مقبوضہ کشمیر قیدیوں کی بیرون ریاست منتقلی کیخلاف مظاہرے‘ جھڑپیں‘ اہلکار نے فوجی افسر قتل کر دیا

05 فروری 2012
سرینگر+ نئی دہلی (نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں قیدیوں کی بیرون ریاست منتقلی کیخلاف مظاہرے جاری رہے۔ ادھر پلوامہ میں مجاہدین اور فوج میں جھڑپ ہوئی اور بھارتی فوج نے نوجوان کو شہید کر دیا۔ علاقے میں بڑا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ راجوری میں اہلکار نے فوجی افسر کو 30گولیاں مار دیں۔ نئی دہلی کے پی آئی کیمطابق بھارتی سپرےم کورٹ نے جنوبی کشمےر مےں جعلی مقابلے مےں 7 کشمےرےوں کو غےر ملکی مجاہد قرار دے کر شہےد کرنے کے جرم مےں مےجر جنرل سمےت پانچ فوجےوں کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے لےے 24 فروری تک کی مہلت دے دی ہے۔ تفصےلات کے مطابق گزشتہ روز جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار پر مشترکہ بنچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ بھارتی تفتیشی ادارہ سی بی آئی نے عدالت کو بتاےا کہ ان ہلاکتوں میں ملوث فوجی آفسروں کو سزا دینے کیلئے آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ یا کورڈ آف کرمنل پروسیجر کے تحت پیشگی اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سی بی آئی کے سینئروکیل ایڈوکیٹ اشوک بھان نے جسٹس بی ایس چوہان اور جسٹس سوتنتر کمار پر مشترکہ بنچ سے مخاطب ہوکر کہا کہ پیشگی اجازت حاصل کرنے کا سوال صرف اس صورت میں اٹھتا ہے جب کسی مجسٹریٹ نے کیس کا نوٹس لیا ہو لیکن موجودہ کیس میں فوج نے چارج شیٹ کے وقت ہی چالان چےلنج کےا۔ یاد رہے کہ جنوبی کشمیر کے پتھری بل علاقہ میں 25مارچ 2000کو فوجی اہلکاروں نے7لوگوں کو ہلاک کرکے انہیں لشکر طیبہ کے غےر ملکی مجاہد قرار دیا اور کہا تھا کہ ےہ افراد 19اور 20مارچ 2000کی درمیانی شب کو چھٹی سنگھ پورہ میں 36سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے۔