5 فروری ۔۔۔۔۔۔۔ یوم یکجہتی کشمیر اور اس کے تقاضے

05 فروری 2012
(پروفیسر الیف الدین ترابی)
Email:turabi786@gmail.com
5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی حیثیت سے سب سے پہلے 1990 میں منایا گیا اور یہ دن منانے کی اپیل سب سے پہلے جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر جناب قاضی حسین احمد صاحب نے 5 جنوری 1990 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران میں کی تھی۔ انہوں نے کشمیر ی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اس دن کو پورے پاکستان میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے اس دن کو قومی سطح پر منانے کے اعلان کے بعد یوں تو اس دن کو پورے ملک میں خصوصی طور پر منانے کا اہتمام کیا گیا۔
یہاں یہ ملحوظ رہے کہ 5 فروری کو پورے پاکستان میں تحریک آزاد کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دن کے طور پر منانے کا مقصد جہاں یہ تھا کہ تحریک آزادی کشمیر کو پورے پاکستان کی سطح پر اجاگر کیا جائے، وہاں اس کا ایک بڑا مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستانی عوام میں اس شعور اور احساس کو اجاگر کیا جائے کہ آزادی کشمیر کی تحریک خود پاکستان کے بقاءوسا لمیت کی تحریک ہے اور اگر پاکستان کے بقاءکی یہ جنگ کشمیر میں نہ لڑی گئی تو کل یہ جنگ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں لڑنا پڑے گی۔ اسی طرح اس دن کو پورے عالم اسلام کی سطح پر منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس شعور اور احساس کو اجاگر کرنا تھا کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیری مسلمانوں کا یا پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے، اس لئے کہ بھارت کے سامراجی عزائم کا دائرہ صرف کشمیر یا پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری ملت اسلامیہ تک پھیلا ہوا ہے۔
5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس دن پوری قوم بشمول حکومت اس عہد کی تجدید کرے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کی تائید و حمایت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی اور کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جو تحریک آزادی کشمیر کے تقاضوں کے منافی ہو۔ اسی طرح یوم یکجہتی کشمیر کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس عہد کی تجدید کی جائے کہ جب تک بھارت کشمیر کے مسئلے کو متنازعہ مان کر اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہ کرے اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہ قائم کیے جائیں، نہ سیاسی ،نہ ثقافتی اور نہ ہی تجارتی۔ نیز 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جب تک کشمیر میں ایک بھی بایرتی فوجی موجود ہے اور وہاں ہماری ما¶ں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ہیں، بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہ کئے جائیں، مزید براں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جب تک بھارت کشمیر کے دریا¶ں پر بند بنانے کے خوفناک منصوبوں سے باز نہیں آجاتا۔ اس سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہ کئے جائیں۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات صرف مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے، بھارتی فوجوں کی واپسی اور کشمیر کے دریا¶ں پر بند باندھنے کے سلسلے کو روکنے کے موضوعات پر ہونے چاہئیں۔
یہ ایک امر واقعہ ہے کہ ہمارے بعض دانشور اور سیاستدان اس سلسلے میں بھارت کے اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو رہے ہیں جو وہ امن کی آشا کے نام سے کر رہا ہے، حالانکہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس سلسلے میں بھارت کی پالیسی قدیم بھارتی مفکر اور دانشور چانکیہ کے اس قول پر مبنی ہے کہ ”جب تم اپنے دشمن کو مارنا چاہو تو اس سے دوستی پیدا کرو اور جب اسے مارنے لگو تو اسے گلے لگا¶ اور جب مار چکو تو اس کی لاش پر آنسو بہا¶“
اور یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس سال حکومت پاکستان کی طرف سے کشمیر ی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ایسے حالات میں منایا جارہا ہے جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جا چکا ہے اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے یہ افسوسناک بلکہ شرمناک فیصلہ اس امر کے باوجود کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی آٹھ لاکھ سے زیادہ قابض فوجیں ہماری ما¶ں، بہنوں اور بیٹیوں کی سرعام عزتیں لوٹ رہی ہیں، صرف اس جرم کی پاداش میں کہ وہ اسلام کی نام لیوا ہیں۔ اسی طرح بھارتی فوجی درندے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے مسلمان بھائیوں کا قتل عام محض اس جرم کی پاداش میں کر رہے ہیں کہ وہ اسلام اور آزادی کے نام لیوا ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر کے قائد جناب سید علی گیلانی نے حکومت پاکستان کے اس اقدام کو تحریک آزادی کشمیر کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی مترادف قرار دیا ہے، لیکن ا س کے باوجود پیپلز پارٹی کے لیڈر او ر کارکن انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بڑے غمگسار اور غمخوار ہیں۔ ہماری حکومت اور قوم کی یہی وہ صورتحال ہے جس کا ماتم علامہ اقبال نے ان الفاظ میں کیا ہے۔
حمیت نام ہے جس کا گئی اس قوم کے گھر سے

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...