توہین عدالت آسمان سے اترا قانون نہیں اسے انسان نے بنایا: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

05 فروری 2012
لاہور (اپنے نامہ نگار سے) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ عدالتیں قانون کے دائرہ کار میں رہ کر میڈیا کی تنقید تو برداشت کر سکتی ہیں مگر انہیں قبرستان کی خاموشی قبول نہیں جہاں کوئی غلطیوں کی نشاندہی کرنے والا ہی نہ ہو۔ میڈیا کی آزادی تازہ ہوا کا جھونکا ہے جس کےلئے صحافیوں نے بڑی قیمت ادا کی ہے۔ عدالتی فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے عوامل ہی توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے کئے ہوئے فیصلے پبلک پراپرٹی ہیں جن پر اظہار خیال کیا جا سکتا ہے۔ توہین عدالت کوئی آسمان سے اترا قانون نہیں یہ بھی انسان نے بنایا ہے۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام ”کورٹ رپورٹنگ اور صحافتی اقدار“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ داری کے نام پر کسی بھی سمت مجبور نہیں کیا جا سکتا البتہ میڈیا اپنی حدود کا تعین خود ہی کرتا ہے۔ یقین ہے کہ میڈیا اپنی اخلاقی و پیشہ وارانہ حدود کے تعین کےلئے کوشش کر رہا ہے۔ آزاد میڈیا پر ذمہ داریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ قانون، معاشرتی اقدار اور پیشہ وارانہ فرائض کے مطابق اس بات کا تعین کرے کہ اس نے کن حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے جہاں تک مقدمات کی سماعت کا تعلق ہے تو اس بارے میں جاننا اور رسائی حاصل کرنا ایک رپورٹر کا حق ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں میڈیا کا بنیادی کردار ہے۔ اعلیٰ عدالتوں نے مفاد عامہ کی انتہائی اہم نوعیت کی خبروں پر ازخود نوٹس لئے اور انہیں ریلیف بھی دیا، اسی طرح جمہوریت کےلئے بھی میڈیا کا کردار ناگزیر ہے۔ توہین عدالت کا قانون آسمان سے نہیں اترا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے تنخواہ دار ملازم ہیں ان کی ذمہ داری فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ہے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روز نامہ نوائے وقت کے ڈپٹی ایڈیٹر سعید آسی نے کہا کہ آج کی عدالتی رپورٹنگ جس بے باکی سے کی جا رہی ہے اس کا نظریہ ضرورت والی عدلیہ کے دورمیں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ اب توکمرہ عدالت میں ججوں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بھی بریکنگ نیوز کے طور پر چلتے ہیں مگر نظریہ ضرورت کے تحت چلنے والی عدلیہ کے دور میں صحافیوں کو توہین عدالت کا سامنا رہتا تھا۔ انہوں نے عدالتی رپورٹنگ کےلئے کورسز اور ورکشاپس کے انعقاد پر زور دیا اور کہا کہ عدالتی رپورٹنگ کےلئے لاءگریجوایشن کی شرط ہونی چاہئے۔ انہوں نے سیاسی کی بجائے بامقصد پریس کونسلز بنانے کا مطالبہ کیا۔ لاہور بار کے صدر چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ میڈیا نے مثبت کردار کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ عدلیہ بحالی تحریک میں میڈیا نے اپنے فرائض کو جس پیشہ وارانہ انداز اور جذبہ حب الوطنی کے تحت ادا کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں میں رپورٹنگ کےلئے صحافیوں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ سینئر صحافیوں مجیب الرحمن شامی، عرفان صدیقی،ضیاءالدین پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین راجہ شفقت عباسی نے کہا کہ رپورٹرز کو اپنے شعبے پر مکمل دسترس ہونی چاہئے۔ میڈیا کے کردار کے تعین میں حکومتوں کا بھی اہم ہاتھ ہے۔ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں میڈیا نے اہم ترین کردار ادا کیا۔اس سے پہلے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس (ریٹائرڈ) تنویر احمد خان نے کہا کہ میڈیا کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں لیکن میڈیا کا بھی فرض ہے کہ تحقیق کے بعد خبر شائع کی جائے۔ سیمینار کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔