گو روں کا انصاف

05 اگست 2015

قلعے میں آج بھی راکنگ چیئر(جھولنے والی کرسی) موجود ہے۔ یہ قلعہ بلوچستان کے شہر ژوب میں ہے۔ ژوب کا نام اپوزئی تھا1889ءمیں انگریزوں نے فورٹ سنڈیمن کے نام سے بدل دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1976ءمیں اس شہرکانام ژوب رکھا۔ قلعے کی سیاحت کے دوران ”ہلارے“ دینے والی کرسی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔ سنڈیمن صاحب ناشتے کے بعد کرسی پردراز ہوتے، سگار کے کش لگاتے ہوئے سامنے پہاڑی پر انسانیت کو شرما دینے والے مناظرسے سرشار ہوتے۔ سامنے پھانسی گھاٹ پر روز ایک سردار کولٹکایا جاتا۔ یہ سردار اپنی قوم کے ہیرو اور انقلابی جبکہ انگریزوں کے باغی تھے۔ یہ سب کچھ عمل انصاف کی عملداری کیلئے نہیں اپنا اقتدار قائم اورمضبوط بنانے کیلئے کیا جاتاتھا۔
ہم برطانیہ کے نظام انصاف کے گن گاتے اورکچھ تو شادیانے بھی بجاتے ہیں۔ چرچل کا یہ فلسفہ اور قول توزبان زد عام ہے۔”ہماری عدالتیں درست فیصلے کررہی ہیںتوہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا“
چرچل کی نظر میں برطانیہ کے مدمقابل ممالک میں انصاف کا فقدان تھا۔اسی چرچل نے جنگ عظیم دوم میں بطور First Lord of the Admiralty گیلی پولی پر حملے کا منصوبہ پیش کیا۔ترکی کا جزیرہ نما گیلی پولی استنبول سے جنوب میں واقع ہے۔ اپریل 1915ءسے جنوری 1916ءکے درمیان یہاں عثمانی ترکوں اور سلطنت برطانیہ کے مابین پہلی جنگ عظیم کی معرکہ آرائی ہوئی۔ اتحادیوں کا حملہ ترکوں نے بے مثل مزاحمت اور شجاعت سے روک دیا۔ اتحادیوں کو 9 جنوری 1916ءکوہزیمت کا داغ ماتھے پر سجاکر گیلی پولی سے نکلنا پڑا۔ اس شکست پر چرچل کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ برطانوی وزیر اعظم ایسکویتھ کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔چرچل کے قول اور فلسفے کیمطابق برطانیہ کو شکست کا منہ کیا اپنے ہاں نظام عدل میں ابتری کے باعث دیکھنا پڑا تھا؟ اس میں شک نہیں کہ ریاست کی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں نظام عدل کو اولیت حاصل ہے مگرصرف انصاف کے دور دورہ کو جنگوں میں کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا‘ جنگیں جیتنے کیلئے دیگر عوامل بھی ناگزیر ہیں جرنیلوں کے کردارو مہارت، فوج کی تعدادو تربیت ، اسلحہ کی جدت اور فراوانی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی کامیابی کی ایک وجہ چرچل جیسی جنگی معاملات کو سمجھنے اور حالات کیمطابق بہترین حکمت عملی ترتیب دینے والی قیادت بھی تھی۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر چرچل نہ ہوتا تو شاید آج دنیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔
نازیہ مصطفی ایک کالم میں لکھتی ہیں۔” ہندوستان میں راجاایلان چولان ایلارا نے 205 قبل مسیح سے 161 قبل مسیح تک ریاست انورادھاپورہ پر حکمرانی کی۔ ایلارا ایک انصاف پرور راجا تھا۔ اسکے لاڈلے بیٹے ”ویدھی ویدنگن“ کی رتھ کے نیچے آکرگائے کا بچھڑاکچلا گیا تھا۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے ایلارا نے بڑا عجیب فیصلہ کیا۔ ایلارا نے اپنے بیٹے کو اُسی رتھ کے نیچے کچلنے کا حکم دیدیا۔ فیصلے پر عمل درآمد ہوچکا تو بیٹے کی ارتھی کو شعلہ دکھانے سے پہلے ایلارا نے ویدھی کے ماتھے پر بوسہ دیا ”ویدھی! تو مجھے بہت پیارا تھا، لیکن انصاف سے زیادہ ہرگز نہیں تھا“۔انصاف کی ایسی ہی لاتعداد مثالوں کی وجہ سے تاریخ ایلا را کو ” مانو نیدی “ یعنی ”انصاف کا خزانہ“ کے نام سے جانتی ہے۔پھر آسمان نے یہ بھی دیکھا کہ ایلارا کو ایک نوجوان راجا ”دتوگیمنو“کے ہاتھوں شکست ِ ہوئی۔ آگ اور ہاتھیوں کی خوفناک لڑائی میں جب چولان کا راجا مخالف فوج کے گھیرے میں آگیا تو دتو نے اپنی سپاہ کوحکم دیا ”ایلارایک منصف مزاج حکمران ہے ۔اس کاقتل بھی ایک انصاف پسند حکمران کے ہاتھوں ہی ہونا چاہیے“دتو نے نیزہ اچھالا جو سیدھا ایلارا کے سینے کے آر پار ہوگیا۔
گوروں کا انصاف ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں بھی نظر آتا ہے۔کمپنی کے توسط سے انگریز نے چالوں اور چالاکیوں سے اپنے اوپر احسان کرنیوالوںکوغلام بنا لیا۔ آج بھی برطانوی نظام انصاف کو دیکھیں تو دو عملی اور دوغلی عیاں ہے۔ ہم لوگوں کو انگریزوں کے نظامِ میںانصاف کے چشمے اور جھرنے پھوٹتے محسوس ہوتے ہیں۔الطاف حسین کے کیسز کو دیکھیں، کیا برطانوی نظام انصاف میں واقعی وہ آب وتاب ہے جسکی ہمارے بہت سے دانشور وکالت کرتے ہیں۔انصاف کیا ہوتا ہے انگریز اتاترک سے سیکھیں۔ گیلی پولی کے میدانِ جنگ میںایک لاکھ بیس ہزار لاشیں گریں۔ دشمن کی 55ہزار الگ پڑی تھیں۔اتاترک نے ان کو جلانے یا دریا بُرد کرنے کا نہیں،احترام سے اُنکے عقیدے کیمطابق دفن کرنے کا حکم دیا۔
الطاف حسین اپنی مادرِ وطن اور اسکی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبان فوج کے بارے میں جو کچھ بھی کہتے ہیں اس کا الطاف حسین پر منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اب فرمایا کہ ”بھارت بزدل ہے، اس میں غیرت ہوتی تو پاکستان میں مہاجروں کا خون بہنے پر خاموش نہ رہتا۔ ”را“ کو پہلے ہی وہ مدد کیلئے پکار چکے ہیں۔ ایسے بیانات سے بھی برطانوی نظام انصاف کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ان کی طرف سے حضرت علیؓ کا یہ قول دُہرایاگیا ”کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں۔“واقعی کراچی میں آج ظلم کا نظام معدوم اور تہس نہس ہو رہا ہے۔ ستمگر کٹہرے سے گزر کر اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔
لندن میں الطاف حسین پر دو پاکستان میں سینکڑوں مقدمات ہیں۔ وہ خود کو ہر کیس میں بے قصور قرار دیتے ہیں۔ برطانیہ کی طرف سے الطاف حسین کے کیس کیوں لٹکائے جا رہے ہیں۔ الطاف حسین بے گناہ ہیں تو ان کو برطانوی عدالتیں بری کردیں۔عمومی سوچ ہے کہ ان کیسز میں الطاف حسین کو بلیک میل کر کے پاکستان کےخلاف استعمال کرنے کیلئے طول دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ ایسا کر کے اپنے مقاصد تو حاصل کر سکتا ہے مگرکس قیمت پر؟ اپنے عدالتی سسٹم پرایک اور بدنما داغ لگواکر۔
ہمارے وزیر داخلہ چودھری نثارالطاف حسین کی ہر مرتبہ فوج کےخلاف ہرزہ سرائی پرکیسٹ چلا دیتے ہیں، ” الطاف کی تقریر اعلان جنگ ہے، معاملہ برطانیہ سے اٹھائینگے “ اب تک اٹھایا کیوں نہیں؟ آج فرمایا جنرل راحیل کو حکومت کا اعتماد حاصل ہے، جنرل راحیل نے ہر پاکستانی کا دل جیتا، خبر یہ بھی چھپی ہے کہ وزیراعظم آرمی چیف کی ملاقات میں الطاف کے بیان کا سخت نوٹس لیا گیا۔ یہ منافقت نہیںمہا منافقت ہے۔ ایک طرف الطاف حسین کےخلاف مقدمات کی برسات، برطانیہ سے معاملہ اٹھانے کا عزم، بیان پر وزرائے اعلیٰ‘ وزراءکا شدید ردعمل،ہر اسمبلی میں مذمتی قراردادیں اور وزیراعظم کا سخت نوٹس دوسری طرف الطاف حسین کے فرمان کو حرزِ جاں بنانے اور ہر صورت الطاف کا ساتھ دینے کا عزم کرنے والے ارکان سے حکومت تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لینے کیلئے رابطے کرتی ہے۔

نفس کا امتحان

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف خواتین کی مہم ’می ٹو‘ کا آغاز اکتوبر دو ...