لاتوں کے بھوت

05 اگست 2015

نمرہ اقبال
صبح کے آٹھ بج رہے تھے اس نے ٹائی کی ناٹ درست کی او اپنا موبائل اٹھا کر باہر آ گیا۔ باوردی شوفر نے اسے دیکھ کر تعظیماً جھک کر سلام کیا اور گاڑی کا بیک ڈور کھول دیا۔ وہ اسی طرح اکڑے ہوئے انداز میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ یہ مئی کا مہینہ تھا اور موسم خاصا گرم تھا ،کار کے اندر اے سی کی خنکی پھیلی ہوئی تھی اس نے اپنے موبائل سے نگاہ ہٹا کر باہر بھاگتے دوڑتے مناظر پر نگاہیں گھمائیں وہاں وہی بھوک تھی، وہی ننگ دھڑننگ فاقہ زدہ بھکاری تھے اور وہی دھوپ سے کملائے بوڑھے اشخاص تھے۔ وہ ان مناظر کا عادی تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد گاڑی اس کے شاندار آفس کے سامنے رکی اور وہ لفٹ سے ہوتا ہوا اپنے آفس روم میں پہنچ گیا اس نے انٹرکام اٹھا کر اپنے منیجر کو بلایا اور سامنے پڑی فائلوں کو دیکھنے میں ہو گیا۔ فائل پڑھنے کے دوران اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے اکاﺅنٹ میں کئی ملین ڈالرز کا اضافہ ہو چکا تھا یعنی ”کاروبار“ خاصا کامیاب جا رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد اس کا منیجر آ گیا اور وہ اس کے ساتھ میٹنگ میں مصروف ہو گیا۔ ”گڈ“ گفتگو کے اختتام پر اس نے مسکراتے ہوئے اپنے منیجر کو ستائشی لہجے میں کہا ”میرا خیال ہے اگر ہمارا بزنس اسی طرح چلتا رہا تو مجھے یقین ہے امریکہ اور مشرق وسطی کے علاوہ دیگر یورپی ممالک کے باشندے بھی ڈگریوں کے حصول کے لئے ہم سے ہی رجوع کریں گے اور اس کا منیجر مسکراتے ہوئے اٹھا اور سلام کرکے باہر چلاگیا۔ منیجر کے جانے کے بعد اس کے نے سامنے لگی دیوار پر لگی ایل سی ڈی کو آن کیا جہاں کسی نیوز چینل پر نیوز کاسٹر پرجوش انداز میں کسی نوجوان کی خودکشی کی اطلاع دے رہی تھی جس نے بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کرلی۔ اس نے اکتا کر ٹی وی بند کر دیا۔ ایک تو یہ حکمران پتا نہیں کب سدھریں گے اور کب لوگوں کو ملازمتیں ملنا شروع ہوں گی۔ اس ملک کا ان حکمرانوں کے ہوتے ہوئے کم از کم کچھ نہیں ہو سکتا۔ خدا ہی ہم پر رحم کرے۔ یہ صرف ایک انسان یا کسی کمپنی کے ڈائریکٹر کا رویہ نہیں ہے بلکہ ساری قوم کا یہی حال ہے۔ حکمران برے ہیں، کرپٹ ہیں؟ لیکن ہم کیا ہیں؟کیا ہم نے کبھی سوچا۔ مسئلہ صرف جعلی ڈگریاں بیچنے کا نہیں بلکہ ہوس زر کا ہے۔ جس قوم کا یہ حال ہے تو اس کے حکمران بھی تو ویسے ہی ہوں گے۔ جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرنے والوں نے کبھی سوچا کہ ان کے اس طرز عمل کی وجہ سے کتنے نوجوان اپنی اصلی ڈگریاں ہاتھوں میں لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ کتنے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ کتنے لوگ دوائی کے لئے ترس رہے ہیں۔ جب تک ان لوگوں کو انتہائی سخت سزائیں نہیں دی جاتیں۔ واقعی ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“