دانائے سُبل، ختم الرسُل، مولائے کلﷺ

05 فروری 2012
وہ اولِ بہار وہ پیر کی صبح نودمیدہ وہ جہانِ رنگ و بو کی خاتونِ اول کا کاشانہ نور اور ایسے میں سرِالوہیت، نبوت و رسالت بدست، مستِ مے الست کتاب کا نور اور نور کتاب سرخیل انبیاءو رسل، دانائے سُبل، ختم الرسُل، مولائے کل احمد محمدﷺ اس عالم خاکی میں جلوہ افروز ہوئے
مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
ان کا پروٹوکول دیکھئے کہ ایک لاکھ سے اوپر انبیاءعلیھم السلام ان کی آمد سے پہلے ان کی آمد کی نوید سناتے رہے۔ ان کے مشن کی تفصیلات سے عالمِ بشریت کو آگاہ کرتے رہے اور بالآخر وہ گھڑی آ پہنچی
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
آپ نے غور کیا ہو گا کہ غالب نے یہ کیوں کہا کہ
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
(غالب میں نے اپنے آقا کی ثناءاللہ پر چھوڑ دی ہے! کہ وہ ہی اس ذات پاک کے مقام و مرتبے کو جانتا ہے)
رسول اللہ پیغمبرِ انقلاب تھے، اور یہ انقلاب انہوں نے اس انداز میں برپا کیا کہ دنیا نے کروٹ لی، آدمی کو انسان اور انسان کو ایک راہ پر ڈال دیا۔ آپ کی آمد سے پہلے بھی بے شمار انبیاءعلیھم السلام آتے رہے اور ایک پلیٹ فارم بنا کر دنیا سے چلے گئے، اس لئے انسانیت کی پرداخت کا کریڈٹ انبیاءسابق کو بھی جاتا ہے، سب نے نبی آخرالزمان کے مشن کے لئے ہی کام کیا لیکن وہ ہستی جس کے بارے حدیث قدسی ہے کہ ”لولاک لما خلقت الافلاک“ (اگر تم نہ ہوتے تو میں کائنات کو پیدا ہی نہ کرتا) نے آ کر آسمانی مشن کو تکمیل تک پہنچایا۔ آپ کی ولادت ہوئی تو قصرِ کسریٰ کے کنگرے گر گئے۔ آتش کدہ¿ فارس بجھ گیا انہی نشانیوں سے ہی اندازہ لگا لینا چاہئے تھا کہ رحمتہ للعالمین کا ظہور ہو چکا ہے۔ اللہ چاہتا تو اسلام کی تکمیل براہ راست بھی کر سکتا تھا لیکن اپنے پسندیدہ دین اسلام کو اپنے اس حبیب لبیب کے ہاتھوں مکمل کرنا پسند فرمایا جس کی عظمتِ شان دیکھیں کہ اللہ جل جلالہُ نے فرمایا (بلاشبہ اللہ اور اس کے فرشتے نبی اکرم پر درود و سلام بھیجتے ہیں اس لئے اے ایمان والو! تم بھی ان کی ذات اقدس پر درود و سلام پیش کرو) انہوں نے کس طرح ایک اسلامی شورائی ریاست کی بنیاد رکھی۔ اسے پاﺅں پر کھڑا کیا، انصار و مہاجرین کو شیر و شکر کیا۔ ہجرت فرمائی، معاہدے کئے، سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا تاآنکہ وہ سب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے جو مخالف تھے مگر ماسوا ان کے جن کو اللہ نے ان کی بری نیتوں کے سبب ہدایت نہ دی وہی باہر رہے اور نسیاً منسیّا ہو گئے۔ زندگی کے تمام معاملات کے نمونے پیش کئے پھر ان سے نمٹنے کے طریقے بتائے اور یوں ایک ایسی امت کی داغ بیل پڑی کہ آج دنیا کا کوئی حصہ نہیں جہاں اذان کی آواز نہ گونجتی ہو اور اذان بھی غور فرمائیں تو اسلام کا ایک اجمالی منشور ہے۔ رسول اللہ کی خانگی زندگی بھی امت بلکہ تمام اقوام عالم کے سامنے نمونے کے طور پر رکھ دی گئی اور آپ نے اپنی زندگی کی ایک ایک ادا کو اپنے صحابہ کرامؓ میں اس طرح سرایت کر دی کہ ہر صحابیؓ ان کے کردار کا عکس تھا۔ غزوات سے لے کر اجتماعی خطبوں تک ان کے ہر لفظ و عمل سے یہی فکر ٹپکتا ہے کہ مسلمان جیسا بھی ہو اسے ضائع مت کرو الا یہ کہ وہ اسلام کی عمارت گرانے پر آمادہ ہو جائے تو اسے اپنا نہ سمجھو۔ ہم یہاں صرف توہین رسالت ہی کے مسئلے کو دیکھیں تو صاف عیاں ہے کہ رسالت، توحید کی عقلی دلیل ہے وگرنہ خدا کو کسی نے اپنی آنکھوں سے تو نہیں دیکھا۔ ایک سچے نے کہا وہ ہے اور ایک ہے۔ ایسا سچا جس کے سچ کی گواہی دشمنوں نے بھی دی۔ اب جو بھی توحید کے خلاف کام کرے گا وہ پہلے اس کی دلیل (رسالت) کو مشکوک بنائے گا یا اس کی بے حرمتی کرے گا اور یوں توحید کو خطرہ لاحق ہو جائے گا اس لئے ایسے شخص کے قتل کا حکم دیا۔ اگر ان کی اپنی ذات کا مسئلہ ہوتا تو وہ توہین رسالت کرنے والے کو ہرگز موت کی سزا کا حکم نہ دیتے کیونکہ وہ نبی رحمت ہیں۔ رسول اللہ کی ذاتِ اقدس سے محبت جزو ایمان ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ ہر لمحہ ہر لحظہ تا بروز قیامت اپنی امت کے ایک ایک فرد کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتے۔ آج ذرا امتِ مرحومہ بلکہ مظلومہ کی جانب جب وہ دیکھتے ہوں گے تو انہیں کتنی تکلیف ہوتی ہو گی۔ وہ وادیِ کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والوں کو بھی دیکھتے ہوں گے اور ہماری بے حمیتی بھی پیش نظر ہو گی کہ کس طرح ہم اپنے پہلو میں کشمیری مسلمانوں کی تڑپتی لاشوں کی پکار نہیں سنتے جہادِ کشمیر ہم پر فرض ہو چکا ہے اور ہم نے اس پانچویں رکن کو پسِ پشت ڈال دیا ہے کیا اپنے پیارے نبی سے محبت کا تقاضا نہیں کہ مقبوضہ کشمیر کو کفارِ بھارت کے استبداد سے آزاد کرائیں۔ اگر ہمارے پچھلے مسلمان اللہ کی راہ میں جہاد نہ کرتے تو آج اس خطے میں ایک بھی مسلمان نہ ہوتا۔ کشمیری مسلمان خواتین کے ساتھ ہندو ظالم جو کچھ کر رہے ہیں کیا اس یوم میلادِ مصطفیٰ پر ہم جہاد کشمیر کا عہد نہیں کر سکتے اگر ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ غزوہ ہند والی حدیث بھی بھول گئے ہیں تو پھر ہمیں عاشقانِ رسول کہلانے کا بھی حق حاصل نہیں۔ یہ غزوہ ہند دراصل غزوہ کشمیر ہے تو یہ جان لیجئے کہ بس ارادے اور حرکت میں آنے کی دیر ہے رسول اللہ کی روحِ پرفتوح اس کی قیادت کرے گی۔ یوم میلادِ مصطفیٰ منانے کا حق یہ ہے کہ جہاد کشمیر کا اعلان کر دیا جائے اور سات لاکھ ہندو فوج کے ہاتھوں مسلمان خواتین کی بے حرمتیوں کو روکا جائے۔ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرایا جائے وگرنہ یہ عشق حبیب خدا کے دعوے جھوٹے ہیں۔ عشق رسول تو یہ ہے کہ
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب
مردانِ پاکستان عاشقانِ رسول ہیں تو جہادِ کشمیر کا تحفہ بحضور سرور کائنات پیش کریں۔