ےومِ ےکجہتی کشمےرسے مجاہدِ کشمےر کا خطاب

05 فروری 2012
عالمی طاقتوں کی بے حسی اور پاکستان کی سےاسی و عسکری قےادتوں کی بے بسی کے باوجود پاکستانی قوم مقبوضہ کشمےر کے عوام کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی و سفارتی حماےت پوری استقامت سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص جناب مجےد نظامی بڑی مستقل مزاجی سے حکمران طبقات کو ان کے فرائض کی ےاد دہانی کروا رہے ہےں۔ کشمےر سے ان کے اسی والہانہ لگاﺅ کی بدولت کشمےری عوام محبت اور عقےدت سے انہےں ”مجاہد کشمےر“ کے لقب سے پکارتے ہےں۔ آج اُن کی زےر صدارت اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےں ”ےوم ےکجہتی کشمےر“ کے حوالے سے اےک پروقار تقرےب منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے تو کشمےر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دےا تھا مگر شاےد ہم بے غےرت ہوچکے ہےں جو 63سال گزرنے کے باوجود آج تک اپنی شہ رگ کو اپنے ازلی دشمن بھارت کی گرفت سے آزاد نہےں کروا سکے۔ انگرےزوں کی شدےد خواہش تھی کہ وہ برصغےر سے کوچ کرتے وقت ہندوستان کو متحد چھوڑ کر جائےں۔ ہندو بھی اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ¿ تعبےر دےکھناچاہتے تھے مگر قائداعظمؒ کی قوت اےمانی نے ان دونوں کی خواہشات کو خاک مےں ملا دےا اور پاکستان معرضِ وجود مےں آگےا تاہم ہندوﺅں نے آج تک ہندوستان کی تقسےم کو دل سے قبول نہےں کےا اور وہ پاکستان کو خدانخواستہ ختم کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہےں۔ آزادی کے فوراً بعد اس نے کشمےر پر اسی نےت سے قبضہ کرلےا تھا تاکہ وہ کشمےر مےں پاکستانی درےاﺅں پر قبضہ کرکے ہمےں رےگستان بناسکے اور آج آپ دےکھ رہے ہےں کہ وہ جب چاہتا ہے‘ زائد پانی چھوڑ کر ہمےں سےلاب زدہ کردےتا ہے اور جب چاہتا ہے‘ ہمارا پانی روک کر ہماری زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دےتا ہے۔ وہ ہمارے وجود کو عدم مےں تبدےل کرنے کے لئے اےک سوچے سمجھے منصوبے پر عمل پےرا ہے مگر ہم اتنے بے حس ہوچکے ہےں کہ اسے منہ توڑ جواب دےنے کی کوئی سبےل نہےں کررہے۔ ہمارے اس مکار دشمن نے 1971ءمےں ننگی جارحےت کے ذرےعے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دےش مےں تبدےل کردےا اور اب موجودہ پاکستان کو بھی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پالےسی پر عمل کررہا ہے۔ بلوچستان اور فاٹا کے دگرگوں حالات کے پس پردہ بھی بھارتی سازش اور سرماےہ کار فرما ہے۔ جناب مجےد نظامی نے تارےخ کے جھروکوں سے پردہ سرکاتے ہوئے کہا کہ وادی¿ کشمےر مےں بھارت کے مسلح فوجی مداخلت کے خلاف قائداعظمؒ نے 27اکتوبر 1947ءکو پاکستان کی مسلح افواج کے انگرےز کمانڈر انچےف جنرل ڈگلس گرےسی کو حکم دےا کہ وہ افواج پاکستان کو کشمےر مےں داخل کردے مگر اس نے حکم عدولی کرتے ہوئے اےسا کرنے سے انکار کردےا۔ قائداعظمؒ کشمےر مےں پاکستانی فوجےں داخل کرنے کی خواہش کو ساتھ لئے وصال فرما گئے۔ مَےں اپنے ملک کی عسکری قےادت سے کہتا ہوں کہ جس حکم پر جنرل ڈگلس گرےسی نے عمل کرنے سے انکار کردےا تھا‘ اب اس حکم پر آپ عمل کر گزرےں اور کشمےر کو بزوربازو بھارتی پنجوں سے آزاد کروائےں۔ آپ اےٹمی قوت ہےں لہٰذا آپ کو کشمےر کی آزادی کی خاطر لڑنا ہوگا کےونکہ کشمےر کے بغےر پاکستان باعزت طور پر زندہ نہےں رہ سکتا۔ جناب مجےد نظامی نے کہا کہ وہ جنگ رواےتی نہےں بلکہ اےٹمی جنگ ہوگی جو محض چند دن جاری رہے گی مگر فےصلہ کن ہوگی اور ےقےنا ہم فتحےاب ہوں گے۔ کچھ لوگ مجھے کہتے ہےں کہ اےٹمی جنگ سے بے پناہ نقصان ہوگا۔ مےں کہتا ہوںکہ امرےکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کے شہروں ہےروشےما اور ناگاساگی پر اےٹم بم گراےا تو کےاجاپان ختم ہوگےا تھا۔ آج جاپان دنےا کی اےک عظےم اقتصادی طاقت ہے۔ پاک بھارت اےٹمی جنگ کی صورت مےں انشاءاللہ ہم بھی ختم نہےں بلکہ سرخرو ہوں گے۔ حکومت اور افواج پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہآج بھارت دنےا مےں اسلحے کا سب سے بڑا خرےدار بن چکا ہے اور ےہ اسلحہ وہ پاکستان کے خلاف استعمال کے لئے ہی جمع کررہا ہے۔ لہٰذا اس سے قبل کہ وہ وقت آئے جب ہم اےٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھارت سے ڈرےں جےسا کہ ہمارے حکمران ڈرتے ہےں‘ اس سے دو دو ہاتھ کرکے کشمےر آزاد کروا لےنا چاہےے۔ تقرےب سے ممتاز مسلم لےگی رہنما اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے فنانس سےکرٹری مےاں فاروق الطاف نے بڑا ولولہ انگےز خطاب کےا اور کہا کہ بھارت دنےا کا سب سے عےار اور مکار ملک اور پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ تقرےب سے سےنےٹر نعےم حسےن چٹھہ‘ برےگےڈےئر(ر)حامد سعےد اختر‘ بےگم مہناز رفےع‘ بےگم ثرےا خورشےد‘سےد نصےب اللہ گردےزی‘ مرزا محمد صادق جرال‘ ڈاکٹر اےم اے صوفی‘ غلام نبی لون اور نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشےد نے بھی خطاب کےا۔