سیرت رسولﷺ کا چمکتا سورج

05 فروری 2012
12 ربیع الاول کو انسانی تاریخ میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس نے دور جاہلیت کی تاریکی کو روشنی میں تبدیل کر دیا۔ رحمة للعالمینﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تو بقول ابن ہشام کسریٰ نے اپنی حکومت کی بربادی کا خواب دیکھا۔ ایران میں زلزلہ آیا جس سے قصر شاہی کے کنگرے گر گئے۔ صدیوں سے جلتا آتش کدہ بجھ گیا۔ ایک جھیل سوکھ گئی۔ صحرا میں ایک ندی نمودار ہو گئی۔ ایک گمنام شاعر نے محسن انسانیتﷺ کی ولادت باسعادت کو بڑے خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔
گم صم تھی دونوں جہاں کی حقیقت میرے بغیر
میں آگیا تو ارض و سما بولنے لگے
حضور اکرمﷺ سفر کرتے تو بادل آپﷺ پر سایہ کرتے۔ درخت اور پتھر آپﷺ کی رسالت کی شہادت دیتے۔ اہل مکہ آپﷺ کو امین اور صدیق کہہ کر پکارتے اور اپنے تنازعات حل کرانے کے لیے آپﷺ کو ثالث تسلیم کرتے۔ آپﷺ کے کردار کے سورج نے مشرکین کے دلوں کو منور کر دیا۔ مسلمان اپنے عقیدے اور وسائل کے مطابق محبوب خدا کا یوم ولادت مناتے ہیں۔ میلاد کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ قرآن خوانی ہوتی ہے۔ چراغ جلتے ہیں۔ سیمینار منعقد کر کے حضور اکرمﷺ کی سیرت کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ غریبوں میں کھانا تقسیم ہوتا ہے۔ عید میلادالنبی کی رات عمارتوں، مسجدوں اور سڑکوں کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے۔ آج کے دن ایک ایسی عظیم ہستی نے جنم لیا کہ جس نے بت پرستی کے خلاف آواز اُٹھائی۔ اس کی آواز اتنی اثر انگیز اور انقلاب آفریں تھی کہ عرب کے بت پرست بت شکن بن گئے۔ انہوں نے خلوص و ایمان کی بے پناہ قوت اور کردار کی پختگی سے لا الہ الا للہ کی تحریک شروع کی۔ پوری دنیا اس انقلابی تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔ خدا اور اس کے رسول کی سچائی کا اعجاز ہے کہ آج دنیا کا کوئی ایسا شہر نہیں ہے جہاں سے اللہ اکبر کی صدا بلند نہ ہوتی ہو۔ خدا کے آخری بنی نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا:”میرے بعد بڑے بڑے اختلافات دیکھو گے۔ میری جانی پہچانی سنتوں اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقوں سے وابستہ رہنا انہیں مضبوطی سے تھام لینا اور دین میں گھڑی ہوئی باتوں ”بدعت“ سے بچنا“۔
حضور اکرمﷺ انسان کامل تھے انہوں نے نبی ہونے کے باوجود مکمل انسانی زندگی گزاری تاکہ مسلمان ان کی سیرت پر عمل کر سکیں اور انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہ ہو جس کا نمونہ انسانوں کے پاس نہ ہو۔ جرنیل، تاجر، حکمران خاوند، سیاست دان، مربی مرشد، دوست ، پڑوسی، مسافر، ہمسفر، امام، مجاہد، باپ، بچے، نوجوان، بزرگ، بیوروکریٹ سب محسن انسانیت کی زندگی سے استفادہ کرسکتے ہیں۔حضور اکرمﷺ کا زمانہ شراب خوری، بت پرست اور عیش و عشرت کا زمانہ تھا مگر آپﷺ کا دامن آلائشوں سے پاک رہا اور بدترین دشمن کو بھی عیب جوئی کا حوصلہ نہ ہوا۔ ذاتی کردار اس قدر پختہ تھا کہ جب قریش کے سرداروں نے ان کو دولت اور خوبصورت عورتوں کی پیش کش کی تو حضور اکرمﷺ نے فرمایا:”خدا کی قسم میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں تو خدا کے دین کے نہیں چھوڑوں گا“۔
حضور اکرمﷺ اگر چاہتے تو شاہانہ زندگی بسر کرتے مگر انہوں نے اختیار ہونے کے باوجود سادہ زندگی بسر کی۔ ان کا لباس قمیض، چادر اور تہمند پر منحصر تھا ۔ وہ جوکی روٹی کھاتے تھے اور کبھی کبھی کھجور اور پانی پر گزارہ کرتے تھے، چٹائی پر سوتے تھے۔ گھر کی صفائی کرتے، مویشیوں کو چارہ ڈالتے، بکریاں چراتے، پھٹے کپڑوں کو پیوند لگاتے، اپنے جوتے خود گانٹھتے، نوکروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ مسجد کی تعمیر میں اپنے ہاتھوں سے کام کر کے حصہ لیتے انہوں نے وفات کے بعد کوئی جائیداد نہ چھوڑی۔ حضور اکرمﷺ قانون کی بالادستی اور مساوی انصاف پر یقین رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ایک امیر خاتون چوری کے جرم میں پکڑی گئی۔ بعض صحابہؓ نے اس کی سفارش کی حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے قو میں اس لیے تباہ ہو جایا کرتی تھیں کہ معمولی لوگ جرم کرتے تو انہیںسزا ملتی اور بڑے لوگ جرم کرتے تو حکام انہیں چھوڑ دیتے۔ میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دوں گا۔[مسلم، ترمذی] مسلمان نماز پڑھتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ۔ یہ تمام فرائض تزکیہ نفس کے لیے تھے۔ انسانوں کو صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات بنانے کے لیے تھے مگر افسوس مسلمانوں نے حضور اکرمﷺ کی سیرت کو چھوڑ دیا۔ ہم حضور اکرمﷺ سے عقیدت اور محبت کا اظہار تو کرتے ہیں ان پر درود و سلام بھی بھیجتے ہیں۔ ناموس رسالتﷺ پر لڑنے مرنے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں مگر ان کی سیرت پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آئیں آج کے مبارک دن پر عہد کریں کہ ہم محسن انسانیت کی سیرت پر عمل کریں گے ان کے احکامات بجا لائیں گے تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں سر خرو ہوسکیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ”حضور اکرمﷺ کی زندگی سب کے لیے بہترین نمونہ ہے“۔عاشق رسول علامہ محمد اقبال نے فرمایا۔
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
گربا او نہ رسیدی تمام بو لہبی ایست
ترجمہ:۔ حضرت محمد ﷺ کے نقش قدم پر چلو کہ یہی دین ہے اگر ان کی سیرت پر عمل نہیں کرو گے تو یہ ابو لہب کا راستہ ہوگا“۔