جبکہ ہم آج بھی پستی اور زوال کا شکار ہیں۔ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں مضمر ہے، اخوت و یگانگت اور اتحاد و اتفاق کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی، اسلام کے نام پر قائم ہونے والے وطن عزیز کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمیں وحدت ملی کے تصور کو اجاگر کرنا ہو گا۔ اسوہ حسنہ پر عمل کرکے معاشرے میںعدل و انصاف کی حکمرانی قائم کی جا سکتی ہے۔ آج غیر مسلم معاشروں میں پائی جانے والی اچھائیاں میثاق مدینہ کی جھلک محسوس ہوتی ہیں۔ جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں شدت پسندی اور عدم برداشت ہے۔ شدت اور انتہا پسندی پر قابو پانا حکومتوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عفریت کے خاتمے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ دشمن ہماری صفوں میں نفاق کا بیج بو کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن ہمیں نبی آخرالزمان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مظاہرہ کرنا ہو گا ورنہ اغیار کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے کے علاو کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے اس ملک کی تشکیل میں لاکھوں بہنوں اور بھائیوں کا خون شامل ہے لیکن آج ملک کے طول و عرض میں ہونے والی ناانصافی، معاشرتی ناہمواری اور غریب کو اس کا حق نہ ملنے پر ان شہیدوں کی روحیں تڑپ تڑپ کر سوال کر رہی ہوں گی کہ کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کے لئے ہم نے اپنے جان و مال کی قربانی دی تھی۔ آج بدقسمتی سے ملک کے تمام شعبے انحطاط پذیر ہیں، غریب سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے جبکہ اشرافیہ تمام سہولتوں سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہے۔ ان حالات میں عید میلاد النبی کا دن ہمیں اس عظیم درس کی یاد دلاتا ہے جس پر عمل کرکے ہم صحیح معنوں میں پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنا سکتے ہیں۔ حضرت محمد کے اتحاد، محبت اور حسن سلوک کے آفاقی پیغام پر عملدرآمد کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی نے عملی زندگی میں کردار کا وہ اعلیٰ نمونہ پیش کیا جس کا تاریخ میں بدل تلاش کرنا ممکن نہیں اور جس کی اسلام کے بدترین مخالف بھی تعریف کرتے ہیں۔ اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی خاتون کے ساتھ بھی حسن سلوک فرما کر حضرت محمد نے برداشت اور تحمل کا جو عظیم ثبوت دیا وہ ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے کہ آج ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کا خون بہانے کے درپے کیوں ہیں؟مختلف مکتبہ فکر کے علما ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنے فروعی اختلافات سے بالاتر ہو کر تحمل، رواداری اور برداشت کے جذبات کو فروغ دیں۔ سیر ت کانفرنس سے وزیر اوقاف حاجی احسان الدین قریشی، سینیٹر اسحاق ڈار، مفتی محمد خان قادری، مولانا امجد خان، علامہ زبیر احمد ظہیر، مولانا محمد حسین اکبر اور دیگر علما نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر ظہور احمد اظہر، ڈاکٹر حماد لکھوی اور مفتی محمد خان قادری نے سیرت النبی پر تحقیقی مقابلے پڑھے۔ وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے پنجاب حکومت کی طرف سے سیرت طیبہ پر لکھی جانے والی کتابوں کے مصنفین میں نقد انعام اور تعریفی اسناد تقسیم کیں۔