سینٹ انتخابات روکنا اور اس کا تسلسل ختم کرنا ماورائے آئین ہے: بابر اعوان

05 فروری 2012
لاہور (خبرنگار) سابق وفاقی وزیر قانون اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ سینٹ الیکشن سیاسی نہیں آئینی تقاضا ہے۔ سینٹ انتخابات روکنے اوراس کا تسلسل ختم کرنا ماورائے آئین ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے 18فروری 2008ء کے انتخابات کو تحفظ دیا گیا ہے۔ بلکہ اسی طرح جیسے آئین کی دفعہ 270(ڈبل اے) کے ذریعے پی سی او کے پہلے حلف اٹھانے والے ججوں کو تحفظ دیا گیا تھا۔ وہ گذشتہ روز پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ملک مشتاق اعوان کی صاحبزادی کی شادی کی تقریب میں اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ بابر اعوان نے کہا کہ عمران شرمندگی سے بچنے کے لئے سینٹ الیکشن رکوانے کے لئے دائر اپنی پٹیشن واپس لے لیں۔ سینٹ ختم نہیں ہو سکتی۔ سینٹ صرف ضیاالحق اور پرویز مشرف کے مارشل لاءمیں ختم کی گئی تھیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ججمنٹ یا پٹیشن کے ذریعے اسمبلی ختم کی جا سکتی ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ 18ویں ترمیم کے آرٹیکل 270(ڈبل بی) میں اسے تحفظ دیا گیا ہے جس میں صرف دو تہائی اکثریت سے ترمیم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کو سبوتاژ کرنا آئین سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آئین کو توڑنے کی کوشش کرے گا بلاواسطہ کرے یا براہ راست وہ آرٹیکل 6ضرور پڑھ لے۔