کراچی: 4 بار بچنے والے 7 سالہ بچے کے قاتل شفقت حسین کو پھانسی دیدی گئی

05 اگست 2015

کراچی+ لاہور (نیوز ایجنسیاں+ وقائع نگار خصوصی+ نامہ نگاران) کراچی سینٹرل جیل میں منگل کی صبح 7سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کو پھانسی دیدی گئی۔ اس سے قبل شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد 4 مرتبہ روکا گیا تھا، پانچویں مرتبہ 4اگست کیلئے ڈیتھ وانٹ جاری ہوئے، 7سالہ عمیر کے اہل خانہ کو 14سال بعد با لآخر انصاف مل گیا جبکہ سیالکوٹ اور گجرات میں قتل کے 2مجرموں کو بھی تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سزائے موت کے ایک قیدی اللہ دتہ کو کل کوٹ لکھپت جیل میں دی جانیوالی پھانسی پر تاحکم ثانی عملدرآمد روک دیا۔ میانوالی میں قتل کے 3مجرموں کو آج تختہ دار پر لٹکایا جائیگا۔ کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے 3قیدیوں کی پھانسی کی سزا آخری موقع پر ملتوی کر دی گئی۔ ایک مجرم کو آج کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دی جائیگی۔ تفصیلات کے مطابق 7 سالہ عمیر کے قتل کے مجرم شفقت حسین کو سینٹرل جیل کراچی میں گزشتہ روز تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس موقع پر جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ حکام کے مطابق گزشتہ روز مجرم کی اہل خانہ سے آخری ملاقات کروا دی گئی تھی۔ ضروری کارروائی کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ شفقت حسین نے 2001ء میں 7سالہ عمیر کو اغوا کے بعد زیادتی اور پھر سر پر وار کر کے قتل کیا تھا اور نعش کو 40دن تک گٹر میں چھپائے رکھا جس پر 2004ء میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شفقت حسین کو سزائے موت سنائی تھی۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ شفقت حسین کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے سے متعلق دائر درخواست مسترد کر دی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لئے عدالتی کمشن بنانے کی درخواست کو مئی میں مسترد کیا تھا۔ اپریل میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے کہا تھا کہ تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ جرم کے وقت مجرم کی عمر 18برس سے کم تھی۔دریں اثناء پنجاب میں سزائے موت کے دو قیدیوں کی پھانسی موخر کر دی گئی۔ ملتان جیل میں مقبول عرف مقبولا ڈوگر کو پھانسی کے تختے پر لٹکایا جانا تھا تاہم ملزم پارٹی کی طرف سے حکم امتناعی کے باعث اس کی پھانسی پر عملدرآمد موخر کر دیا گیا۔ مجرم نے 1996ء میں خانیوال کے علاقے میں ایک شخص کو قتل کیا تھا۔ ساہیوال سے نامہ نگار کے مطابق سنٹرل جیل ساہیوال میں قتل کے مجرم کو پھانسی چند گھنٹے قبل مقتول کے لواحقین سے صلح ہونے کے باعث ٹل گئی۔ سنٹرل جیل ساہیوال میں قتل کے مجرم مقصو احمد کو آج پھانسی دی جانی تھی۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ میں اغواء برائے تاوان اور مغوی کو قتل کرنے کے مجرم لازر مسیح کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مجرم لازر مسیح نے تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ سے ایک لڑکے کو اغواء کیا تھا اور تاوان وصول کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قیدی اللہ دتہ کو کل کوٹ لکھپت جیل میں دی جانے والی پھانسی پر تاحکم ثانی عملدرآمد روک دیا۔ فاضل عدالت نے اللہ دتہ کیس میں پراسیکیوٹر جنرل کو طلب کرتے ہوئے اس نقطے پر معاونت طلب کی ہے کہ دہشت گردی قانون کے تحت سزا کے بعد قتل کے جرم میں راضی نامہ ہو جائے تو کیا سزا میں کمی کی جا سکتی ہے۔ گجرات سے نامہ نگار کے مطابق سزائے موت کے قیدی کو ڈسٹرکٹ جیل گجرات میں پھانسی دیدی گئی۔ غلام رسول پر الزام تھا کہ اس نے 2000ء میںگائوں کے رہائشی اپنے مخالف کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ علاوہ ازیں کوٹ لکھپت جیل میں قید تین مجرموں عتیق الرحمن، اظہر شبیر اور محمد شبیر کی سزائے موت پر عملدرآمد سپریم کورٹ کے حکم پر گزشتہ روز آخری وقت پر ملتوی کر دیا گیا۔ تینوں مجرم اچھرہ لاہور کے رہائشی ہیں اور انہیں اغوا برائے تاوان کے بعد قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ علاوہ ازیں لاہور کی سیشن کورٹ نے قتل کے مجرم کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دئیے ہیں۔ مجرم انعام الحق کو کل 6اگست کو کوٹ لکھپت میں پھانسی دی جائے گی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق سنٹرل جیل میں 4خواتین سمیت 5افراد کو قتل کرنے والے قاتل کو آج تختہ دار پر لٹکانے کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں جبکہ مجرم کے ورثاء نے دوسرے روز بھی جیل انتظامیہ کیخلاف شدید احتجاج کیا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...