20 آئینی ترمیم: حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے مطالبات مان لئے

05 فروری 2012
اسلام آ باد (خبر نگار خصوصی) حکو مت اوراپوزیشن کے در میان 20 ویں ترمیم منظور کرانے پر اتفاق ہو گیا ہے، کل کو قومی اسمبلی سے باقاعدہ متفقہ منظوری لی جا ئے گی۔ بیسویں ترمیم منظور نہ ہونے کی صورت میں قومی اسمبلی کے 7 ، سینیٹ کے 4 ، پنجاب اسمبلی کے 7 ،خیبر پی کے 2 اور بلوچستان اسمبلی کا ایک رکن نااہل ہو سکتے ہیں۔ جن میں حفیظ شیخ ، ڈاکٹر عاصم ،سینیٹر ساجد زیدی اور جے یوآئی (ف) کے سینیٹر قاری عبداللہ ،ایم این ایز چوہدری اصغرجٹ ، جمشید دستی ، ممتاز ٹمن ، اخترکانجو، سردارشفقت حیات، چوہدری تصدق مسعود، حاجی خدا بخش راجڑ ، خدیجہ عامر یار ، اویس لغاری شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 20 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کیلئے حکومت کو دوبارہ اپنے 4 مطالبات پیش کئے جن میں الیکشن کمیشن اور کمشنر کو بااختیار بنانا‘ اپوزیشن لیڈر کی رضامندی سے نگران حکومت کی تقرری‘ خواتین کی خالی نشستوں کو پر کرنے کا اختیار پارٹی کو دینے اور ای او بی آئی‘ ورکرز ویلفیئر فنڈ اور شیخ زید ہسپتال کی مرکز کی بجائے صوبوں کو منتقلی شامل ہے ذرائع نے بتا یا ہے کہ حکومت نے مسلم لیگ ن کے مطا لبے کو مان لیا ہے ، سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دینے کے لئے 6 فروری کی ڈیڈلائن دے رکھی ہے۔