یوحنا آباد : دھماکے‘ گرفتار ملزموں کو بھارت سے مالی مدد فراہم کی جاتی تھی: وزیر داخلہ پنجاب

05 اگست 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب کے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ ماڈل ٹائون میں حساس ادارے کی عمارت، یوحنا آباد میں مسیحی عبادتگاہوں اور پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ کے باہر خود کش دھماکوں میں ملوث 5ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ان دھماکوں میں تحریک طالبان شہر یار محسود گروپ ملوث ہے اور اسے بھارت سے ہر طرح کا سازو سامان اور مالی وسائل فراہم کئے گئے۔گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران مستقبل میں لاہوراور کراچی میں بڑی تباہی کی منصوبہ بندی کے حوالے سے انکشافات کئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز 90 شاہراہ قائداعظم پر کیپٹل سٹی پولیس چیف کیپٹن (ر) امین وینس اور ایڈیشنل آئی جی عارف مشتاق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ آئی ایس آئی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس کی کوششوں سے سی ٹی ڈی کو کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں کا گروپ دس افراد پر مشتمل ہے جن میں سے آٹھ سہولت کار ہیں۔ اسی گروپ نے ماڈل ٹائون میں حساس ادارے، یوحنا آباد میں مسیحی عبادتگاہوں، قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کے باہر خود کش دھماکے کئے، دہشتگردی کے منصوبوں کی افغانستان میں منصوبہ بندی کی جاتی اور وہاں سے وزیرستان آ یا جاتا اور یہاں آ کر منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے سامان کی فراہمی اور اس پر عملدرآمد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشتگردوں میں ثنا اللہ پنجاب کا رہنے والا ہے جو خو د کش جیکٹ او رگاڑیوں میں بارود فٹ کرنے کا ماہر ہے۔ قاری الیاس اورخالد زمان عرف تاج علی سارے منصوبہ بندی کے حوالے سے اسے آگاہ کرتے جسکے بعد یہ خود کش جیکٹس تیار کرتا۔ انہوںنے بتایا کہ یوحنا آبادمیں مسیحی عبادتگاہوں پر حملے کیلئے قاری الیاس اور تاج علی منصوبہ بندی کرکے افغانستان سے فاٹا آئے اور انہوں نے رائے ونڈ تبلیغی کے باہر ثنا اللہ سے میٹنگ کی اور اسے چار خود کش جیکٹس کی تیاری کا آرڈر دیا گیا۔ دیگر گرفتار دہشتگردوں میں عمران محسود جنوبی وزیرستان سروگہ کا رہائشی ہے جبکہ شیخ قانون اس کاکزن ہے۔ انہوںنے بتایا کہ اسرار الدین جنوبی وزیرستان ذکر خیلی کا رہائشی ہے ۔ بہاولنگر کا رہائشی رانا ساجد افغانستان فرار ہو گیا ہے اور ہم اسکے سر کی قیمت مقررکریں گے تاکہ اسکی گرفتاری ممکن ہو سکے۔انہوں نے دہشتگردوں کے رائے ونڈ تبلیغی مرکز میں قیام کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ رائے ونڈ دینی تبلیغ کا ادارہ ہے جہاں پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں، دہشتگرد وں نے یہاں آکر ایک دوسرے سے ملاقاتیں کیں، وہاں سر ویلنس بڑھا دی ہے۔ ملک اسحاق اور اسکے صاحبزادوں کو پولیس نشاندہی کیلئے لے کر گئی جہاں ان کے لوگوںنے فائرنگ کی اور اس طرح کے تمام اقدامات نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہیں ۔ دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ ملوث ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور پاکستان کا دفتر خارجہ کہہ چکا ہے کہ بھارت کی مداخلت کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اہم سرکاری اور فوجی افسران سمیت سیاستدان دہشت گردوں کا ٹارگٹ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آئی کا افغانستان کے انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ رابطہ ہے اور ان کے درمیان بہت اچھی کوآرڈی نیشن موجود ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر ثابت ہو رہی ہے۔