کشمیر کی آزادی تکمیل پاکستان ہے ....(۱)

05 فروری 2012
حافظ محمد سعید
1947ءمیں جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اس میں کشمیر کے مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی پوری دلجمعی ، یکسوئی اور پورے جوش و خروش سے حصہ لیا ۔ وہ کشمیر ی جو کسی وجہ سے نقل مکانی کر کے ہندوستان میں کسی جگہ آباد ہو گئے یا وہ کشمیری جو ریاست میں رہ رہے تھے سب نے پاکستان کے قیام کےلئے ہر قسم کی جانی و مالی قربانیاں دیں ۔ کشمیری مسلمانوں کی پاکستان کےساتھ محبت اور تعلق کی وجہ صرف کلمہ طیبہ تھی۔ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ “کے آفاقی نعرہ نے اہل کشمیر کو پاکستان کےساتھ جوڑ دیا ۔ چنانچہ 17جولائی کو جب برطانوی ہاﺅس آف لارڈز نے آزادی ہند کا قانون منظور کیا تو بغیر کسی توقف اور پس و پیش کے جموں کشمیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے صرف دو دن بعد 19جولائی کو متفقہ طور پر الحاق پاکستان کی قرار داد منظور کر لی تھی ۔یہ بات تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ برطانوی حکومت نے تقسیم ہند کا جو فارمولہ وضع کیا اور جو ایجنڈا طے کیا اسکی رو سے جموں کشمیر کا الحاق پاکستان کےساتھ ہونا چاہیے تھا مگر انگریزوں اور ہندوﺅں کی باہمی سازشوں کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا؟
سوال یہ ہے کہ انگریز اور برہمن ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کےساتھ الحاق کی راہ میں روڑے اٹکا کر اور رکاوٹیں ڈال کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے ؟اور برہمن ریاست جموں و کشمیر پر اپنا قبضہ و تسلط کیوں چاہتا تھا؟
یہ دو سوالات بہت اہم ہیں۔ ہمیں پوری گہرائی اور یکسوئی کے ساتھ ان سوالات کی تہہ تک پہنچنا ہوگا ۔
جب ہم ان سوالات کی تہہ اور گہرائی تک پہنچیں گے تو ہم پر مسئلہ کشمیر کی اہمیت و حساسیت پوری طرح واضح ہو جائےگی ۔ انگریز اور ہندو جانتے تھے کہ ریاست جموں کشمیر کے پاکستان کےساتھ الحاق کی صورت میں پاکستان اپنے وجود اور تشکیل میں مکمل اور دفاعی و زرعی اعتبار سے خود کفیل ہو جائےگا اسلئے دیدہ دانستہ اور شرارتاً کشمیر کا تنازع کھڑا کیا گیا ۔ ریاست جموںکشمیر کے ایک حصے پر بھارت کا قبضہ اور مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا بلا شبہ بہت بڑا المیہ ، سانحہ اور حادثہ ہے ۔ اس المیہ کا جو نقصان کشمیری قوم کو ہوا وہ اپنی جگہ لیکن مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کا جو نقصان پاکستان کو ہوا، ہو رہا ہے یا مستقبل میں ہو سکتا ہے وہ نقصان اتنا بڑا اور اتنا زیادہ ہے کہ اس کا تصور بھی محال ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مملکت خداداد ” پاکستان “ کے نام میں ”ک “کا لفظ جموں کشمیر کی نمائندگی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جموں کشمیر کہا ں ہے جس کا ”ک “ پاکستان کے نام کا حصہ ہے ۔
جب ہم اپنے نقشے و جغرافیے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں جموں کشمیر کا50513مربع میل علاقہ بھارت کے قبضہ و تسلط میں نظر آتا ہے اور 64سال گزرنے کے باوجود کشمیر تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان اپنی جغرافیائی تشکیل و تکمیل اور پہچان و شناخت میں نا مکمل ہے ۔ اس اعتبا ر سے یہ بات ہم یوں بھی سمجھ جا سکتے ہیں کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے آزاد ہونے تک پاکستان کا نام بھی ادھورا ہے۔ اس اعتبار سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ کشمیری قوم آزادی کی جو جدو جہد کر رہی ہے وہ درحقیقت پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی تشکیل و تکمیل کی جدو جہد ہے۔ سو ہم پر لازم ہے کہ بحیثیت پاکستانی ہم کشمیر کی آزادی کےلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ یہ ذمہ داری ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ یہ ہم پر ان لاکھوں کشمیری شہداءکا قرض ہے جنہوں نے قیام پاکستان کےلئے اپنی جانیں قربان کیں ۔ وہ اپنا فرض پورا کر گئے اور اب ہم نے اپنا فرض پورا کرنا ہے ۔
پاکستانی حکمرانوں اورپاکستانی قوم کو اس فرض کی ادائیگی میں قطعاً پہلو تہی اور اعراض و انحراف نہیں کرنا چاہیے اس لئے کہ یہ فرض دنیا نے سلامتی کونسل کے ذریعے پاکستان کو سونپاہے اور سلامتی کونسل نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر کا فریق تسلیم کر رکھا ہے ۔ اسی طرح اس وقت پاکستان میں لاکھوں کشمیر ی آباد ہیں یہ وہ کشمیر ی ہیں جو مختلف مواقع پر ریاست سے ہجرت کرنے پر مجبور؟ سب سے پہلے ڈوگرہ حکمرانوں کے ہاتھوں ستائے لاکھوں کشمیری ہجرت پر مجبور ہوئے ، جن کی بڑی تعداد پنجاب میں آباد ہوئی ۔ اسکے بعد تقسیم ہند کے وقت پھر 1965ء1971کی جنگ اور اسکے بعد 1989ءمیں شروع ہونےوالی تحریک کے دوران بھارتی مظالم کے ستائے لاکھوں کشمیری بھی پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ۔ سلامتی کونسل کی قرار دادیں ان کشمیریوں کو اپنے وطن کی آزادی کی جدو جہد کرنے کی اجازت دیتی ہیں ۔
جہاں تک کشمیری قوم کا تعلق ہے وہ قربانیاں دینے کا حق ادا کر رہی ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میںشہداءکے 700 قبرستان اہل کشمیر کی جر ا¿ت و استقامت ، شجاعت و عظمت اور آزادی کے جذبے سے لگن کا مظہر ہیں۔ 80لاکھ آبادی والے خطے میں 8لاکھ بھار تی فوج تعینات ہے ۔ اسکا مطلب ہے ہر10کشمیریوں پر ایک بندو ق بدست بھارتی فوجی مسلط ہے ۔ اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعداد میں جدید ترین او ر انتہائی خطرناک ہتھیاروں سے لیس فوجیوں کی تعیناتی کی دنیا میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔
گزشتہ 23سالوں میں کشمیری قوم نے اپنے خطے کی آزادی اور تکمیل پاکستان کےلئے جو قربانیاں دیں انکی فہرست بہت طویل ہے۔ ایک لاکھ کشمیری مسلمان جام شہادت نوش کر چکے ہیں ، 23ہزار خواتین بیوہ ، ایک لاکھ 7ہزار 4سو بچے یتیم اور ایک لاکھ سے زائد گھر خاکسترہو چکے ہیں۔ 1989ءسے شروع ہونیوالی تحریک کے صرف دو سال یعنی 2010ءاور 2011ءکا جائزہ لیں تو صورتحال بہت عبرتناک نظر آتی ہے ۔ 2010ءمیں بھارتی فوج نے جو مظالم کئے وہ گزشتہ 23 سال کے مظالم سے زیادہ ہیں۔
2010ءمیں بے رحم و درندہ صفت بھار تی فوج نے ظلم کے نئے نئے حربے و ہتھکنڈے ایجاد و اختیار کئے اور انتہائی مہلک و خطرناک ترین اسلحہ استعمال کیا ۔ شہداءکے جنازوں پر بے رحمانہ فائرنگ کی گئی ، یہاں تک کہ شہداءکے جنازوں کو کندھا دینے والوں کو بھی نہ بخشا جا تاان پر بھی فائرنگ کی جاتی اور انکی اپنی لاشیں گھروں کو واپس پہنچتیں ۔ 7سال کے معصوم بچوں سے لےکر 80سال تک کے قابل احترام بزرگوں کو شہید کیا گیا ۔ جوانوں کے چہروں ، جسم کے نازک اعضاءاور جسم کے جوڑوں کو تاک تاک کرنشانہ بنایا گیا جس سے سینکڑوں نوجوان ہمیشہ کےلئے اندھے اور اپاہج ہو گئے۔
2010ءمیں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے 250کشمیری شہید ہوئے جن میں 16خواتین اور 67 معصوم بچے شامل تھے ۔12خواتین سمیت کئی صحافی اور 2960عام افراد گرفتار کئے گئے۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے 7560 معصوم شہری زخمی ہوئے جن میں 60خواتین ، 40بچے اور 12صحافی شامل ہیں ۔ 86 خواتین کی عصمت دری کی گئی ۔ 2010ءکی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کشمیری مسلمانوںنے گرجتی رائفلوں ، برستی لاٹھیوں ، تنی سنگینوں ، آگ کے شعلوں ، بارود کی بارش اور بھارتی فوج کے ساتھ دو بدو معرکوں میں پاکستانی پرچم لہرائے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ (جاری)