یکجہتی کشمیر کے حقیقی تقاضے

05 فروری 2012
حسب روایت اس سال بھی5 فروری پاکستانی قوم اہل کشمیر اور اُن کی جدوجہد آزادی کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے، پاکستانی قوم نے کشمیری عوام کو کبھی خود سے جدا تصور نہیں کیا۔ بھارت 64 سال سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ سات لاکھ جدید اسلحہ سے لیس فوج 23سال سے بے گناہ اور نہتے کشمیری مسلمانوں کے قتل عام اور ہر طرح سے ظلم و تشدد کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہو چکی، اعداد و شمار کے مطابق 1989ءسے لیکر اب تک 95ہزار 600 افراد شہید ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد معذور عورتیں بیوہ بچے یتیم اور لوگ جیلوں میں بند ہیں، خواتین کی عصمت دری اور بے حرمتی کے ہزاروں واقعات، لاکھوں کی تعداد میں املاک جلا کر تباہ کر دیا گیا، اس عرصہ میں 8 ہزار افراد لاپتہ ہیں، آئے دن اجتماعی قبروں کا انکشاف، پھر کالے قوانین مقدمہ چلائے بغیر لوگوں کا قتل عام، ایک معمولی سپاہی کو بھی قتل عام، تلاشی بلا اجازت گھر میں داخل ہونے کی کھلی چھٹی ہے، کشمیری عوام کا بچہ بچہ بھارتی استبداد کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے، آزادی سے کم حل قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، جدوجہد آزادی میں ہر علاقہ اور زندگی کے ہر شعبہ کے لوگ شامل ہیں، تحریک کچلنے کیلئے بھارت ہر حربہ استعمال کر رہا ہے، ریاستی دہشت گردی اور کرفیو حریت راہنماﺅں پر حملے اور نظر بندی روزانہ کا معمول ہے، بعض اوقات تو نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرنے دی جاتی، بھارتی کی یہ دیدہ دلیری اور بے شرعی عالمی اداروں کیلئے پیغام ہے بھارت کے ان مظالم پر ان کے غیر جانبدار تجزیہ نگار سابق جرنیل دانشور صاحب رائے لوگ بھی اپنی تحریروں اور زبانی سیاسی حل نکالنے پر زور دے رہے ہیں، مقبول دانشور درارون وتی رائے نے ریاست میں دہشت گردی ختم کرنے فوج نکالنے اور بات چیت پر زور دیا تو اس کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا۔ یہ امر واقع ہے کہ بھارت جب بھی وہ تحریک آزادی کو ختم کرنے اور دبانے میں ناکام ہوا تو اس نے عوام کی آزادی اور حق خود ارادیت کی آواز کو دبانے کیلئے پاکستان پر مداخلت کا الزام لگایا اور پاکستان کو بدنام کرنا شروع کر دیا حالانکہ کشمیریوں کی جدوجہد حق خود ارادیت ان کی اپنی اور خالصتاً پُرامن ہے۔ یہ ا یک ہمہ گیر تحریک ہے اس میں مسلمان مرد عورتیں اور بچے شامل ہیں اور زندگی کے تمام شعبہ جات میں جاری ہے، آل پارٹی حریت کانفرنس کی ساری قیادت یکجا ہے ان سب کی ایک آواز ہے وہ بھارتی سامراج سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی کے مطابق اپنے وعدے پورے کرے اور آل پارٹی حریت کانفرنس کی اپیل پر بعض اوقات کئی لاکھ کے پُرامن احتجاج ہوتے ہیں، تحریک آزادی کا اہم پہلو اور مقصد ایک ہے، شروع دن سے اسلام اور پاکستان کا نعرہ ہے، پاکستان کے ہر قومی دن 14اگست، 23مارچ کو اپنا قومی دن مناتے ہیں اور بھارت کے ہر قومی دن کو کشمیر یوم سیاہ مناتے ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں میں پاکستان کی کامیابی کی دعا مانگتے ہیں اور پھر کامیابی پر شکرانہ کے نوافل ادا کرتے ہیں، پاکستانی پرچم لہرائے جاتے ہیں اور اسے سلامی دیتے ہیں، ان سب باتوں سے تحریک آزادی کے تسلسل کا ثبوت ملتا ہے، تحریک کا تشخص اور منزل بھی واضح نظر آتی ہے۔ اسلامیان کشمیر کا تصور آزادی پہلے دن سے پاکستان سے وابستہ ہے بھارت اس نظریہ اور تحریک کو کچلنے کیلئے ہر ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے، بھارتی سامراج کو اس بات کا اچھی طرح پتہ ہے وہ کچھ بھی کرے اس تحریک کو کچلنا آسان نہیں ہے اور کوئی تشدد کا راستہ اس جدوجہد کو ختم نہیں کر سکتا، کیا انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کو بھارت کی درندگی نظر نہیں آتی اُن کا دل پتھر ہو چکا ہے، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، وہ جذباتی بات نہ ہے کشمیر سے آنے والے دریا ہماری زندگی میں رواں دواں ہیں، کشمیریوں نے ا پنے خون سے اس نعرے کو زندہ رکھا آج جو بھارت مذاکرات کی باتیں کرتا ہے وہ ان شہدا کے خون کا نذرانہ ہے۔کشمیری پاکستان کی بلاتنخواہ فوج ہیں، وہ پہلے پاکستانی ہیں، ان کی ہر ممکن مدد کی جائے کیونکہ کشمیری پاکستان کی سلامتی بقاءاور تکمیل کی جنگ لڑ رہے ہیں۔