دریائوں کا پانی اور غیر منصفانہ تقسیم؟

05 اگست 2015

تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان کو اسکی زراعت پر منحصر متوقع معیشت کے پیش نظر دریائوں کے پانی کے حوالے سے بھارت کا دست نگررکھنے کا منصوبہ تیار ہو چکا تھا۔دراصل ہندو ذہنیت مسلمانوں کو ہندوستان میں ہی رکھ کر کچلنے کے ارادے سے باز رہنے پر آمادہ نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو دریائوں کا پانی مسلسل فراہم رکھنے کے متعدد وعدوں کے باوجود بھارت نے یکم اپریل 1948ء کو پاکستان کا پانی بند کر دیا۔ظاہر ہے پاکستان کیلئے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔حکومت کی کوشش سے بہرحال 4 مئی 1948ء کو بھارت سے معاہدہ ہوا جس کی رو سے کچھ ادائیگیوں کے عوض بھارت پائیدار مستقل حل نکلنے تک نہری پانی بحال کرنے پر رضا مند ہوا۔ادائیگیوں کی شق کو غلط رنگ دیتے ہوئے بھارت نے راگ الاپنا شروع کردیا کہ یوں پاکستان نے اپنے تاریخی موقف سے دستبردار ہو کر دریائوں کے پانیوں پر بھارت کا کلی حق تسلیم کر لیا ہے۔حالانکہ اس حوالے سے معاہدے میں کوئی ابہام نہیں تھا اور پاکستان کا موقف بھی واضح تھاکہ معاہدے میں ادائیگیوں سے متعلق شق کا مقصد پانیوں کی مینجمنٹ اورمتفرق مرمتوں پر اٹھنے والے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ لیکن اسکے باوجود بھارت نے دونوں ممالک کے مابین کسی حتمی قابل قبول معاہدے تک پہنچنے میں حد سے زیادہ رکاوٹیں ڈالنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ اس سلسلے میں بھارت نے ٹین نیسیز ویلی کے سابق چیئرمین ڈیوڈ للی اینتھل کو مدعو کیا۔یہ شخص پاک بھارت معاملات میں کافی دلچسپی رکھتا تھا۔اسے پاک بھارت دورے کیلئے فنڈنگ اگرچہ کولیئرز میگزین نے کی مگر دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دورے سے قبل بریفنگ اسے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دی گئی۔ شائد یہی وجہ ہے کہ اس شخصیت کو دونوں ملکوں کے حکمرانوں کی طرف سے پرتپاک طریقے سے خوش آمدید کہا گیا۔ فریقین کی پوزیشنز کا جائزہ لینے کے بعدکولیئرز میگزین کیلئے اپنے آرٹیکل میں ڈیوڈ نے لکھا کہ پاک بھارت پانیوں کی تقسیم کا معاملہ اسقدر پیچیدہ اور مشکل ہے کہ سر دست اس کا حل ناممکنات میں سے ہے ۔انہوں نے ورلڈ بنک آف ریکنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کو مداخلت کی تجویز دیتے ہوئے لکھا کہ کسی ملک کی مسلح افواج کے پاس بمباری یا شیلنگ سے پاکستان کے علاقوں کو اتنا نقصان پہنچانے کی اہلیت نہیںجتنا نقصان بھارت پاکستان کا پانی بند کر کے کر سکتا ہے۔ ورلڈ بنک کے سربراہ رابرٹ بلیک کو کولیئرز میگزین کا آرٹیکل کافی دلچسپ لگا۔ انہوںنے آرٹیکل کے مصنف سے معاونت طلب کرتے ہوئے مسئلے کے حل میں دلچسپی ظاہر کی۔وہ بھارت جو قبل ازیں ورلڈ بنک سے رابطے کی پاکستانی تجویز اس گھمنڈ میں مسترد کر چکا تھاکہ وہ خود ہی اس مسئلے پر چودھراہٹ کیلئے کافی ہے ،یکایک ورلڈ بنک کی مداخلت پر راضی ہو گیا۔پاکستان تو پہلے ہی یہ تجویز دے چکا تھا اسلئے ورلڈ بنک کے ذریعے معاملے کے حل پر رضا مندی ظاہر کرنے میں کوئی امر مانع نہ تھا۔ جب بنک نے محسوس کیا کہ فریقین کسی مشترکہ منصوبے پر راضی ہونے سے قاصر ہیں تو بنک نے تجویز دی کہ فریقین اپنا اپنا منصوبہ پیش کریں۔چنانچہ اکتوبر 6، 1953ء کو انڈیا اور پاکستان نے اپنے اپنے منصوبے ورلڈ بنک کو پیش کر دیئے ۔بھارت نے اپنے ابتدائی منصوبے میں دریائے سندھ ،جہلم ،چناب،راوی،ستلج اور بیاس کے 119 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے اپنے لئے 29 ملین ایکڑ فٹ اور پاکستان کیلئے 90 ملین ایکڑفٹ پانی کی تجویز پیش کی جبکہ پاکستان نے اپنے ابتدائی منصوبے میں بھارت کیلئے ساڑھے پندرہ ملین ایکڑ فٹ اور اپنے لئے ایک سو دو عشاریہ پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی کی تجویز پیش کی۔ بھارت کے نظرثانی شدہ منصوبے کیمطابق تینوں مشرقی دریائوں راوی،ستلج اور بیاس کا مکمل پانی اور تینوں مغربی دریائوں سندھ،جہلم اور چناب کے کل پانیوں کا سات فیصد حصہ بھارت کیلئے جبکہ دریائے سندھ،جہلم اور چناب کا باقی پانی پاکستان کو دینے کی تجویز دی گئی۔ پاکستان نے اپنے نظرثانی شدہ منصوبے میں مشرقی دریائوں کے پانیوں کا 30 فیصد اور مغربی دریائوں سے زیرو فیصد پانی بھارت کیلئے جبکہ اپنے لئے مغربی دریائوں کے کلہم پانی کے علاوہ مشرقی دریائوں کے پانیوں کا 70 فیصد تجویز کیا۔ ورلڈ بنک نے بھارت کو مشرقی دریائوں کا مکمل کنٹرول دینے کے علاوہ مغربی دریائوں سے بھی محدود مقدار میں حصہ دینے کی تجویز دی اور پاکستان کیلئے صرف مغربی دریائوں کاباقی پانی کافی سمجھا۔ ورلڈ بنک کی یہی تجویز بالآخر 19ستمبر 1960کے معاہدہ سندھ طاس پر منتج ہوئی۔ معاہدہ پر پاکستان کی طرف سے اس وقت کے صدر ایوب خان نے اور بھارت کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم جواہرلال نہرو نے دستخط کئے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاک و بھارت کے ابتدائی منصوبہ جات میں دریائوں کی بجائے پانیوں کی تقسیم کی باقاعدہ تجاویز پیش کی گئیںاور دونوں ممالک کی جانب سے ڈیمانڈ کئے گئے پانی کے تناسب میں بھی کسی وسیع و عریض خلیج کا فرق نہیں تھا توپھر پانیوں کی منصفانہ تقسیم پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے دریائوں کی تقسیم جیسی تجویز کا کیا مقصد تھا۔ اگر دریائوں کی تقسیم ناگزیر تھی اور مشرقی دریائوں کا مکمل اختیار بھارت کو دے دیا گیا تھا تو مغربی دریائوں کے پانیوں میں محدود حصہ بھارت کیلئے مختص کر کے ان دریائوں کو ایک طرح سے مشترک رکھنے کیاکا کیا جواز تھا۔ پھر اگر مشرقی دریائوں کا مکمل پانی بھارت کے حوالے کر دیا گیا تو ہر سال بھارتی پانیوں سے پاکستان کے اندر تباہی کا کیا ازالہ کیا گیا۔ معاہدہ سندھ طاس میں پاکستان کو بھارت کے چھوڑے ہوئے پانی کوکنٹرول کرنے اور ضرورت کے وقت استعمال میں لانے کیلئے مشرقی دریائوں پر ڈیم یا ہیڈورکس جیسے انتظامات کرنے کا اختیار شامل نہ کرنا کہاں کا انصاف تھا۔ معاہدہ سندھ طاس کو بین الاقوامی سطح پر بے حد پذیرائی حاصل ہے اور یہ دنیا کے کامیاب ترین معاہدوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہونگے کہ اس معاہدہ کی کامیابی کا سارا کریڈٹ بھارت کو نہیں بلکہ پاکستان کو جاتا ہے۔ اور یہ معاہدہ ہمارے امن پسند ہونے کا معتبر ترین ثبوت ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمیں اپنے حقوق کا شعور نہیں۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی فریقین کیلئے لازم ہوتی ہے اور کسی معاہدے سے انحراف کسی قابل احترام قوم کا شیوہ بھی نہیںمگر ہم آج بھی کسی انحراف کے بغیر بین الاقوامی نظائر کی روشنی میں اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کر سکتے ہیں اور دنیا میں انسانی حقوق کے تقاضوں کے پیش نظر بین الاقوامی معاہدوں میں ترامیم کی مثالیں موجود ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...