یاد ماضی

05 اگست 2015

جب بھی میں حیرت سے اپنی تصویر کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ میں نہیں.... چھوٹی چھوٹی مونچھیں.... سنہرے بال اور سادہ آنکھیں.... یہ تصویر 1999ءکی ہے جو میں نے مزنگ چونگی سے بنوائی تھی،مزنگ چونگی کو قرطبہ چونگی بھی کہتے ہیں میں نے FC کالج لاہور میں داخلہ لے تو لیا مگر کلرکوں نے یہ کہہ کر مصیبت ڈال دی کہ جا کر گوجرانوالا بورڈ سے NOC لے آﺅ۔ میں 3 دن وہاں پریشان ہوتا رہا، پھر ایک پروفیسر صاحب نے مجھے ایک رقعہ دیا اس سفارش کی وجہ سے NOC مل گیا میں ان دنوں نرگس بلاک اقبال ٹاو¿ن لاہور میں رہتا تھا وہاں سے صبح سویرے اٹھ کر مون مارکیٹ جاتا وہاں سے ویگن پکڑ کر مسلم ٹاﺅن موڑ آتا۔ پھر وہاں سے پیدل چل کر FC کالج جایا کرتا نہر سے FC کالج تک کا سفر مجھے تھکا دیتا تھا یہ کالج کیا تھا ادب کا جنگل تھا واہ ری قسمت.... قسمت کے بغیر کوئی بھلا کہاں تک ہنس رو سکتا ہے۔ ہر کوئی اپنے میدان میں حصہ ڈالتا اور
موسم گل کی رعنائیوں کو ڈھل جانے کا خوف
پت جھڑ کی سوکھی شاخوں پر جینے کے ارمان
دنیا اک نماشا لوگوں تنبوے کا کھیل
نہ تو جیتے نہ تو ہارے نہ تو پاس نہ تو فیل
آنے والے ایسے آئے جیسے جھوٹے خواب
جانے والے ایسے جائیں جیسے خیبر میل
زمانہ طالب علمی میں میں سنٹرل فلیٹس ماڈل ٹاﺅن، نور ہوٹل چوبرجی اور K.E میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں رہتا رہا۔ کبھی میں گلش راوی کے C بلاک چلا جاتا جہاں ریٹائرڈ پروفیسر مرزا منور رہا کرتے تھے۔ راولپنڈی میں قائد اعظم ہاسٹل رہا کرتا۔ کمرہ نمبر 22 میرے نام پر ہمیشہ بک رہتا.... میں دن میں ایک بار کھانا کھاتا.... پرانی انار کلی چوک سے فٹ پاتھ پرکتابیں خریدتا اور پیدل چلا کرتا مجھے افسوس نہیں کہ میں صحافت کی طرف نہ آیا۔ میں نے لاہور میں کسی لائبریری کی ممبر شپ نہ لی اور اخبار کالج اور ہاسٹل سے پڑھ لیا کرتا۔ مگر راولپنڈی میں مریڑ چوک کے پاس میونسپل لائبریری میری قیام گاہ تھی میرے لڑکپن کا زمانہ اسی لائبریری میں گزر گیا اور لیاقت باغ کے سبز بنچوں پر میری شاعری کا آغاز ہوا تھا۔ میں بہت رلا بہت مشقت کی اور میں وہ تھا کہ جس کا کوئی والی وارث نہ تھا رل رل کر بالآخر میں پڑھنے میں کامیاب ہو ہی گیا لیکن لوگوں کے طعنے اور باتیں سننا پڑیں۔ کہ آخری ٹیچر ہی لگے ہونا، میں کوئی جواب نہ دیتا کہ میں قسمت کی دیواروں کو توڑ نہ سکا میری محنت میرا چارج نہ بدل سکی میں زندگی کی رستوں کا الیکٹرون تھا جس پر ہمیشہ منفی چارج لگ گیا تھا میں اس پر بھی بہت خوش ہوں اور سوہنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔
(عامر سہیل، واڑہ عالم شاہ، تحصیل ملکوال)