12 ربیع الاوّل اور غزوہ ہند

05 فروری 2012
چار سو اندھیرا چھایا ہوا تھا‘ ظلم و جبر نے اپنے منحوس پنجے معاشرے میں گاڑ رکھے تھے‘ خاندان اور پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا‘ انسانیت زوال اور انحطاط کی طرف سرک رہی تھی ماں‘ بہن اور بیٹی کے رشتوں کو پامال کیا جا رہا تھا‘ بیت اللہ میں 360 بت رکھ کر اپنی بگڑی کو سنوارنے کیلئے قدم بوسی کی جاتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ضلالت و گمراہی میں بھٹکے ہو¶ں کیلئے ہدایت کی منور راہیں کھولنے کا فیصلہ کیا اور 12 ربیع الاوّل کی پرنور رات کو اپنی رحمتوں کی لامتناہی وسعتوں کیساتھ اپنے پیارے محبوب کو دنیا میں بھیجا پھر انسانی تہذیب کے قرینے تبدیل ہو گئے‘ گھپ اندھیروں کے بطن سے روشنی نے اڑان بھری اور آناً فاناً پورے عالم میں نور جگمگانے لگا‘ شکستہ حال اور لاچار لوگوں کو سہارا ملا یتیموں کا اکیلا پن ختم ہوا‘ وہ پیارا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس کی برکتیں لامتناہی جس کے ذکر کی رفعتیں بے کنار ہیں لاکھوں درود و سلام اس صاحب لولاک پر جس کا امتی ہونا ہمارے لئے خوش قسمتی کی نشانی ہے۔ یہی میرا توشہ آخرت ہے یہی میرے پاس جنت کی کلید ہے‘ 12 ربیع الاوّل کا دن اپنے اندر محبت‘ شفقت رحم دلی اور اخوت کا ایسا جذبہ لیکر آتا ہے کہ بغض عداوت‘ شکوک و شبہات اور واہموں کے سارے بادل آنکھ جھپکتے ہی چھڑ جاتے ہیں‘ رسول اللہ کے اسوہ حسنہ اور آپکی تعلیمات پر عمل کرنے سے جھونپڑیوں میں رہنے والوں نے نصف دنیا پر حکومت کی‘ رسول اللہ کی آمد سے کفر والحاد کے شبستانوں میں زلزلہ بپا ہوا‘ قیصر و کسریٰ کے محلات لرز اٹھے‘ اندھیری راتوں کے ٹکڑوں کی طرح چھائے سیاہ فتنے زائل ہو گئے‘ رحمت دوعالم کی آمد سے پوری فضا اس قدر معطر ہوئی‘
کہ عرب و عجم جگمگا اٹھا شاعر نے اسے یوں بیان کیا ہے۔
حضور آئے تو سر آفرینش پا گئی دنیا
اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آگئی دنیا
بجھے چہروں کا زنگ اترا
ستے چہروں پہ نور آیا
حضور آئے تو انسانوں کو جینے کا شعور آیا
چودہ سو سال قبل رسول اللہ کی آمد پر جو فتنے دفن ہو گئے تھے آج انہوں نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے ”یہود ونصاریٰ و ہنود چیلوں کی طرح مسلم امہ کے جسموں کو نوچ رہے ہیں لیکن ان بھیڑیوں سے بچانے والا کوئی نہیں‘ مضبوط ایمان والے صحابہ کرامؓ نے تو کفر کے اسلام پر بڑھتے حملوں کو روک کر اسلام کا بول بالا کیا تھا لیکن آج ایک ارب 20 کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو امت وحدہ کا شیرازہ بکھرنے سے بچائے آج ہماری دعائیں بے اثر ہو چکی ہیں ہمارے دل زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ میں اگر گنبد خضرا تک پہنچ پاتا۔ تو روضہ اقدس کی دیواروں سے لپٹ کر رو کر عرضی پیش کرتا۔ حضور بھٹکی ہوئی امت کو سوئے حرم بلا لیجئے حضور آپ تو ماں سے زیادہ مہربان اور باپ سے زیادہ شفیق ہیں۔ آپ تو میدان عرفات میں عرب کی شدید گرمی میں اونٹنی پر بیٹھ کر اپنی امت کیلئے اپنے رب کے حضور دعا مانگتے رہے۔ آپ کی مقدس آنکھوں سے ہمارے لئے آنسو¶ں کی جھڑیاں لگتی رہیں۔ حضور کل میدان حشر میں ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہو گا۔ انسان بھوک و پیاس سے بے حال ہوں گے۔ جب ماں بچے کو دیکھ کر بھاگ جائے گی جب باپ بیٹے کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کرے گا۔ جب جگری یار آنکھ چرا کر دوڑ جائیں گے۔ جب خدام و نوکر ٹکاسا جواب دے دیں گے جب دنیاوی رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ حضور! اس وقت آپ ہماری محبت میں بے چینی سے حشر کے میدان میں بھاگ دوڑ رہے ہوں گے۔ حضور میدان حشر میں جب سارے نبی ”نفسی نفسی“ کہہ رہے ہوں گے۔ اس وقت آپ ”امتی امتی“ پکار رہے ہوں گے۔ حضور اس وقت آپ کے جھنڈے تلے ہی ہمیں پناہ ملے گی۔ حضور! اگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی ذات اقدس کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم پہ پتھروں کی بارش ہوتی۔ ہم پہ آسمان سے آگ کا مینہ برستا‘ بپھری ہوئی آندھیاں ہمیں پٹخا پٹخا کر مارتیں۔ ہولناک زلزلے ہمارے پاپی وجودوں کو تہہ زمین میں لے جاتے۔ سیلاب ہمیں کوڑے کرکٹ کی طرح بہا لے جاتے اور ہماری پھولی ہوئی بدبودار لاشیں عبرت کی داستان بن جاتیں۔ ہماری شکلیں مسخ کر دی جاتیں ہم پر قوم عاد و ثمود کی تاریخ دہرائی جاتی‘ ہم صرف آپ کی وجہ سے اور آپ کے گنبد خضرا کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔ ہم انگریزوں کے غلام تھے ذلیل و رسوا تھے۔ ہماری قوم نے مل کر آپ کی ذات کا واسطہ دیکر اللہ تعالیٰ سے زمین کے ایک ٹکڑے کی التجا کی۔ اللہ نے ہمیں رمضان کی مبارک ساعتوں میں پاکستان دے دیا مگر ہم نے اللہ سے بدعہدی کی مکاری کی ہم نے اپنی سرزمین کو نیٹو اتحادیوں کے حوالے کر دیا۔ ہمارے ائیرپورٹوں سے ان کے جہاز اڑان بھر کر کلمہ گو افغانیوں کو قتل کرتے رہے جس میں ہم مددگار تھے۔ حضور ہمیں معاف کرنا۔ حضور آپ کا بولا ہوا ایک ایک حرف سچا ہے۔ آپ کا فرمان۔ ”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا تمہارا ایک لشکر ہندوستان سے جنگ کرے گا اور اللہ ان کو فتح دیں گے اور وہ ان کے حکمرانوں کو بیڑیوں سے جکڑ کے لائیں گے اللہ انکے گناہ بخش دے گا پھر وہ واپس آئیں گے جب بھی واپس آئیں تو وہ ابن مریم کو شام میں پائیں گے“۔ ہم نے اس فرمان کی روشنی میں جہاد کشمیر کو ولولے سے جاری رکھنا تھا کیونکہ غزوہ ہند یہی ہے لیکن ہمارے چال باز حکمرانوں نے جہاد کا نام لینے والوں کی کھال تک کھینچ لی ہے۔ بھارت نے ہمارے دریا¶ں پر قبضہ کر لیا ہم نے خاموشی اختیار کر لی‘ حکمرانوں کو سانپ سونگھ گیا‘ جہاد کا نام لینا جرم بن گیا حالانکہ حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا تھا غزوہ ہند اگر مجھے نصیب ہوا تو میں اپنے جان و مال دونوں اس میں لگا دوں۔ پھر اگر میں شہید ہو گیا تو میں افضل الشہدا ہوں گا اور اگر زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرہ محرر ہوں گا۔ (یعنی ہر طرح کے عذاب سے آزاد قرار دے دیا گیا) حضور ہمیں معاف کرنا آپ نے اگر اپنی نظر رحمت پھیر لی تو پھر دنیا و آخرت کے سارے عذاب ہم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ آپ کو اپنی رحمة للعالمینی کا واسطہ‘ بدر‘ احد‘ خندق کے شہدا کا واسطہ اپنی نظر رحمت مت پھیرنا میں دھاڑیں مار کر سبز گنبد سے لپٹ کر پوری امت کی طرف سے یہی عرضی پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن مدینہ دور ہے.... دور ہے.... بہت دور ہے۔