تلوار سے زیادہ طاقتور

05 اگست 2015

اویس ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ پڑھائی کا جنون کی حد تک شوق تھا اس کے بابا ٹھیلے پر مکئی کے بھٹے لگایا کرتے تھے۔ اویس کا چھوٹا بھائی احمد ”خستہ حال“ سٹوڈنٹ تھا۔ پھٹا پرانا بیک، ٹوٹی پھوٹی پنسلیں، ٹوٹا ہوا جوتا اور پھٹا پرانا یونیفارم تھا اس کے پاس کھانے کو پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی۔ سارا دن بھوکے پیٹ، سوکھے ہونٹوں سے وہ رٹے لگاتا رہتا۔
ایک دن جب اس کے باپ ٹھیلا لگا رہے تھے کہ اچانک کوئی گاڑی والا تیزی سے آیا، گاڑی ٹھیلے سے ٹکرائی اور ٹھیلا مختلف حصوں میں بٹ گیا۔ مکئی کے بھٹے ادھر سے ادھر جا گرے ،جبکہ باپ جان کی بازی ہار گیا۔ گھر میں فاقوں نے بری طرح پنجے گاڑ لئے بہت سوچ بچار کے بعد اویس نے رات کے وقت ایک ہوٹل میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ہوٹل کا مالک بہت ظالم تھا بات بات پر اویس کو جھڑکتا اور مارتا پیٹتا تھا۔ البتہ مالک کا بیٹا بلال اپنے باپ کے بالکل برعکس تھا۔اویس اور بلال کی اچھی خاصی دوستی ہو گئی۔ اویس مالک سے چوری اپنی انگلش کی کتاب روز ہوٹل پر لے جاتا اور اسے کھول کر ٹیبل کے نیچے رکھ دیتا کام کے دوران گا ہے بگا ہے نگاہیں کتاب پر بھی دوڑاتا اور سبق رٹتا جاتا۔ اویس ہاتھوں سے کام کرتا مگر دماغ مکمل طور پر کتاب میں ہوتا ۔ بلال ہر روز باپ سے نظر بچا کر شاپر بھر کر اویس کو کھانا دے دیتا۔ جو وہ اس کا بھائی اور اس کی والدہ شام کو کھاتے تھے۔ کچھ کھانا وہ ٹفن میں ڈال کر صبح سکول لے جانے کے لئے رکھ جھوڑتا تھا۔ اسی طرح دن ہفتوں میں اور ہفتے سالوں میں گزرتے گئے اور اویس جمال دین اپنی محنت کے بل بوتے میٹرک میں پہنچ گیا۔ آج لوگوں کا شور گونج اٹھا۔ رزلٹ آ گیا رزلٹ آ گیا۔
ہوٹل میں کام کرتے اویس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔ اویس کے نمبر دیکھ کر بلال نے ایک بار نہیں کئی بار دیکھا کہ رول نمبر غلط تو نہیں ہے؟ کیونکہ اویس نے ضلع بھر میں میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی تھی ۔ یقیناً یہ محنت ہی کا صلہ تھا۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ چاہے کیسے بھی حالات کیوں نہ ہوں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے اور علم سے ہی جاہل کی جہالت دور ہوتی ہے۔
(اقصی زریں، سمبڑیال)