مسئلہ کشمیر کا واحد حل‘ الجہاد و الجہاد!

05 فروری 2012
قدرتی حسن سے مالا مال وادی کشمیر میں سبزہ و گل کی بہار‘ رنگ برنگے پرندوں کی چہکار اور زعفران کی روح پرور مہکار تو ایسی ہی ہے جو صدیوں سے اس وادی خوش رنگ کا جمال رہا ہے۔ مگر اب یہاں کے باسیوں کے جسم گولیوں سے چھلنی‘ نوجوان ہی نہیں بوڑھے اور بچے تک بہیمانہ تشدد کا شکار‘ زندانوں کی سلاخوں کے پیچھے ایذا رسانی کا مسلسل عمل اور عفت مآب بیٹیوں کی عصمت دری کے احساس سے زخم زخم روح و قلوب اور قدم قدم پر بھارتی فوجیوں کی درندگی کے نشانات‘ آزادی کے پیدائشی حق کی آرزو کا شاخسانہ‘ وہ حق جسے بھارتی حکمرانوں نے سلامتی کونسل میں ساری دنیا کے روبرو تسلیم کرنے کا اعلان کیا مگر جو سراسر ڈھونگ ثابت ہوا اور ان کی آواز دبانے کے لئے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ پچھلے 64 سال سے ایک لمحے کے لئے رکا نہیں ہے جہاں یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت کشمیری عوام پر بھارتی مظالم پر بے حسی کا شکار ہے وہاں یہ زندہ حقیقت بھی ہے کہ دوسری بڑی اکثریت ان کی حالت زار پر شدید اضطراب کا شکار ہے اور یوم یکجہتی کشمیر دراصل اس اضطراب کا کھلا اظہار ہے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوجی درندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔ پابند سلاسل کئے جانے والے جوانوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ہزاروں کی تعداد میں صاحب عفت بیٹیوں کا گوہر عصمت لوٹا گیا لیکن نہ تو اس وحشت ناک صورتحال سے عالمی ضمیر کو کچوکے لگے اور بدقسمتی سے نہ ہی پاکستان میں برسراقتدار آنے والے حکمران عوامی اضطراب میں حصہ دار بن سکے اور اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ظالم بھارت کو سب سے زیادہ پسندیدہ ملک کا درجہ دیکر مظلوم کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے پاکستان میں صدر کے سب سے بڑے منصب پر فروکش آصف زرداری کی جانب سے بھارتی معیشت کی ترقی و استحکام میں کردار کی پیشکش کی جاتی ہے (ن) لیگ کے میاں نواز شریف بھارت سے تجارت کی خواہش کے اسیر نظر آتے ہیں۔ اے این پی کے اسفند یار ولی‘ ایم کیو ایم کے الطاف حسین بھارت کے لئے نرم گوشہ کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور تحریک انصاف کے عمران خان نے تو تجویز کیا ہے مسئلہ کشمیر کو دس سال کی طویل مدت ایک طرف اٹھا کر رکھ دیا جائے اس دوران باہمی تعلقات بہتر بنائے جائیں پھر مسئلہ کشمیر کی جانب توجہ دی جائے بادی النظر میں یہ بہت اچھی تجویز سمجھی جا سکتی ہے مگر اس کے اندر پوشیدہ نتائج اس مسئلہ پر ہمیشہ کے لئے مٹی ڈالنے کے مترادف ہیں آج جبکہ نئی نسل کو ناچ گانوں کے ذریعہ ان کے فکری تشخص سے دور کرکے بھارتی کلچر کا اسیر کرنے کی سازش زوروں پر ہے۔ حکومتی سطح پر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ یا جا رہا ہے مخصوص لابی کے دانشور کالم نگار اور اینکر پرسن نظریہ پاکستان کے تصور کو دھندلانے کی تگ و دو میں ہیں ایسے میں اگر مسئلہ کشمیر مسلسل دس سال تک بھولی داستان بنا دی جائے تو دس سال بعد اسے کون یاد رکھے گا؟ عالمی سازشیں دام ہمرنگ زمین اور غیر محسوس طریقے سے پروان چڑھائی جایا کرتی ہیں کشمیری عوام کو بھارتی درندوں کے ظلم و جور سے نجات نہ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے مل سکتی ہے نہ تجارت سے نہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی سے نہ کسی بھی سطح کے مذاکرات سے‘ اس کے لئے اس نعرہ کو عملی شکل دینی ہو گی کہ ”مسئلہ کشمیر قرارداد مذمت سے نہیں‘ ہندو کی مرمت سے حل ہو گا“ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ایسے جلوسوں اور مظاہروں سے نہیں بلکہ صرف اور صرف جہاد سے کشمیری عوام کو آزادی نصیب ہو سکتی ہے۔ سورہ النسا میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔”اور تم کو کیا ہوا کہ نہیں لڑتے اللہ کی راہ میں اور ان کے واسطے جو مغلوب ہیں مرد اور عورتیں اور بچے جو کہتے ہیں اے رب ہمارے نکال ہم کو اس بستی سے کہ ظالم ہیں یہاں کے لوگ اور کر دے ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی حمایتی اور کردے ہمارے واسطے اپنے پاس سے کوئی مددگار“ (آیت نمبر75)کیا اس ارشاد خداوندی کے بعد بھی پاکستان میں کسی مسلمان کو شک ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے لئے جہاد فرض نہیں ہو گیا؟؟؟