مسئلہ کشمیر اور حق خود ارادیت کا اطلاق

05 فروری 2012
غلام نبی فائی
14 اگست 1941ءکو برطانوی وزیراعظم چرچل اور امریکی صدر روز ویلٹ کی جانب سے جاری کردہ معاہدہ اوقیانوس نے تمام لوگوں کیلئے اپنی پسند کا طرزِ حکومت منتخب کرنے کے حق کی توثیق کردی انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ لوگوں کی آزادی و خود مختاری کے حقوق انہیں واپس لوٹا دئیے جائیں جن سے انہیں بزورِ قوت محروم رکھا گیا تھا۔بالآخر1945ءمیں اقوام متحدہ کے قیام کی بدولت حق خود اختیاری کے اصول کو نئی جہت عطا ہوئی۔یہ اقوام عالم کے یکساں و مساوی حقوق سے منسلک اقوام متحدہ کے مقاصد میں سے ایک قرار پایاجس کے حصول کےلئے اسی ادارے نے ہمیشہ کوشاں رہنا تھا۔
خود ارادیت کے اصول کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام سے علیحدہ کرنا ناممکن ہے۔ کشمیری عوام کے حقِ خود اختیاری سے انکار کے باعث جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک‘ ہندوستان اور پاکستان‘ ایٹمی جنگ کی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ حالانکہ جموں و کشمیر کیلئے خصوصی طورپر حقِ خود اختیاری کے اصول کا اطلاق اقوام متحدہ نے برملا طور پر تسلیم کر رکھا ہے اور جب مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا تو ہندوستان اور پاکستان دونوں نے اس اصول کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا۔
اس مسئلہ کے تینوں فریق یعنی کشمیر کے عوام، پاکستان اور ہندوستان اس بات پر متفق تھے کہ جموں و کشمیر کی حیثیت پر تنازعے کا تصفیہ صرف یہاں کے عوام کی مرضی سے ہوسکتا ہے جسے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریق کار سے ہی معلوم کیا جائےگا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اسی نقطہ نظر کی بغیر کسی اختلاف کے حمایت کی اور امریکہ، برطانیہ و دیگر جمہوری ملکوں کی جانب سے اسکی نمایاں طورپر تائید کی گئی۔
ہندوستان یا پاکستان دونوں کی منظور کردہ کمیشن کی 13 اگست 1948ءکی قرارداد کے حصہ سوم میں کہا گیا ہے :
” ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں اپنی اس خواہش کا اعادہ کرتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کی حیثیت کا تعین یہاں کے عوام کی مرضی کےمطابق ہوگا۔ اسکے حصول کی خاطر دونوں ملکوں کی حکومتیں باہم جنگ بندی کے سمجھوتے کو قبول کرتے ہوئے یہاں آزادانہ اور منصفانہ صورت حال پیدا کرنے کیلئے کمیشن سے صلاح مشورہ جاری رکھنے پر رضا مند ہوگئی ہیںتاکہ ( عوام کے) آزادانہ اظہار رائے کو یقینی بنایاجاسکے “۔
رائے شماری کا معاملہ صرف اس وقت متنازعہ ہوا جب ہندوستان کو محسوس ہوگیا کہ لوگوں کا ووٹ اُسکے حق میں نہیں ہوگا۔ سرد جنگ کے باعث سوویت یونین کی صورت میں اُسے اپنی مخاصمانہ پالیسی کی کھل کر اور پوری طرح حمایت کرنے والا میسر آگیا۔اب سرد جنگ کے خاتمے کےساتھ(مسئلے کا) حقیقی پیش منظر بحال ہونا چاہئے۔ رائے شماری کے انعقاد کا عمل ہندوستان کے کشمیر سے اپنی فوجوں کی کثیر تعداد میں واپسی کی کسی بھی تجویز کو قبول کرنے اور رائے شماری کے منتظم کی یہاں موجودگی کیلئے ضروری جنگ بندی کے سمجھوتے کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کی بنا پر رُک گیا اور جب کمیشن (UNCIP) نے اس بارے میں سلامتی کونسل میں رپورٹ پیش کی تو آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز قانون دان سراوون ڈکسن کو ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے بیک وقت انخلاءکیلئے گفت و شنید کی خاطر اقوام متحدہ کا نمائندہ خصوصی مقرر کیا گیا تاکہ اقوام متحدہ کی نگرانی کے تحت غیر جانبدارانہ رائے شماری کیلئے میدان ہموار ہوسکے۔اپنی پوری تگ و دو کے بعد اُس نے 15 ستمبر 1950 ءکو سلامتی کونسل کو رپورٹ پیش کی کہ :
” بالآخر میں اس بات کا قائل ہوچکا ہوں کہ کسی بھی طرح کے فوجی انخلاءکے بارے میں حکومت ہندوستان کی منظوری ملنا ناممکن ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی طرح رائے شماری کی ان شرائط سے متفق ہوسکتی ہے جو میرے خیال کےمطابق کسی بھی قسم کی دھونس دھاندلی اور بیرونی اثرات سے تحفظ فراہم کرینگے تاکہ رائے شماری کا منصفانہ اور آزادانہ انعقاد خطرے میں پڑ جائے “۔
15جون1962ءکو اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے ایڈلائی سٹیونسن نے بیان دیا: ” کسی بھی اختلافی معاملے کو حل کرنے کیلئے بہترین طریق کار اُس مسئلے کے ان پہلوﺅں کی تلاش ہے جن پر فریقین متفق ہوں۔ بلا شبہ میں یہاں اُن قراردادوں کا حوالہ دے رہا ہوں جنہیں دونوں فریقین نے قبول کیا تھا جو درحقیقت علاقے سے فوجوں کے انخلاءاور رائے شماری کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے سے متعلق ہیں۔ یہ بات عوام الناس کے حقِ خود ارادیت کے اصول کے عین مطابق ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل نمبر 1 میں اس ادارے کے قیام و وجود کا اہم ترین مقصد قرار دیا گیا ہے“۔
ان تمام تاریخی حوالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رائے شماری کے انعقاد کے طریق کار و انتظامات کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔ یہ سب باتیں نہایت تفصیل سے اقوام متحدہ کے کشمیر میں امن منصوبے پر عمل درآمد کیلئے مذاکرات کے دوران طے کی جاچکی ہیں۔دونوں ملکوںکی افواج کی مرحلہ وار واپسی،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے رائے شماری کے منتظم کا تقرر اس کا اپنا عہدہ سنبھالنا، اس کے اختیارات و رہنمائی کے تحت انتخابی عمل کا اجرائ۔اسکی جانب سے اپنے ضروری اختیارات کا استعمال یہ تمام باتیں فریقین کو پوری طرح معلوم ہیں۔ اگر ایک قابل اعتماد امن و سلامتی کا عمل شروع ہوجائے۔ گرچہ اس دوران چھوٹی موٹی رکاوٹیں و بد گمانیاں موجود رہیں گی لیکن اگر حکومت ہندوستان اور پاکستان اپنے بین الاقوامی معاہدوںپر عمل درآمد کیلئے پُر عزم رہیں اور سلامتی کونسل کا بھی اپنی قراردادوںپر عمل درآمد کا عزم صمیم ہوتو معمولی رکاوٹیں اسے روک نہیں سکتیں۔ مسئلے کے حل میں موجود مشکلات کی بجائے حل کو عملی جامہ پہنانے کے عزم و ارادے کی غیر موجودگی ہی تنازعہ کشمیر پر اتنے طویل تعطل کی وجہ بنی ہے۔اس تعطل کی بنا پر جہاں کشمیر کے عوام کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں یہ ہندوستان اور پاکستان کیلئے بے پناہ نقصان کا سبب بنا ہے۔برصغیر جنوبی ایشیاءجہاںدنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ آباد ہے،( تنازعہ کشمیر کے باعث) جو امن اس خطے سے روٹھ چکا ہے،اسے یہاں پر لایاجانا ضروری ہے۔
سوال ہے:تنازعے کے حل کی خاطر ایک منصفانہ اور پائیدار بنیاد فراہم کرنے کا کیا ذریعہ ہوگا؟ اس کا بڑا واضح جواب ہے۔ (۱) اقوام متحدہ کا چارٹر،جس کی پہلی ہی شق میں ” عوام کے حقوق کی برابری اور حقِ ارادیت کے اصولوں کے احترام“ کی بات کی گئی ہے اور (ب) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعے کے فریقین کے مابین بین الاقوامی سمجھوتہ۔ .... لہٰذا تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کی سنجیدہ مخلصانہ کوشش صورتحال سے حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے اور اس مسئلے کے متاثرہ عوام کے حقوق کے تحفظ کو مکمل طورپر یقینی بنانے سے مشروط ہے۔کمزور بنیادوںپر استوار امن کا عمل لازماً زمین بوس ہوگا۔ بلاشبہ کوئی ایسا طریق کار جس میں کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کو بالائے طاق اور اقوام متحدہ کے ادارے کونظر انداز کیا گیا وہ نہ صرف عملِ بے سود ثابت ہوگا بلکہ اسکے باعث بےحد و حساب انسانی و سیاسی نقصانات ہوسکتے ہیں۔