بمباری سے مزید 260 ہلاک‘ چین‘ روس نے شام کیخلاف قرارداد ویٹو‘ پاکستان نے حمایت کر دی

05 فروری 2012
دمشق + نیویارو (اے ایف پی + وقت نیوز + ایجنسیاں) شامی سکیورٹی فورسز نے دمشق اور حمص میں بمباری اور گولہ باری سے ایک ہی روز میں 260 شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی کر دیئے ، یہ اب تک سب سے بڑا قتل عام ہے۔ یہ بات اپوزیشن گروپ نے بیروت میں اے ایف پی کو بھیجے گئے بیان میں کہی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے شام کے خلاف قرارداد دوسری بار بھی ویٹو کر دی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کی انجمن نے بتایا کہ شامی حکومت کی اس علاقے پر گولہ باری میں اب تک 337 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ شام کی قومی کونسل نے دنےا سے اقدام کرنے اور روس سے اپنے موقف کو تبدےل کرتے ہوئے شامی صدر بشار الاسد حکومت کی مذمت اور جمہورےت کو اجازت دےنے کا بھی مطالبہ کےا ہے۔ اےس اےن سی نے کہا کہ شام مےں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے ہفتہ کی صبح کو اسد حکومت نے سب سے خوفناک قتل انسانی کا ارتکاب کےا۔ اسد کی افواج نے حمص کے رہائشی علاقوں بشمول خالدےہ اور کسور مےں وقفے وقفے سے بمباری کی جسکے نتےجہ مےں کم از کم 260 شہری ہلاک اور سےنکڑوں زخمی ہو گئے، جن مےں خواتےن اور بچے بھی شامل ہےں۔ بےان مےں شام کی قومی کونسل نے دنےا بھر کے ہر فرد سے آواز اٹھانے اور شام مےں معصوم افراد کے قتل کو روکنے کےلئے کچھ نہ کچھ کرنے کا مطالبہ کےا ہے۔ اےس اےن سی نے روس سے مطالبہ کےا کہ وہ شامی حکومت کے قتل عام کے حوالے سے اپنے موقف کو تبدےل کرے۔ اےس اےن سی نے ےہ بھی مطالبہ کےا ہے کہ روس شام مےں ہلاکتوں کو روکنے اور جمہوری طرےقے سے حکومت کے انتخاب، تمام شامی عوام کی آزادی اور وقار کو ےقےنی بنانے کےلئے شام حکومت کی واضح مذمت اور اسے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرائے۔ دوسری جانب شام کی حکومت نے گولہ باری کے اس واقعہ کی تردید کی ہے۔ مقامی انسانی حقوق گروپ نے سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاﺅن اور بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کے ان مظالم سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، حکومت کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی چاہے ایک کروڑ افراد کو قتل کیا جائے، ہم اپنی منزل کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، انسانی حقوق گروپ کے ایک رکن نے کہا کہ کریک ڈاﺅن کے دوران ہلاک ہونے والے 100 افراد کی نعشیں نکالی جا چکی ہیں، کئی افراد بغیر کفن کے دفن ہیں، کئی نعشیں نہیں مل سکیں۔ 500 سے زائد زخمیوں کو مختلف ہستالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ نعشوں اور زخمیوں کو نکالنے اور امدادی سرگرمیوں کے لئے انہیں کسی بھی قسم کی امداد نہیں مل رہی۔ ےورپ اور مشرق وسطی مےں سےنکڑوں شامی باشندوںنے اپنے ملکی سفارت خانوں پر دھاوا بولا اور کھڑےوں کے شےشے توڑ دےئے۔ اس دوران سےنکڑوں شامی باشندوں کوبھی گرفتار کےا گےا۔ لندن، اےتھنز، قاہرہ، کوےت سٹی اور جدہ مےں شامی سفارت خانوں ہفتے کے روز نشانہ بناےا گےا۔ پولےس نے کہا ہے کہ لندن مےںچھ افراد کو اس وقت گرفتار کےا گےا جب انہوں نے شامی سفارت خانے مےں گھسنے کی کوشش کی۔ پولےس حکام نے کہا ہے کہ مظاہرے کے دوران سفارت خانے کی کھڑکےوں کو بھی توڑا گےا ہے۔ اےتھنز، کوےت سٹی، جدہ، قاہرہ اور قاہر ہ مےں بھی سےنکڑوں مظاہرےن نے شامی سفارتخانوں کے باہر مظاہرہ کےا ہے۔کوےت سٹی مےں سفارت خانے کے گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی ہے جس سے دو مظاہرےن زخمی ہو گئے ہےں۔ برلن مےں بھی سےنکڑوں مظاہرےن نے شامی سفارت خانے مےں گھس کر فرنےچر توڑ ڈالا۔ دریں اثناءاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد مسترد ہو گئی ہے۔ اس قرارداد کو روس اور چین نے ویٹو کیا۔ یہ قرارداد عرب لیگ نے پیش کی، 13 ممالک نے حمایت کا ووٹ دیا، پاکستان اور بھارت نے اس قرارداد کی حمایت کی۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ شام کے تنازعہ پر روس کے ساتھ تعمیری مذاکرات ممکن نہیں۔ قرارداد میں صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔ پاکستان کے مندوب حسین ہارون نے خطاب کرتے ہوئے شام کے خلاف امریکی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جاری کشیدہ صورتحال کا خاتمہ ہونا چاہئے، شام میں شہریوں کے قتل عام پر تشویش ہے، تمام مسئلے کا حل اتفاق رائے سے ہونا چاہئے، اقوام متحدہ شام پر اپنا دباو جاری رکھے۔ دریں اثناءمیونخ میں عالمی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد جیسی جابر طاقتوں کو تنہا کرنے اور عرب ممالک میں جمہوریت کی حمایت کیلئے امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کو فروع دیا جانا چاہئے۔ امریکہ اور یورپی یونین کو جابر حکمرانوں کو مشترکہ طور پر واضح پیغام بھیجنا چاہئے کہ وہ اپنے شہریوں کے حقوق کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد کو بھی یہ باور کرانا چاہئے کہ اس کا اپنے شہریوں کے خلاف وحشیانہ تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے یورپ اور امریکہ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔دریں اثناءامریکی صدر اوباما نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہریوں کے قتل عام کے بعد بشارالاسد حکومت چھوڑ کر اقتدار سے الگ ہو جائیں۔