انتخابی اصلاحات‘ ذیلی کمیٹی نے الیکشن کمشن کو خودمختاری دینے کی منظوری دیدی

05 اگست 2015

اسلام آباد (آئی این پی + آن لائن + نوائے وقت رپورٹ) انتخابی اصلاحات کے لئے ذیلی کمیٹی نے الیکشن کمشن کو مکمل مالی خود مختاری دینے کی منظوری اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کیلئے ورکنگ گروپ کی سفارشات کوحتمی شکل دے دی۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد حامد کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ نادرا کی جانب سے بائیو میٹرک اور الیکٹرانک سسٹم پر بریفنگ دی گئی، ہری پور ضمنی انتخاب میں بائیو میٹرک مشین استعمال کی جائے گی۔ الیکشن کمشن16اگست کے بعد ایک ہفتے میں تجربے کیلئے استعمال کی گئی مشین کی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گا، الیکشن کمشن نے بائیو میٹرک سسٹم پر تحفظات سے کمیٹی کو آگاہ کیا اور کہا ایک ووٹ ڈالنے کیلئے بائیو میٹرک مشین پر دو منٹ کا وقت ملے گا، جس کیلئے پلاننگ ایڈمنسٹریٹو ٹریننگ ونگ تشکیل دے دیئے گئے ہیں، پرنٹنگ کارپوریشن نے بھی بیلٹ پیپرز کی بروقت چھپائی کیلئے جدید مشینری خریدی ہے۔ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بل کا ڈرافٹ تیار کرلیا گیا۔ سربراہ کمیٹی زاہد حامد نے کہا ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم نافذ کرنے کیلئے 12 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ آن لائن کے مطابق آئینی مسودے کے 59نکات کی شق وار منظوری آج بدھ سے دی جائے گی ۔ انتخابی عمل میں خامیاں دور کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے پلاننگ ، انتظامی اور تربیتی ونگ قائم کردیئے ہیں الیکشن کمیشن کو کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ وہ ہری پور کے ضمنی انتخابات میں بائیو میٹرک طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 16 اگست کے ایک ہفتے بعد اس کی تجرباتی رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے۔ الیکشن کمشن کو کمیٹی نے کہا کہ آپ ہری پور کے ضمنی الیکشن میں اس نظام کا تجربہ کریں اور اس کی تجزیاتی رپورٹ بھی دی جائے گی الیکشن کمیشن نے مالی خود مختاری دینے کے حوالے سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا جس پر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کو مالی خود مختاری دینے کی منظوری دی نادرا نے تجاویز بھی دی ہیں جس کے تحت انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمیں پرانے نظام کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا جس پر کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے اس بارے حتمی رائے بھی مانگ لی ہے۔ آن لائن کے مطابق شفاف الیکشن کے انعقاد کے لئے انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے آئین کے 14 آرٹیکلز میں ترمیم کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ترمیم کئے گئے آرٹیکلز میں الیکشن کمشن کی ازسرنو ترتیب، دو سیٹوں سے زائد پر الیکشن لڑنے پر پابندی، اسمبلیوں کے مابین مدت پوری کرنے کے لئے وسیع فرق اور امیدوار کی اپنی تعلیم کو کورٹ کے آرڈرز کے ساتھ منسلک کرنا شامل ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت جنرل الیکشن کو 60 روز کی بجائے 90 روز کے اندر منعقد کروانا ہے اور 21 روز کے اندر الیکشن کے نتائج کو شائع کرنا لازمی ہو گا ۔ آرٹیکل 223 کے مطابق امیدوار بیک وقت دو سے زائد سیٹوں پر ایک اسمبلی سے الیکشن نہیں لڑ سکے گا۔