این ایل سی اسکینڈل؛ 2 ریٹائرڈ فوجی افسران کو سزا دیدی گئی، آئی ایس پی آر

05 اگست 2015 (21:25)

آئی ایس پی آر کی طرف سےجاری کردہ اعلامیے کے مطابق دو ہزار نو میں این ایل سی میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور اسکے باعث ادارے کو پہنچنے والے مالی نقصان کے حوالے سے پبلک اکائونٹس کمیٹی نے تحقیقاتی کی ہدایت کی تھی جس کے بعد ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا فیصلہ زیر التواء تھا تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کیس کو جلد شفاف طریقے سے حتمی فیصلے تک پہنچانے کےلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جس کی تحقیقات کی روشنی میں دو سابق میجز جرنلز کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق میجر جنرل (ر) خالد ظہیر اختر سے تمام اعزازات، عہدہ،پنشن،میڈیکل اور دیگر سہولیات واپس لے لی گئی ہیں جبکہ جنرل ریٹائرڈ محمدافضل کیخلاف بھی ضابطےکی سخت کارروائی کی گئی ہے، اور مالی بے ضابطیگیاں نظر انداز کرنے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ،، تاہم لیفٹننٹ جنرل(ر) خالد منیر کو تمام الزامات سے بری قرار دیا گیا ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی اپنی اعلیٰ روایات،معیار،احتساب،انصاف اور شفافیت کے عمل کو ہر حال میں برقرار رکھے گی-