سینٹ الیکشن: مسلم لیگ ن اور ہمخیال میں حکمت عملی پر اتفاق‘ ہارون اختر کو پنجاب سے منتخب کرانیکا فیصلہ

05 فروری 2012
لاہور (فرخ سعید خواجہ) مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے مسلم لیگ ہم خیال کے سیکرٹری جنرل ہمایوں اختر اور سینیٹر ہارون اختر کی ملاقات میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ ہم خیال کے درمیان سینٹ کے الیکشن کے بارے میں حکمت عملی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ہارون اختر آئندہ ماہ سینٹ سے ریٹائر ہو رہے مسلم لیگ (ن) انہیں سینٹ میں ٹیکنو کریٹ کی نشست پر پنجاب سے منتخب کروانے میں مدد دے گی جب کہ اس کے عوض مسلم لیگ ہم خیال خیبر پی کے میں مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کو سینیٹر منتخب کرانے میں مدد کرے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس خیبر پی کے اسمبلی کے دس ممبران ہیں جب کہ وہاں سے سینٹ کا ایک ممبر منتخب کرانے کے لئے 12 ممبران اسمبلی کی ضرورت ہے۔ ممکن ہوا تو بلوچستان میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہو سکے گا۔ 2 مارچ کو ہونے والے سینٹ الیکشن کے لئے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں 3 جنرل نشستوں 1 ٹیکنو کریٹ / علما، 1 خاتون اور 1 اقلیتی نشست کے لئے 40 کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے معروف امیدواروں میں اسحاق ڈار، صدیق الفاروق، خواجہ محمود احمد، عارف سندھیلہ، سعید مہدی نمایاں ہیں۔ جنرل نشستوں پر اسحاق ڈار لازمی منتخب ہوں گے جب کہ صدیق الفاروق، خواجہ محمود احمد، عارف سندھیلہ میں سے دو کو امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے بشرطیکہ کوئی چھاتہ بردار درمیان میں نہ آجائے۔ قبل ازیں نواز شریف نے اپنی حلیف جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ڈاکٹر زاہد عظیم لکھوی کو ٹیکنو کریٹ / علما کی نشست پر ٹکٹ دینے سے معذوری ظاہر کر دی تھی تاہم ہارون اختر کو وسیع تر پارٹی مفاد میں اکاموڈیٹ کر لیا گیا۔ پنجاب سے خواتین کی مخصوص نشستوں پر تین خواتین نے درخواست دی ہے۔ ان میں سابق رکن قومی اسمبلی روزینہ عالم خان، راولپنڈی کی معروف خاتون رہنما سیما جیلانی اور فرحانہ قمر شامل ہیں جبکہ اسلام آباد سے زرینہ ستی نے درخواست جمع کروائی ہے۔ پنجاب سے اقلیتوں کی نشستوں پر درخواستیں جمع کروانے والوں میں پیٹر جان سہوترہ، سابق رکن اسمبلی طارق سی قیصر، کشن بھیل اور بشپ آف لاہور الیگزنڈر جان ملک شامل ہیں۔ بلوچستان سے اقلیتی نشست کے لئے پیٹرک سیموئل نے درخواست جمع کروائی ہے۔ خیبر پی کے سے اقبال ظفر جھگڑا نے جنرل نشست اور ٹیکنوکریٹ پر بھی درخواست جمع کروائی۔ پنجاب سے درخواستیں جمع کروانے والے افراد میں جو دیگر افراد شامل ہیں ان میں ذوالفقار بلتی، سمیع اللہ چودھری، سینیٹر انور بیگ، شاہنواز خان رانجھا، رفیق رجوانہ اور مسلم لیگ ق سے آنے والے نعیم حسین چٹھہ اور طارق عظیم شامل ہیں۔ رات گئے معلوم ہوا ہے کہ مزید جن درخواستوں کو ضابطے کے مطابق قرار دیا گیا ہے ان میں سردار ذوالفقار کھوسہ، غلام دستگیر خان، چودھری جعفر اقبال، سندھ کے سیکرٹری جنرل سلیم ضیا اور برطانیہ کے ممبر پارلیمنٹ چودھری سرور شامل ہیں۔ سندھ سے ٹیکنوکریٹ کی ایک نشست کے لئے ارشد جدون اور بھول چند نے درخواست جمع کروائی ہے۔
لاہور (خصوصی رپورٹر) مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے۔ آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی، جمہوریت کے استحکام، مہنگائی، لوڈ شیڈنگ، کرپشن کے خاتمہ کے ایجنڈے سے متفق سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی جماعتوں کو مسلم لیگ (ن) خوش آمدید کہتی ہے اور اللہ نے مسلم لیگ (ن) کو موقع دیا تو ترجیحی بنیادوں پر ملک سے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور کرپشن کے خاتمے کے لئے کام کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگ ہم خیال کے رہنماﺅں ہمایوں اختر خان اور ہارون اختر خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ موجودہ حکمران مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت، جتنی جلدی اقتدار سے الگ ہو جائے ملک کے لئے بہتر ہو گا کیونکہ اس حکومت نے ملک کو کرپشن، لوٹ مار، مہنگائی، بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا اصولوں کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت سے بات چیت کا وقت گزر چکا ہے۔ اب ان کو گھر جانا ہو گا۔ جتنی لوٹ مار اور کرپشن موجودہ دور میں ہوئی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کرپٹ حکومت کے خلاف کام کریں۔ اس موقع پر ہمایوں اختر نے لیگی دھڑوں کے اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس بات پر متفق ہے کہ تمام مسلم لیگوں کو اکٹھا ہو کر مرکزی حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلانا چاہئے۔