ذہین اور معصوم بچی

05 اگست 2015

(بلال طارق، حسن رضا میانوالی)
ایک معصوم بچی اپنے گردوپیش سے بے خبر پوری توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھی ہنڈ یا پکا کر اب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی اتنے میںدروازے پر دستک ہوئی۔
کون ہے؟ ننھی بچی نے دروازہ کھولنے سے پہلے سوال کیا۔
دروازہ کھولو باہر سے ایک کرخت آواز آئی تین چار آدمی باہر تلواریں تانے کھڑے تھے، جی ! ایک آدمی نے بڑے غصے سے پوچھا!کیا تیرا باپ کہاں ہے؟ مجھے پتہ نہیں بچی نے جواب دیا۔تجھے پتہ ہے تو چھوٹ بول رہی ہے اس آدمی نے چلاتے ہوئے کہا، میں نہیں جانتی وہ کہاں ہیں!
بچی بھی اپنی بات پر ڈٹی رہی بڑی ہمت والی تھی دیکھا اس کا جادو بچوں پر بھی چل گیا ہے آدمی نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا دیکھو لڑکی سچ سچ بتا دو ورنہ ہم تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔میں آپ کو دو دفعہ کہہ چکی ہوں کے مجھے کچھ معلوم نہیں، تڑاخ،بچی کے رخسارپر ظالم نے پوری قوت سے دو پتھڑ رسید کر دیئے بچی اچھل کر گھر کی دہلیز پر آگئی اور اس کی کان کی لو سے خون بہنے لگا جب وہ آدمی چلے گئے تو بچی کوئی تاثر لئے بغیر اٹھی اور جا کر ننھے منھے ہاتھوں سے روٹیاں پکانے لگی اس نے روٹیاں پکا کر ایک رومال میں باندھ لیں اور اسے اپنے دوپٹے کے پیچھے چھپا لیا اور گھر سے باہر نکل کر اس نے چاروں طرف دیکھا اور ایک سمت چل پڑی، بچی کی سانس پھول رہی تھی لیکن وہ اپنی حالت کی پرواہ کئے بغیر تیزی سے قدم بڑھا رہی تھی جہاں کہیں اس کو پاﺅں کی آہٹ سنائی دیتی تو فورا رفتار آہستہ کر لیتی اسے اپنے سامنے ایک غار دکھائی دی غار کو دیکھ کر اس نے پھر چاروں سمت دیکھا اور غار میں داخل ہو گئی۔اس غار میں دو معزز ہستیاں تشریف فرما تھیں بچی کو دیکھتے ہی ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور بڑے پیار سے فرمایا کہ بیٹی! ’تجھے آتے ہوئے کسی نے دیکھا تو نہیں‘
نہیں ابا جان! میں بڑی احتیاط سے آئی ہوں۔
شاباش میری بیٹی بہادر ہے۔
آپ کھانا کھا لیں بیٹی نے دو پٹے سے کھانا نکال کر ان کی طرف بڑھا دیا اور خود چل دی۔
پیارے بچو! یہ بچی حضرت ابو بکر صدیقؓ کی بٰتی عائشہ صدیقہ کی بہن تھیں اور ان کو مارنے والا ابو جہل تھا اور غار میں تشریف فرما دو معزز ترین ہستیوں میں سے ایک حضور نبی اکرم اور دوسرے حضرت ابو بکر صدیق تھے۔
اس لئے پیارے بچو! ہمیں بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ایسا پختہ ایمان عطا فرمائے کہ ہم اسلام کی سر بلندی کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کریں۔