٭ پاکستان پیپلز پارٹی اور کشمیر ٭

05 فروری 2012
کشمیردنیا کا ایک حسین خطہ ہے۔ خوبصورت ترین وادی ہے ۔صدیوں سے اسکا حسن اس جنت میں قدم رکھنے والوں کو متاثر کرتاہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر جب کشمیر آیا تو وہ قدرتی حسن سے مالا مال سر زمین کو دیکھ کر بے ساختہ کہہ اُٹھا
گر فردوس بروئے زمیں است
ہمیں است، ہمیں است،ہمیں است
کہ اگر روئے زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ یہی مقام ہے ۔لیکن اس جنت نظیر کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے باشندے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے مگر ابھی تک آزادی نصیب نہ ہوئی ۔ آزادی کی یہ خواہش اور تحریک ایک صدی سے مسلسل جاری ہے ۔جب تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو وادی کشمیر کے باسیوں نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی آنکھوں میں روشن صبح کا خواب سجالیا کیونکہ مسلمانوں کے لیے علحیدہ ریاست کا خواب سب سے پہلے سیالکوٹ کے کشمیری فرزند حضرت علامہ محمد اقبال نے ہی دیکھا تھا۔
ان کے تصور پاکستان کے اس خواب کو جو انہوں نے الٰہ آباد میں پیش کیا تھا برصغیر کے طول و عرض میں سراہا گیا۔ اور یہی خواب برصغیر کے مسلمانوں کے لیے روشن صبح کا ستارہ بن کر جھلملانے لگا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے آزادی کی تحریک برصغیر میں پھیل گئی اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اس خواب کو تعبیر مل گئی لیکن بد قسمتی سے کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ انگریزوں کی بدنیتی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کشمیر کی آزادی کو التواءمیں ڈال دیا گیا اور پھر ہندوستان نے اس پر غاصبانہ انداز میں قبضہ کر لیا ۔ آزادی کے وقت یہ طے ہوا تھا کہ حق رائے دہی کے ذریعے کشمیر کی آزادی کا فیصلہ ہو گا مگر 65سال ہونے کو ہیں یہ حق ان کو نہ دیا گیا۔
پاکستان کی آزادی کے ایک سال بعد ہی ستمبر 1948میں کشمیر ی نوجوانوں کی جدوجہد سے کچھ حصہ کو آزادکروالیا گیا جسے آزاد جموں و کشمیر کا نام دیا گیا۔
جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے بطورِ وزیر خارجہ 22ستمبر 1965 کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے اپنے خطاب کے دوران دنیا کوباور کروادیا کہ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں انہوں نے کشمیری عوام کے دلوں کی بھر پور ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ © \\\"جموں و کشمیر نہ انڈیا کا حصہ ہے نہ کبھی حصہ تھا۔ یہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان حل طلب مسئلہ ہے پاکستان کا ہر لحاظ سے کشمیر کے ساتھ مضبوط رشتہ ہے بہ نسبت انڈیا کے۔ جموں و کشمیر اور پاکستان کے عوام خون، جسم و جان ، تہذیب و ثقافت ، جغرافیائی تاریخی اور ہر طرح سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں وہ پاکستان کے عوام کا حصہ ہیں\\\"۔
اور اسی خطاب میں انہوں نے ایک تاریخی جملہ بھی کہا تھا کہ \\\" ہم ہزار سال تک اپنے دفاع کی جنگ لڑیں گے\\\"۔
قائد عوام کے اس خطاب کے بعد کشمیر ، پاکستان اور دنیا بھر کے عوام باالخصوص مسلمانوں نے نہایت سراہا اور اس کے بعد پاکستان کے کشمیر کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف نے کشمیریوں کو پاکستان کے مزید قریب کر دیا۔
پھر جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جنرل ایوب سے معاہدہ تاشقند پر اختلافات کے بعد وزارت خارجہ کو ٹھوکر ماری اور الگ سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے قائم کی تو کشمیر اور پاکستان کے عوام نے والہانہ محبت سے ان کے اس فیصلے کو سراہا ۔ لہٰذا قائد عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر میں بھی قائم کر دی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اولین ترجیح دی اور اپنی خارجہ پالیسی میں سرِ فہرست رکھا۔ قائد عوام شہید نے فروری 1974میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد کر کے مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو بھر پور انداز میں اجاگر کیا اور امتِ مسلمہ کو کشمیر کے مسئلہ پر بریف کیا اور ان کی بھر پور حمایت حاصل کی اس سے پہلے کشمیر کے مسئلے کو امتِ مسلمہ اتنی اہمیت نہ دیتی تھی ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں کشمیر کے مسئلے پر خارجہ پالیسی ترتیب دی۔ اور ہر فورم پر اس مسئلے کو اُٹھایا ۔ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اہمیت کو اقوام عالم سے تسلیم کروایا اور دنیا کو بتایا کہ کس طرح سے کشمیریوں کو بزور طاقت غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ جب پاکستان پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں 1988میں قائم ہوئی تو ایک دفعہ پھر تحریک آزادی کشمیر نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے زیر قیادت زور پکڑ لیا ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دورِ حکومت میں جب کشمیر تحریک نے ایک بار پھر زور پکڑا تو جمہوری حکومت نے ملک میں اور بیرون ملک کشمیریوں کا مقدمہ کامیابی سے لڑا اور کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے 5فروری 1990کو پاکستان میں چھٹی کا آغاز کر کے ©یومِ یکجہتی کشمیر\\\"منانے کا اعلان کیا جو آج بھی پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اسی محبت اور عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شروع ہواتھا۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں کے عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حق خودارادیت دینے سے منحرف ہے ۔ اس دن دنیا بھر میں پاکستانیوں اور کشمیری عوام کی طرف سے ہونے والی تقریبات اور سمینار میں کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم اور ناانصافی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
پیپلز پارٹی اور جمہوریت ہی پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے اور یوں پیپلز پارٹی قائد عوام کے الفاظ کے مطابق کشمیر اور پاکستان کے درمیان یک جان دو قالب کی عملی تصویر ہے اور دونوں لازم و ملزوم ہیں۔