A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

یوم ولادت رحمة للعالمین اور حسن اتفاق سے یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے کشمیریوں کےساتھ یکجہتی کو عملی انجام تک پہنچایا جائے

05 فروری 2012
آج 12 ربیع الاول کا مبارک دن ہے‘ پورے عالم اسلام میں رحمة للعالمین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت باسعادت نہایت مذہبی جوش و جذبے اور انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ حسن اتفاق ہے کہ ولادت مصطفےٰ کے مبارک موقع پر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن بھی آج ہے۔ آج کے روز انسانی تاریخ میں ایسا آفتاب طلوع ہوا جس کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی روشنی ہرسو پھیل گئی۔ یہ نبی ¿ محترم و مکرم کا ایک عظیم اعجاز ہے کہ صدیوں سے جہالت کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے معاشرے کو مختصر وقت میں صراطِ مستقیم کی روشنی سے روشناس کرا دیا۔ پھر ہدایت کی یہ روشنی دنیا کے ہر کونے تک پھیل گئی۔ جشن میلاد کے موقع پر اہل اسلام سبیلیں لگاتے‘ کھانا تقسیم کرتے‘ گھروں‘ مساجد کو چراغوں اور قمقوں سے بقعہ نور بناتے‘ محافل میلاد‘ جلسے جلوس اور سیمینار کا انعقاد اور قرآنی خوانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایسی نورانی محافل کا انعقاد صرف ایک دن 12 ربیع الاول کے موقع پر ہوتا ہے اسکے سوا پورا سال مسلمان خواب غفلت کا شکار رہتے ہیں۔ جس کے باعث آج آبادی میں سوا ارب‘ قدرتی وسائل سے مالا مال‘ ایک ایٹمی قوت کے ہوتے ہوئے کفار کے زیر نگیں ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کی صورت میں ضابطہ حیات اور سنت کی شکل میں اسوہ حسنہ موجود ہے۔ یہ اللہ کی رسی ہے‘ جسے مضبوطی سے تھامنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر ہم آج بھی ضابطہ حیات اور اسوہ حسنہ کو حرزجاں بنالیں تو دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلمان جہاں جہاں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہیں‘ آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ مسلمان متحد ہوتے تو فلسطین پر صہیونیت جبر کے پنجے گاڑ سکتی تھی‘ نہ کشمیریوں پر ہندو ظلم روا رکھ سکتا تھا۔ فلسطین اور کشمیر صرف مسلمانوں کے مسائل ہی نہیں‘ انسانی مسائل بھی ہیں۔ جو ان مسائل کو حل کرنے پر قدرت رکھتے ہیں‘ ان میں انسانیت ہی نہیں ہے۔ چنانچہ یہ مسائل مسلمانوں کو باہم متحد اور مضبوط ہو کر ہی حل کرنا ہونگے۔
ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بڑے جذباتی انداز میں کشمیر کی آزادی کی تڑپ کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ جہاں اس کا مقصد کشمیریوں کے ساتھ قوم کا اظہار یکجہتی‘ ان کو اپنی حمایت کا یقین دلانا ہے‘ وہیں دنیا کو مسئلہ کشمیر کی حقانیت اور نہتے و بے بس کشمیریوں پر سفاک بھارتی فوج کے مظالم سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا‘ انہوں نے کشمیر کو بھارت کے جارحانہ قبضے سے بزور چھڑانے کی کوشش بھی کی جس پر بھارت معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا جس نے کشمیریوں کیلئے استصواب کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔ بھارت یو این سے استصواب کی قراردادوں کو تسلیم کرکے آیا تھا لیکن ان پر 63 سال گزرنے کے باوجود عمل کرنے پر تیار نہیں۔ قائداعظم مسئلہ کشمیر کے حل کی جس شدت سے خواہش رکھتے تھے‘ زندگی نے ان کو مہلت دی ہوتی تو یقیناً وہ مسئلہ کشمیر حل کرالیتے۔ بدقسمتی سے انکی رحلت کے بعد آنیوالے حکمران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قائد جیسے عزم و ارادے پر قائم نہ رہ سکے جس کے سبب بھارت کو شہ ملی اور اس نے 1956ءکو اپنے آئین میں ترمیم کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کو اپنے صوبے کا درجہ دیدیا‘ اسکے بعد بڑی ڈھٹائی سے اسے اپنا اٹوٹ انگ بھی کہنے لگا۔ اسکے ساتھ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے مذاکرات کی منافقت کا وتیرہ بھی اپنائے ہوئے ہے۔ پاکستانی حکمران بھارت کی چالوں کو سمجھتے ہوئے بھی اسکے ساتھ لاحاصل مذاکرات کی میز پر براجمان ہو جاتے ہیں جسے انکی حماقت یا بھارت نواز طاقتوں کا دباﺅ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
مشرف نے دیرینہ پاکستانی موقف سے انحراف کرتے ہوئے بھارت کے سامنے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بہت سے آپشنز رکھے لیکن بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آیا۔ آج اقتدار میں موجود ذوالفقار علی بھٹو کے جاں نشین مسئلہ کشمیر کے حل میں نہ صرف کوئی دلچسپی نہیںلے رہے بلکہ امریکہ کے دباﺅ پر بھارت کے ساتھ پاکستان کے مفادات اور کشمیریوں و پاکستانیوں کے جذبات کو نظرانداز کرکے پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ بھٹو نے کشمیر کی آزادی کیلئے ہزار سال تک جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ نے جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی تجویز پر 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر قرار دیا تھا۔ یہ دن 1990ءسے ہر سال منایا جا رہا ہے۔ بھٹوز کے جاں نشیں اگر اسکے باوجود بھی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دے رہے ہیں‘ اسکے ساتھ خسارے کی تجارت کر رہے ہیں اور پاکستان کے ازلی ابدی دشمن سے بجلی و تیل برآمد کے معاہدے کر رہے ہیں تو کیایہ بھٹوز کی قبروں کا ٹرائل نہیں ہے؟ آپ ایٹمی طاقت ہیں‘ اس لئے کسی سے دبنے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ کشمیر ہماری زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ یہ مذاکرات سے حل ہونے کی امید رکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ مذاکرات کیلئے خلوص نیت اولین شرط ہے۔ بھارت کی اس حوالے سے بدنیتی مسلمہ ہے۔ اس نے 63 سال سے پاکستان کو مذاکرات میں الجھائے رکھا۔ قوم بلاشبہ یوم یکجہتی کشمیر بڑے جذبے اور کشمیر کی آزادی کی تڑپ کے ساتھ مناتی ہے‘ اب اسے ذرا مزید آگے بڑھانے اور عملی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ قوم تیار ہے‘ حکمران بھی مصلحت کا لبادہ اتار پھینکیں۔ کسی دباﺅ‘ دھونس یا لالچ میں نہ آئیں‘ پہلے اقدام کے طور پر بھارت سے تمام تعلقات منقطع کرتے ہوئے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اجاگر کریں۔ کشمیر کمیٹی کو فعال بنایا جائے‘ عالمی رائے عامہ ہموار کرکے بھارت کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی دوٹوک بات کی جائے۔ وہ ٹال مٹول سے کام لے‘ اٹوٹ انگ کا راگ الاپے‘ تو باتوں کے بھوت سے جس طرح نمٹا جاتا ہے‘ اسی طرح اسکے ساتھ بھی نمٹا جائے۔
اگر یہی حل ہے تو
مزید بزنس ٹرینیں چلائی جائیں
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز نجی شعبے کے تعاون سے بزنس ٹرین کا افتتاح کر دیا ہے۔ ٹرین روزانہ ساڑھے تین بجے لاہور سے کراچی چلا کرےگی، اس پر 225 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
وفاق وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے لوکل ٹرانسپورٹرز کی خوشنودی کیلئے ریلوے کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ غریب آدمی کیلئے اہل سفر کا سستا ذریعہ تھا لیکن اب وہ اس سے محروم ہوا ہے ہیں۔ بزنس ریل 225 ملین روپے کی لاگت سے ٹریک پر آئی ہے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے تعاون سے اور بھی ایسی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ جس طرح سے سرکاری شعبہ میں ریلوے کو برباد کیا گیا‘ نجی شعبہ میں ہی مزید 15 بیس ٹرینیں چلا دی جائیں لیکن اس بیڑے کو اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کے بعد غلام احمد بلور کے ہاتھ میں نہ دیدی جائیں ‘ اگر ایسا ہوا تو ان کا جنازہ نکلنے میں بھی کوئی دیر نہیں لگے گی، اس لیے حکومت اگر نئی ٹرینیں چلانے کے پروگرام بنا رہی ہے تو کم از کم وزیر ریلوے کو تو تبدیل کر لیں۔ بلور کے ہوتے ہوئے ریلوے کا چلنا مشکل ہے، وہ 200 انجنوں کیلئے 11ارب روپے مانگ رہے ہیں جہاں پہلے اربوں روپے گئے‘ وہیں یہ گیارہ ارب اور 200 انجن بھی چلے جائینگے۔