فقر نبوی کی نوعیت

05 فروری 2012
شریف بقاء(لندن)
رسول اکرم کو خدا تعالیٰ نے بہت سے محاسن و کمالات دےکر انسان کامل بنایا تھا تاکہ انکی ہر صفت ہمارے لئے قابل تقلید بن جائے۔ تاریخ انسانیت اس امر کی واضح اور ناقابل تردید شہادت دے رہی ہے کہ تمام کائنات میں انکی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ دنیا کا وہ کونسا خطہ ہے جہاں کے مکینوں نے انکی نبوت و رسالت کے صدقے میں بہت سے فوائد حاصل نہیں کئے ہیں۔ ان کے پیش کردہ نظام حیات نے اخلاق، تہذیب و تمدن، معاشرت، معاشیات، سیاسیات تعلیم و تبلیغ اور مذہب کے میدان میں ابدی نقوش مرتسم کر دیے ہیں۔ انکی ہمہ گیر کامل، بے مثال اور پرکشش، تعلیمات کی پیروی ہی میں بنی نوع انسان کی فلاح و فوز کا راز پنہاں ہے۔
حقیقی فقر کے بارے میں چند غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن کا رفع کرنا ضروری ہے۔ ایک فقر وہ ہے جس سے عموماً غربت، افلاس، گداگری، صفائی سے بے اعتنائی اور دنیاوی معاملات اور فرائض سے فراریت مراد لی جاتی ہے۔ اس قسم کا فقر خودی کی موت اور مستقل محتاجی کا آئینہ دار بن جاتا ہے۔ اسکے برعکس دوسرا فقر وہ ہے جس کی بنیاد قرآنی نظریہ حیات، اسوہ¿ رسول کی اتباع، خودداری، شان بے نیازی اور احساس خودی پر استوار ہوتی ہے۔ یہ فقر ہمیں دنیا و آخرت کی صفات، ظاہری اور باطنی صفائی، تسخیر کائنات اور سلاطین کی جبہ سائی سے پرہیز اور امیروں کی چاپلوسی سے گریز کرنے اور غیرت نفس کا سبق دیتا ہے۔ پہلا فقر اضطراری یعنی مجبوری کا ترجمان ہوتا ہے جبکہ دوسرا فقر اختیاری ہوتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود مال و دولت کی پوجا کرنے کی بجائے اس سے بے نیازی اختیار کی جاتی ہے اور اپنے مال کو راہ خدا میں بخوشی خرچ کیا جاتا ہے۔ نبی اکرم نے اسی اختیاری فقر کے مسلک کو اپنے لئے باعث افتخار قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا ”اَلفَقرُ فَخ±رِی±“
(فقر میرے لئے باعث فخر ہے) یہ فقر محمود یعنی قابل ستائش فقر ہے۔ یہ فقر رہبانیت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ یہ سراسر تعمیری انقلاب کی دعوت دیتا ہے جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے اسکے چند پہلوﺅں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے....
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی
تری نگاہ میں ایک فقر و رہبانی
سکوں پرستی¿ راہب سے فقر ہے بے زار
فقر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی
ہادی¿ اعظم اور محسن انسانیت حضرت محمد کی عظمت و رفعت اور کردار کا اندازہ لگائیے کہ آپ مدینہ ¿ منورہ میں اسلامی ریاست کے سربراہ بن چکے ہیں اور زندگی کی ساری سہولتیں حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے سادہ زندگی بسر کی۔ انکی یہ سادگی کسی غربت اور افلاس کا نتیجہ نہ تھی بلکہ یہ ان کا اختیاری فعل تھا تاکہ انکے غریب امتی بھی اس شیوہ زندگی کی تقلید کر سکیں۔ امیر مسلمانوں کے بھی اس سنت رسول کی پیروی لازمی ہے کیونکہ آنحضرت نے امیر ہونے کے باوجود سادہ طریق حیات کو اپنایا تھا۔ اس طرح مسلمان عوام اور خواص کو یہ تعلیم دینا مقصود تھا کہ وہ عیش و عشرت کی بجائے سادگی اختیار کریں۔مسلمان حکمرانوں کےلئے یہ خصوصی تعلیم تھی تاکہ وہ بیت المال اور عوامی خزانے کو اپنی ذاتی جائیداد خیال نہ کریں ہماری تاریخ میں کتنے مسلمان حکمران ایسے گزرے جنہوں نے رسول کریم کے سادہ طریق زندگی پر عمل کیا تھا؟ کیا آج کے متمدن اور نام نہاد مہذب دور میں بھی مسلمان حکمران اور سلاطین اپنی رعایا کے مال اور خدا کی امانت یعنی بیت المال کو اپنے اور اپنے خاندان کے تعیش کےلئے بے دریغ استعمال نہیں کر رہے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس اور ڈر ہے کہ قیامت کے روز انہیں اصراف بیجا اور کھلم کھلا استحصال کا حساب دینا ہو گا؟ ہادی¿ اعظم نے فرمایا تھا ”اَلفَقرُ فَخ±رِی±“
(فقر میرا فخر ہے) اس فقر سے مراد وہ غر یبی اور افلاس نہیں جو اضطراری یعنی مجبوری عمل ہو۔ یہ تو شان بے نیازی اور اختیاری عمل تھا ۔ علامہ اقبالؒ اسے اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر
جس فقر کی اصل ہے حجازی
اس فقر سے آدمی میں پیدا
اللہ کی شانِ بے نیازی
القصہ رسول اکرم نے جس فقر پر فخر کیا تھا وہ اختیاری فعل تھا۔ انہوں نے مال و دولت ہونے کے باوجود اپنی امت کے غریب اور مجبور انسانوں کےلئے اسے بطور مثال چھوڑا تھا تاکہ وہ غربت میں شان امارت و بے نیازی پیدا کریں اپنی خودی اور غیرت کو برقرار رکھ سکیں۔ غریب ہو کر اپنی خودداری، غیرت، عزت نفس، جفاکش اور بلند کردار کو برقرار رکھنا ہی قابل فخر ہے۔ دنیاوی فرائض اور گھریلو ذمہ داریوں کو چھوڑ کر گوشہ¿ مزلت اختیار کرنا اور جنگلوں کی خاک چھاننا رہبانیت ہے جسے اسلام نے پسند نہیں کیا ”لارہبانیة فی الاسلام“(اسلام میں رہبانیت نہیں ہے) کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ حضور کا فقر سادہ طرز حیات کا غمار تھا۔ وہ ہرگز انکی غربت کا نتیجہ نہیں تھا کہ وسیع و عریض اسلامی مملکت کے سربراہ کے پاس مال و دولت کی کمی کیسے ہو سکتی تھی؟ انکی اس سادگی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کپڑوں میں خود پیوند لگاتے، اپنا جوتا خود مرمت کرتے اور اپنے گھر کے کام کاج میں بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔ اس حقیقت کو غیر مسلم سکالرز نے بھی اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے۔ تھامس کارلائل لکھتا ہے:
ان کا گھرانہ سب سے زیادہ کفایت شعار تھا۔ ان کی عام خوراک جَو کی روٹی اور پانی پر مشتمل ہوتی تھی‘ انکے سوانح نگاروں کا کہنا ہے کہ وہ خود اپنے جوتوں کی مرمت کرتے اور اپنے لبادے میں پیوند لگایا کرتے تھے“۔
ON HEROES, HERO- WORSHIP AND THE HEROIC IN HISTORY:,P:61
موجودہ دور میں یہ سنت بھی ہمارے سیاسی قائدین اور مذہبی راہنماﺅں کیلئے قابل تقلید ہونی چاہئے۔ اگر وہ اس فقر نبوی کو اختیار کریں تو ان کی پیروی کرتے بے شمار مسلمان عوام بھی فضول خرچیوں سے نجات پاکر ملت کی خدمت کر سکیں گے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...