’’ملا عمر کی موت چھپانا تاریخی غلطی‘‘ طالبان کے قطر آفس کے سربراہ طیب آغا مستعفی

05 اگست 2015

قطر+کابل (بی بی سی+آئی این پی+اے این این) قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے اپنے امیر اور قائد ملا محمد عمر کی موت کے اعلان کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سیاسی دفتر کے سربراہ سید محمد طیب آغا نے کہا کہ تنظیم اپنے تمام امور بشمول نئے سربراہ کا انتخاب افغانستان کے اندر ہی طے کرے۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان کا استعفیٰ بظاہر ملا عمر کی موت کے بعد تنظیم میں تقسیم کے پیش نظر آیا ہے۔ ملا عمر کی موت کے بعد گذشتہ ہفتے افغان طالبان کی شوریٰ نے پاکستان میں ملا اختر منصور کو اپنا نیا امیر مقرر کیا تھا لیکن طیب آغا نے اپنے بیان میں ان کا براہِ راست کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ انہوں نے دو سال تک ملا عمر کی موت کی خبر کے چھپائے رکھنے کو ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا اور اعتراف کیا کہ پاکستان کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کے معاہدے نے ان کی موت کی خبر کے افشا ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا ’ملک سے باہر رہنے والے افراد کے ذریعے ملک کے باہر کسی رہنما کا منتخب کیا جانا بھی تاریخی غلطی ہے کیونکہ ملک کے باہر کسی بھی رہنما کی تعیناتی کا خراب نتیجہ نکلا ہے۔‘ انہوں نے سویت یونین کے حملے کے بعد ماسکو میں رہنما کی نامزدگی یا پھر جرمنی کے شہر بون میں امریکی حملے کے بعد رہنماؤں کے انتخابات کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 سے انہیں ملا عمر کا کوئی آڈیو پیغام نہیں ملا اور ہر ایک کو یہ کہا جاتا تھا کہ کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے سب اپنا کام کریں ’لیکن میں ان کا آڈیو پیغام چاہتا تھا تاکہ لوگوں کے خدشات کو دور کر سکوں۔‘ انہوں نے لکھا: ’مستقبل کے ممکنہ تنازعے سے، اللہ کے سامنے قابل گرفت ہونے سے، اپنے ضمیر کو دبانے اور امیر المومنین ملا محمد عمر کے تصور اور پالیسوں سے انحراف کرنے سے خود کو بچانے کے لئے اور اپنے ہاتھوں خود اپنے کاموں کو برباد نہ کرنے کے خیال سے کئی دنوں تک خوب غور و خوض کرنے کے بعد نیک نیتی کے ساتھ میں نے سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر اور سیاسی امور کے سربراہ کی حیثیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔‘ ’اب میں کسی قسم کے پیغام، بیان، فیصلے اور اسلامی امارت میں عمل دخل سے علیحدہ ہوں۔ میں اس متنازع صورت حال میں کسی بھی فریق کا حامی نہیں ہوں۔‘ انہوں نے متبنہ کیا کہ ’طالبان کو ہر طرف سے پھانسنے کی کوشش ہو رہی ہے اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’فوجی اہلکاروں اور کمانڈروں کو چاہئے کہ وہ اپنی آزادی اور اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ملا عمر کی پالیسی اور ہدایات پر عمل کریں۔‘ امریکی میڈیا کے مطابق افغان طالبان میں قیادت کے بحران پر تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔ طیب آغا نے سوموار کو استعفیٰ دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے طیب آغا سے طالبان کی رہبر شوریٰ نے استعفیٰ طلب کیا تھا تاہم استعفیٰ طلب کئے جانے کی وجوہات واضح نہیں بلکہ قیادت کے بحران سے پیدا ہونے والے اختلافات کو وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ طیب آغا کے استعفیٰ کا دعویٰ ایک ہفتہ پہلے طالبان کے باغی دھڑے فدائی محاذ نے بھی کیا تھا۔ دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ طیب آغا نے اپنا استعفٰی طالبان قیادت کو قطر سے ارسال کیا۔ دوسری طرف برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے نئے امیرکی بیعت پر تحریک میں اختلافات سے متعلق میڈیا رپورٹس کو دشمن کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ افغان طالبان نے ملا عمر کے خاندان کی جانب سے نئے امیر ملا اختر منصور کی بیعت سے انکار سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دشمن کا پروپیگنڈا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور یوسف احمدی نے طالبان جنگجوؤں کو اپنے پیغام میں کہاکہ طالبان میں امارت کے حوالے سے کوئی دھڑے بندی نہیں بلکہ وہ نئے امیر ملا اختر منصور کی قیادت میں متحد ہیں۔ انہوں کہا طالبان جنگجو دشمنوں کے ناپاک عزائم پر کان نہ دھریں، ہم سب متحد ہیں۔طالبان ترجمان نے کہا ہم نے آفیشل ویب سائٹس، فیس بک، ٹوئٹر اکائونٹس، موبائل فون میسجز اور دوسرے ذرائع سے بیان دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن دشمن جاسوس ان ذرائع تک ہماری رسائی کو مستقل معطل کئے ہیں اور رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا قطر آفس کے دو عہدیداروں نے کہا ہے کہ طیب آغا نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ ایک طالبان رہنما کے مطابق طیب آغا کے ملاعمر کی زندگی میں بھی کبھی ان سے تعلقات مثالی نہیں رہے۔طالبان کے قطر سیاسی دفتر نے ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر تسلیم کرلیا۔ اعلامیہ کے مطابق طالبان قطر سیاسی دفتر کے نائب سربراہ ملا بشیر محمد عباس ستانکزئی نے خط میں ملا عمر کے خاندان سے تعزیت کی اور نئے سربراہ ملا اختر منصور کی اطاعت اور بیعت کا اعلان کیا ہے۔