ادب برائے زندگی

05 اگست 2015

مکرمی! ادب کسی بھی زباں ، خطے یا تہذیب کا ہو فطرت اور رومانوی رنگ ہر ایک ادب میں مشترک اور لازم و ملزوم ہے۔ جس سے ادب کو چار چاند لگ جاتے ہیں ہمارے رومانوی شاعروں کو کسی نہ کسی طور سے انگریزی رومانوی شاعروں سے بہت زیادہ مماثلت حاصل ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اختر شیرانی کی شاعری پر جان کیٹس کی شاعری کا رنگ غالب نظر آتا ہے تو غلط نہ ہو گا مجھے ہمیشہ سے رومانوی اور نیچری شاعری سے رغبت رہی اور میں ہمیشہ رومانوی شاعروں کو ذوق کے ساتھ پڑھتی رہی۔ انگریزی ادب میں کیٹس اور اردو شاعری میں اختر شیرانی کے ہاں مجھے دوران مطالعہ متعدد منی، تخلیقی، تخیلی، اسلوبیاتی مماثلتیں ملی ہیں۔ دونوں شاعروں کے ہاں مشترک علامتیں، استعارے، تشبیہات، مناظر فطرت، داخلی کیفیات کثرت سے پائی جاتیں ہیں۔ جس خاکداں کا ذکر جان کیٹس کے ہاں کیا گیا ہے وہی خاکداں اختر شیرانی نے بھی موضوع بنایا ہے۔ اور اس سے جڑی زندگی کی حقیقتیں بیان کی ہیں فرق اتنا ہے کہ کیٹس کے ہاں خاکداں اپنی تہذیبی علامت کے طو پر استعمال ہوا ہے اختر نے اپنی تہذیبی روایت میں خاکداں کو دکھایا ہے۔ محبت کا موضوع اور رومانی خیالات دونوں کے ہاں یکساں رنگ کے حامل ہیں۔ (فریحہ بخاری۔ لاہور )