چاہے ایٹمی جنگ کیوں نہ لڑنی پڑے‘ فوج قائداعظمؒ کے حکم کی تعمیل میں مقبوضہ کشمیر طاقت سے آزاد کرائے: مجید نظامی

05 فروری 2012
لاہور (خبر نگار) نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر انچیف اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کو قائداعظمؒ کے حکم کی تعمےل مےں مقبوضہ کشمےر بزور طاقت بھارت سے آزاد کرانا چاہئے اس کےلئے چاہے اےٹمی جنگ ہی کےوں نہ لڑنی پڑے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں یا بھارت کے ساتھ جنگ کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ دس پندرہ سال بعد بھارت کے سامنے بے بس ہو جانے سے بہتر ہے کہ ہم آج بہادروں کی طرح لڑ کر جان قربان کر دےں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ مجید نظامی نے کہا کہ آج ہم یہاں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کےلئے جمع ہیں۔ حضرت قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا لیکن یہ شہ رگ گذشتہ 63 سال سے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے قبضہ میں ہے، ہم اتنے بے حس ہیں کہ 63 سال گزرنے کے باوجود ہم سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ بھارت نے ہمارے ملک کو ریگستان میں تبدیل کرنے اور ہمارے دریاﺅں پر قبضہ کرنے کیلئے تقسیم کے بعد ہی کشمیر پر قبضہ کر لیا تھا۔ بھارت نے وہاں سے آنے والے پانی پر بھی اس حد تک کنٹرول کر لیا ہے کہ وہ جب چاہتا ہے ہمیں سیلاب میں ڈبو دیتا ہے، جب چاہتا ہے ہماری فصلیں ڈبو دے۔ حضرت قائداعظمؒ نے 1947ءمیں فرما دیا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ میں قائداعظمؒ کا بطور خاص پیروکار ہوں۔ تقسیم ہند کے بعد جب بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر دیں تو حضرت قائداعظمؒ نے جرات ایمانی سے کام لیتے ہوئے اپنے کمانڈر انچیف کو حکم دیا کہ کشمیر میں اپنی فوج داخل کر دو، وہ کمانڈر انچیف انگریز تھا اس نے کہا میرا چیف کمانڈر دہلی میں بیٹھا ہے‘ میں اس کی اجازت لے لوں۔ اس نے نا فرمانی سے کام لیتے ہوئے قائداعظمؒ کا حکم ماننے سے بالواسطہ طور پر انکار کر دیا اور یوں یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بگڑتا چلا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ انگریز نے بھی کوشش کی کہ ہندوستان تقسیم نہ ہو اور متحد رہے لیکن حضرت قائداعظمؒ کی جدوجہد سے پاکستان بن کر رہا۔ حضرت قائداعظمؒ اپنی یہ خواہش دل میں ہی لئے اس دارفانی سے رخصت ہو گئے۔ میں اپنی فوج سے کہتاہوں کہ قائداعظمؒ کی اس خواہش اور حکم کے مطابق فوج کشمیر میں داخل کریں اور مقبوضہ کشمےر کو بزور طاقت بھارت سے آزاد کرانا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر پاکستان زندہ نہیں رہ سکتا۔ میرے نزدیک مسئلہ کشمیر کے دو حل ہیں۔ ایک یہ کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل کر رہا ہے اور نہ ہی اسے اس کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ شیطانی اتحاد ثلاثہ (بھارت، امریکہ اور اسرئیل) ایسا حل نہیں چاہتے۔ اقوام متحدہ امریکہ کی غلام ہے، اسرائیل امریکہ کا بادشاہ ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان قراردادوں پر کیسے عمل ہو سکتا ہے؟ دوسرا راستہ جنگ کا ہے اور اس کے بغیر کشمیر حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ بھارت نے پلیٹ میں رکھ کر کشمیر نہیں دینا ہمیں قوت بازو سے کام لے کر کشمیر حاصل کرنا ہو گا اور ہمیں اس کیلئے ایٹمی جنگ سے بھی گریز نہیں کرنا چاہئے۔ آج مغرب کہہ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسئلہ پر ایٹمی جنگ ہو گی۔ دس پندرہ سال بعد بھارت کے سامنے بے بس ہو جانے سے بہتر ہے کہ ہم آج بہادر انسانوں کی طرح لڑ کر جان قربان کر دیں۔ ہم انشاءاللہ کشمیر حاصل کر کے رہیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم کشمیر کیلئے ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے۔ ایک ہزار سال نہیں بلکہ چند دن کیلئے ہی فیصلہ کن ایٹمی جنگ کر لی جائے۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ اس سے بڑی تباہی ہو گی۔ میں کہتا ہوں کہ امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے، آپ دیکھیں کہ اس سے جاپان ختم نہیں ہوا بلکہ آج وہ امریکہ کو اشیا سپلائی کر رہا ہے۔ اس جنگ سے ہم بھی ختم نہیں ہوں گے بلکہ ہم فتح یاب ہوں گے اورکشمیر حاصل کر کے رہیں گے۔ ہم کشمیریوں کیلئے باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور ہماری قوم کو جنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ آج بھارت دنیا بھر سے اسلحہ خرید رہا ہے اور اسلحہ خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ وہ یہ اسلحہ پاکستان کیلئے ہی خرید رہا ہے اس سے پہلے کہ وہ اتنا طاقتور ہو جائے کہ ہم ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکیں ہمیں بزور طاقت کشمیر حاصل کر لینا چاہئے۔ ہم نے پہلے ہی ایک پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیئے ہیں اور آج بلوچستان اور فاٹا میں بھی حالات خراب ہیں۔ اس کے پس منظر میں بھی بھارتی سازشیں شامل ہیں۔ آج بنگلہ دیش والے بھی خود مانتے ہیں کہ مکتی باہنی میں بھارتی فوجی شامل تھے۔ اس سے آپ اندازہ لگالیں کہ یہ سب کچھ ایک سکیم کے ذریعے ہو رہا تھا۔ انشاءاللہ پاکستان تا قیامت قائم و دائم رہے گا۔ سابق صدر آزاد کشمیر کے ایچ خورشید مرحوم کی اہلیہ بیگم ثریا خورشید نے کہا کہ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ اس لئے قرار دیا تھا کہ وہ پاکستان کے لئے کشمیر کی حیثیت کو سمجھتے تھے لیکن افسوس کہ ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے قائدؒ کے اس فرمان کو فراموش کر دیا اور پاکستان کے لیے کشمیر کی حیثیت کو پس پشت ڈال دیا۔ جنتِ نظیر کشمیر بھارت کی جارحیت کی وجہ سے خاک و خون میں رنگی ہوئی ہے۔ کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہےں اور انشاءاللہ بھارت کے چنگل سے آزادی حاصل کر کے رہےں گے۔ حکمران صرف اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں۔ مجید نظامی ہمارا سرمایہ حیات ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے حکمرانوں پر زور دیتے رہتے ہیں، ان کی وجہ سے ہی آج تک یہ مسئلہ زندہ ہے ورنہ ہمارے حکمران تو اسے فراموش کر چکے تھے۔ لیگی رہنما میاں فاروق الطاف نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد بننے والا بھٹو کا یہ نعرہ تھا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہمیں ایک ہزار سال تک جنگ بھی کرنا پڑی تو لڑیں گے لیکن وقت اور حالات نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی مفادات کیلئے وہ صرف ایک نعرہ تھا۔ پی پی پی کی حکومت کو متعدد مواقع ملے لیکن ایک ہزار سال تو کجا وہ ایک ہزار سیکنڈ تک لڑنے کیلئے تیار نہیں ہوئے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا عیار، مکار، جھوٹا اور ریاستی دہشت گرد ہے۔ بھارت نے دہشت گردی کے ذریعے جونا گڑھ، حیدر آباد دکن اورکشمیر پر قبضہ کیا۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور اردگرد کے ہمسایہ ممالک پر بھی اس کی نظریں ہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم اسے ہر قیمت پر حاصل کریں گے، ہمیں جنگ کے لئے تیار رہنا چاہئے بزور طاقت کشمیر حاصل کریں گے۔ سید نصیب اللہ گردیزی نے کہا کہ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، کشمیری عوام بھی کعبة اللہ اور مدینہ منورہ کے بعد اگر کسی سرزمین کو عزیز رکھتے ہیں تو وہ پاکستان ہے۔ قیام پاکستان کو ممکن بنانے میں نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا اور مشائخ عظام نے بھی تحریک پاکستان کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہمارے موجودہ مسائل کا باعث یہ ہے کہ زمام اقتدار قائداعظمؒ کے سچے پیروکاروں کے ہاتھوں میں نہیں۔ کشمیریوں نے پاکستان کے استحکام کے لئے قربانیاں دی ہیں مگر افسوس کہ ہم آج کشمیریوں کے خون کا سودا کر کے بھارت سے آلو پیاز کی تجارت کر رہے ہیں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور نوائے وقت کشمیر کے حوالے سے فرض ادا کر رہے ہیں، قوم کو بھی منظم ہونا پڑے گا۔ کشمیر کے بغیر پاکستان سرسبز و شاداب نہیں رہ سکتا۔ بھارت ہمارے دریاﺅں پر 62سے زائد ڈیم تعمیر کر رہا ہے مگر ہماری حکومت اور مقتدر حلقے اس سلسلے میں کچھ نہیں کر رہے۔ اہلےان کشمےر پاکستان کو مضبوط و توانا پاکستان دےکھنا چاہتے ہےں کےونکہ اےسا پاکستان ہی کشمےر کے محافظ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ کشمےر تکمےل پاکستان کا نامکمل اےجنڈا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) حامد سعید اختر نے کہا کہ ہمیں جذبات کی رو میں بہنے کی بجائے حقیقت پسندی کا ثبوت دینا چاہئے۔ کشمیرکا جغرافیہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کشمیر رقبے کے اعتبار سے یمن، مراکش اور کینیا سے بڑا ملک ہے۔ قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ آج پوری قوم بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کیخلاف متحد ہو جائے۔ سینیٹر چودھری نعیم حسن چٹھہ نے کہا کہ کشمیریوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور انشاءاللہ وہ جلد ہی اپنی منزل پا لیں گے۔ آج کے حالات میں قائداعظمؒ کا یہ فرمان حقیقت ثابت ہو رہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ قائداعظمؒ کے بعد آنے والے حکمران خود کو ان کا صحیح معنوں میں جانشین ثابت نہیں کر سکے اور ہم کشمیر کو بھارت سے کیا آزاد کراتے بلکہ خود پاکستان کا ایک حصہ بھی گنوا دیا۔ حکومت وقت کشمیر کو مکمل طور پر بھلا کر محض ذاتی مفادات کی تکمیل پر عمل پیرا ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ ہمیں قائداعظمؒ کے اصولوں کی پیروی کرنا ہو گی۔ ہندو جیسی عیار اور مکار قوم سے مذاکرات نہیں کرنے چاہئیں بلکہ طاقت کے ذریعے کشمیر حاصل کیا جائے۔ مرزا صادق جرال نے کہا کہ مجید نظامی اور ان کی زیر قیادت نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور نوائے وقت گروپ نے ہمیشہ کشمیر کاز کو آگے بڑھایا ہے اور اہل کشمیر ان کے اس خلوص اور مساعی کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ کشمیری پاکستان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کرے گا جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا۔ جو لوگ مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پہلے بھارت کے ساتھ تجارت کے حامی ہیں‘ انہیں شرم آنی چاہئے۔ اقوام متحدہ، اسلامی ممالک اس دیرینہ مسئلے کے حل کےلئے اپنا مثبت کردار ادا کریں کیونکہ یہ مسئلہ کسی بھی وقت پاکستان بھارت ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان کشمیری عوام کے حقوق کی بازیابی کےلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔ کشمیری پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن افسوس یہ خواہش نصف صدی سے تشنہ چلی آرہی ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی شعبہ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی میں خواتین بے مثال قربانیاں دے رہی ہیں اور انہیں بھارتی فوج کی طرف سے انسانیت سوز سلوک کا سامنا ہے مگر اقوام متحدہ نے اس معاملے پر چپ سادھ رکھی ہے۔ مشرقی تیمور اور سوڈان میں عالمی طاقتوں نے اس لئے مداخلت کی کیونکہ وہاں غیر مسلموں کو فائدہ ہو رہا تھا مگر یہ طاقتیں آزادی کےلئے مصروف جدوجہد کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے آگے نہیں آرہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو چاہئے کہ سفارتی محاذ پر سرگرم کردارادا کر کے عالمی رائے عامہ کشمیریوں کے حق میں ہموار کرے۔ نوجوان نسل فیس بک اور اس جیسی دوسری ویب سائٹس پر کشمیریوں کی آزادی اور وہاں ہونیوالی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کو پیغامات بھجیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا کہ ہندو کبھی مسلمانوں یا پاکستان کے حق میں تھے اور نہ ہیں۔ اس نے انگریز حکمرانوں سے مل کر تقسیم برصغیر میں ناانصافی کی اور پاکستان کی شہ رگ پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ ماﺅنٹ بیٹن اور قائداعظمؒ کے درمیان طے ہو گیا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہو گا مگر بھارتی حکومت نے کشمیر پر فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر لیا۔ پاکستان نوجوانوں کو چاہیے کہ کشمیر کو بھارت سے آزاد کرانے کے لئے خود کو تیار کریں۔ طاقت کے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا۔ کشمیری رہنما غلام نبی لون نے کہا کہ مملکت پاکستان جس نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آئی تھی‘ ہمارے رہنماوں نے اس نظریہ کو فراموش کر دیا ہے۔ انہوں نے کشمیریوں کی جدوجہد کے حوالے سے کہا کہ ظلم کی رات خواہ کتنی ہی طویل ہو جائے‘ آزادی کی سحر ضرور طلوع ہو گی۔ مسئلہ کشمےر کو فوجی آمروں نے شدےد نقصان پہنچاےا اور ان کا سودا کےا جاتا رہا۔ اب تک لاکھوں کشمےری اپنی جانوں کا نذرانہ پےش کر چکے ہےں۔ نظرےہ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے کہا کہ نظرےہ پاکستان ٹرسٹ مجےد نظامی کی سرپرستی مےں ہر مرحلے پر مسئلہ کشمےر کے حل کی آواز بلند کرتا رہا ہے اور کشمےرےوں کی تحریک آزادی کے ساتھ مکمل طور پر اظہار ےکجہتی کرتا ہے۔ جب تحرےک آزادی کشمےر کا دوسرا دور شروع ہوا تو اس وقت سب سے زےادہ بلند اور توانا آواز مجےد نظامی ہی کی تھی۔ اُنہوں نے اس مرحلے پر اس تحرےک کی مالی معاونت کے لئے فنڈ قائم کےا جس کے ذرےعے اےک جانب مجاہدےن کی مدد کی گئی، دوسری جانب مہاجرےن کی دادرسی کی گئی۔ مجےد نظامی نے اہالےانِ کشمےر کی مدد کے لےے بھرپور کردار ادا کےا اور آج بھی ان کے ادارے اس ضمن مےں مسلسل مصروف عمل ہےں۔ اس موقع پر اتفاق رائے سے شرکا نے قرارداد منظور کی کہ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کشمےر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے تھے، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے مطابق وہ آخری دم تک کشمےر کے پاکستان سے الحاق کے متمنی تھے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ پر زور دے کہ کشمےری مسلمانوں کو اُن کا حق خودارادےت دلانے کےلئے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو ےقےنی بنائے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ نہتے کشمےری مسلمانوں پر بھارتی قابض افواج کی طرف سے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جانے کے حوالے سے عالمی طاقتوں کے ضمےر کو جھنجھوڑے۔ ہم اپنے کشمےری بھائےوں کی جدوجہد آزادی مےں ہمےشہ اُن کے شانہ بشانہ رہے ہےں، آئندہ بھی کبھی اُنہےں تنہا نہےں چھوڑےں گے۔ ہم کشمےر سے پاکستان کی طرف بہنے والے پاکستانی درےاﺅں پر بھارت کی طرف سے 60 سے زائد ڈےم تعمےر کرنے کی پُرزور مذمت کرتے ہےں، اےٹمی پاکستان کی سےاسی و عسکری قےادت سے مطالبہ کرتے ہےں کہ وہ پاکستان کو رےگستان بنانے کے بھارتی منصوبے کے بزور سدباب کےلئے فوری کارروائی کرےں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سماجی‘ انسانی اور ثقافتی معاملات کی جانچ پڑتال کی کمےٹی نے پاکستان کی طرف سے پےش کردہ حق خودارادےت کو بنےادی انسانی حق کے طور پر تسلےم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس کی رُو سے غےر ملکی فوج کی مداخلت‘ جارحےت اور قبضے کی بھرپور مخالفت کی گئی ہے‘ حکومت کا فرض ہے کہ کشمےری مسلمانوں کو حق خودارادےت دلانے کےلئے عالمی سطح پر موثر اقدامات کرے۔ پروگرام کا اختتام پاکستان، قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ، مادر ملت ؒ زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعروں سے ہوا۔ اس موقع پر بریگیڈیئر (ر) ظفر اقبال، کرنل (ر) اکرام اللہ، پروفیسر علامہ محمد مظفر مرزا، عزیز ظفر آزاد، یٰسین آزاد، تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے سیکرٹری رفاقت ریاض، اساتذہ کرام، طلبا و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی۔