تربیت کا پیارا انداز

05 اگست 2015

ایک دفعہ ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا۔ وہ اس کو تمام قافلے میں ڈھونڈتی پھر رہی تھی۔ وہ ہر ایک آدمی سے بچے کے بارے میں پوچھتی پھرتی تھی۔ بالآخر اس کا کھویا ہوا جگر گوشہ مل ہی گیا ماں نے لپک کر بیٹے کو سینے سے لگایا مگر اسے یقین نہ آتا وہ بار بار اس کا منہ دیکھتی اور اسے پیار کرتی۔ ہر شخص اس کی کیفیت سے متاثر ہو رہا تھا۔ عین اسی وقت میرے پیارے رسول حضرت محمد صحابہ کرام سے مخاطب ہوئے اور فرمایا۔
کیا خیال ہے تمہارا؟ ہر عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے؟سب نے عرض کیا
نہیں یا رسول اللہ یہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتی کیونکہ اسے اپنے بیٹے سے بے پایاں محبت ہے حضور پاک نے یہ سن کر فرمایا ”اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اس سے ستر گنا زیادہ محبت ہے وہ ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کے بندے دوزخ کی آگ میں جلیں۔
طویل سے طویل تقریر بھی محبت الہی کے بارے میں وہ اثر پیدا نہیں کر سکتی تھی جو اس فقرے نے پیدا کیا۔
(اقصی زریں، سمبڑیال)