یومِ یکجہتی کشمیر کے تقاضے

05 فروری 2012
یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت کا مقصد عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت پر ادراک پیدا کرکے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل تلاش کرنے اور دنیا کے اس اہم خطہ میں پائیدار امن کے قیام کیلئے راہ ہموار کرنا ہے اس سلسلہ میں دنیا بھر کے ممالک میں آباد مسلمان بالعموم اور بالخصوص پوری پاکستانی قوم مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے ساتھ اپنی بھرپور یک جہتی کے اظہار کیلئے تمام ممکنہ وسائل اور کاوشیں بروئے کار لا رہی ہے راقم اس سلسلہ میں کشمیر کی بنیادی حیثیت قوم کے دل و دما غ میں واضع کرنے کیلئے حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے اپنے الفاظ میں کی گئی رہنمائی نہ صرف قارئین کرام بلکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں پارلیمنٹ اور اسکی مقرر کردہ پارلیمانی کمیٹی جس کے صدر مولانا فضل الرحمن ہیں کی نظر کرناچاہتا ہے قائداعظم نے فرمایا ہے
” کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظر انداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی ثقافتی ،مذہبی،جغرافیائی،معاشرتی اور سیاسی طورپر پاکستان کا ایک حصہ ہے جب بھی اور جس نقطہ سے بھی نقشہ پر نظر ڈالی جائے گی یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ کشمیر سیاسی اور دفاعی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے کوئی ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ اپنی شہ رگ کو دشمن کی تلوار کے نیچے دیدے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ایک ایسا حصہ ہے جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا“
قیام پاکستان سے لیکر آج تک پورے جنوبی ایشیا ءکا امن اور تعمیر و ترقی اس زیر التواءبین الاقوامی تنازعہ اور اسکے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہوسکنے کے باعث ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین خونریز جنگیں ہوچکی ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد کی ایک نجی دعوت میں جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندے شریک تھے میری ملاقات بھارتی راجیہ سبھا کے ایک معروف رکن جناب مانی شنکر آئر سے ہوئی جو ایک سرگرم سابق وزیراور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے علاوہ کانگرس کی صدر سونیا گاندھی کے قریبی مشیر بھی رہ چکے ہیں بلکہ اب بھی اعلیٰ سطحی پالیسی سازی کے مشوروں میں شرکت کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر جناب شرط سبر وال بھی ان کے ساتھ اس تقریب میں شامل تھے میں نے جناب مانی شنکر آئر سے مسئلہ کشمیر پر جسکی بنا پر دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات اُوپر نصف صدی کے اور جس بنا پر جنوبی ایشیاءکے 150 کروڑ عوام غربت اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں بھارتی حکومت اس مسئلہ کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جس کا بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے وعدہ کیا تھا پیش رفت میں سنجیدہ کاوش کی بجائے لیت و لعل کا شکار کیوں ہے جس کے باعث تین جنگوں کے باوجود مسئلہ کے حل کی طرف نتیجہ نفی کے برابر ہے مانی شنکر آئر نے بلا تعطل مسکراتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا وہ ایک لمبی داستان ہے دونوں ممالک کی حکومتوں نے ماضی سے بہت کچھ سیکھا ہے اسی لئے موجودہ حکومتیں مسائل کو جنگ کی بجائے گفت و شنید کے ذریعے حل تلاش کرنے کیلئے سنجیدگی سے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہیں دونوں ممالک کے پرائم منسٹرز کے تازہ ترین بیانات ایک دوسرے پر اعتماد کے مظہر اور آئینہ دار ہیں اُن کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ایک نہ صرف ماہر سیاستدان بلکہ اپنے طرز بیان اور الفاظ کے انتخاب میں تمام اسلوب کے بھی ماہر ہیں میں نے موزوں الفاظ میں حقائق کی روشنی میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی مذاکرات کا طویل عمل ہمیشہ بے نتیجہ ثابت ہوا ہے کیونکہ کسی نہ کسی بہانہ سے کبھی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر دہشت گردی اور کبھی بمبئی میں تاج محل ہوٹل پر بم دھماکے مذاکرات کے عمل میں کبھی بھارتی فوج کشی اور کبھی مذاکرات میں طویل تعطل پیدا کرکے کشمیر پر بھارتی تسلط کو تقویت دیتے ہیں وزیراعظم راجیو گاندھی کے وعدہ کے مطابق سیاچین سے بھارتی فوجوںکا ابھی تک انخلاءنہیں ہوا اور اسی طرح سمندری مسائل اور دریاﺅں کے پانی کا مسئلہ جوں کا توں پڑا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اب بھارتی حکومت یہ بہانہ بنائے گی کہ پاکستان میں اب جلد انتخابات ہونے والے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم پر توہین عدالت کے نوٹس اور دیگر تناﺅ کے حالات کے باعث بامعنی مذاکرات اب انتخابات کے بعد ہی ہوں گے جس پر مانی شنکر آئر نے پُر زور میری تردید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میںبھی نہ صرف وزیروں بلکہ فوجی جرنیلوںپر بھی الزامات لگتے اور مقدمات چلتے رہتے ہیں اسلئے پاکستان کے موجودہ حالات پر بھارت کو کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ یہاں تمام ادارے جمہوری عمل کے تسلسل کے ساتھ سرگرم عمل ہیں ۔پاکستان کے عوام اور حکومت کو عہد نو کرناچاہئے کہ ہم اپنے گھوڑے تیار رکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان کے اندر اپنی صفوں میں ایمان،اتحاد اور تنظیم کو مزید مستحکم کریں گے بلکہ دنیا اسلام کو اور خصوصی طورپر ترکی،ایران،سعودی عرب،پاکستان اور چین کے ساتھ سیاسی،اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مضبوط اور مربوط کرتے ہوئے ایک سٹرٹیجک پارٹنر شپ کے سانچے میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش بروئے کار لا کر اسے یقینی بنانے میں دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔