حکمران کشمیریوںکی قربانیاں فراموش کر کے بھارت سے دوستی و تجارت کا راستہ اختیار نہ کریں: مولانا امیر حمزہ

05 فروری 2012
لاہور (رپورٹ: سیف اللہ سپرا )جماعةالدعوة پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا امیر حمزہ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا۔ مظلوم کشمیریوں کی قربانیاں فراموش کرکے بھارت سے دوستی اور تجارت کا راستہ اختیار کرنا درست نہیں۔ غاصب بھارت سے اپنے دریاﺅں کا قبضہ چھڑانے کیلئے پاکستان کو طاقت کے استعمال کا آپشن کھلا رکھنا چاہیے۔ خطہ میں امن بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے سے نہیں کشمیریوں کو مکمل آزادی ملنے سے ہوگا۔ جماعة الدعوة مظلوم کشمیریوں کی مدد کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”ایوان وقت“ میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت خطہ میں امن چاہتا ہے تو مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ ختم کرے۔ اپنی 8 لاکھ فوج کشمیر سے نکالے اورمظلوم کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دے وگرنہ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں اس کا آخری سہارا بکھر رہا ہے۔ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار امریکہ کے اس خطہ سے نکلنے کے بعد بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہیں ٹھہر سکے گا بلکہ اسے خود اپنا وجود برقرار دکھنا بھی مشکل ہوجائےگا۔ انہوں نے کہاکہ بھارت تحریک آزادی کشمیر کچلنے کیلئے ظلم و جبر کے سبھی ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ ہزاروں کشمیری نوجوان جنہیں بھارتی فوج نے گرفتار کر کے لاپتہ قرار دیا ان کو شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفن کیا جار ہا ہے۔وہ کشمیریوں کی نعشوں کے انبار لگا رہا ہے لیکن اسے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ طاقت و قوت کے بل بوتے پر مظلوم کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کو پوری دنیا پر بے نقاب کرے اور اس حوالہ سے کسی قسم کی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسے ادارے بھارت کو خوش کرنے کیلئے بغیر کسی ثبوت کے مسلم تنظیموں و فلاحی اداروں پر پابندیاں لگا دیتے ہیں مگر کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف ایک لفظ کہنے کی بھی انہیں توفیق نہیں ہوئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان جو کشمیریوں کا سب سے بڑا وکیل ہے اس کی طرف سے بھی جرا¿تمندانہ کردار دیکھنے میں نہیں آیا جس کی کشمیری و پاکستانی قوم توقع کر رہی تھی۔ بھارت کو جماعة الدعوة کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کے حق میں آوا ز بلند کرنے کی بڑی تکلیف ہوتی ہے مگر ہمیں کسی کی پروا نہیں، ہم اپنے اللہ کو راضی کرنے کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بھارت سے مذاکرات کی بحالی کو ہی بہت بڑی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں اور بھارت کے سامنے کشمیر کا نام لیتے ہوئے بھی شرماتے ہیں کہ کہیں مذاکرات ختم نہ ہو جائیں اہل اقتدار کو اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرنی چاہئے۔ کشمیر پاکستان کی بقاءکا مسئلہ ہے۔ دینی و سیاسی جماعتوں اور حکومتی ذمہ داران کو کشمیریوں کے قتل عام پر کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پہلے پاکستان کیخلاف کشمیر میں دراندازی کا پروپیگنڈا کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کی قربانیوں نے بھارت کے مکروہ چہرے کو ایک مرتبہ پھر بے نقاب کردیا ہے۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کشمیر یوں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہے، وہ بھارتی فوج کی گولیو ں کے جواب میں پتھر پھینک رہے ہیں اور سڑکوں پر نکل کر پاکستان کا پرچم لہراتے ہوئے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد جاری ہے اور جاری رہے گی۔