سانحہ صفورا، 53 میں سے 41 دہشت گرد قانون کی گرفت سے آزاد

05 اگست 2015

کراچی (کرائم رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) سانحہ صفورا کے مرکزی کردار طاہر منہاس سے رابطے میں رہنے والے 53 دہشت گردوں میں سے 41 اب بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہیں یہ انکشاف سانحہ صفورا کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم کی رپورٹ میںکیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی کارروائیوں میں آئی ای ڈی بنانے کے ماہر اور شعبہ تعلیمی اداروں سے انجینئرنگ اور دیگر شعبوں کی ڈگری لینے والے نوجوان بھی ملوث ہیں۔ رپورٹ میں سانحہ صفورا میں ملوث گرفتار ملزم سعد عزیز کے پس منظر کے بارے میں بھی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ جوائنٹ انٹیروگیشن رپورٹ کے مطابق 13 مارچ 1998ء کو پیدا ہونے والے اور گلشن اقبال کے رہائشی سعد عزیز نے ابتدائی تعلیم اچھے اسکولوں سے حاصل کی اور آئی بی اے سے بی بی اے کی ڈگری لینے کے بعد سندھی مسلم سوسائٹی کے ایک ریسٹورنٹ میں ملازمت بھی کی۔ سعد عزیز نے 2011ء میں پاک افغان بارڈر کے پاس گھورلاما کے مقام پر دہشت گردی کی 25 دن کی ٹریننگ بھی حاصل کی۔ سعد نے پہلی دہشت گرد کارروائی 6 جولائی 2014ء کو دیگر ساتھیوں کیساتھ ملکر حیدرآباد‘ لطیف آباد میں پولیس موبائل پر کی۔ اس واقعے میں تین پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ وہیں قتل کی کئی وارداتوں کے بعد سعد کراچی آگیا اور یہاں بھی اس نے کئی پولیس اہلکاروں کو شہید کیا۔ سانحے صفورا کے ماسٹر مائنڈ طاہر منہاس کی جوائنٹ انٹرو گیشن رپورٹ چند خوفناک حقائق سے پردہ اٹھاتی ہے اس کے مطابق دہشت گرد کارروائیاں کرنے کیلئے اس سے 53 لوگوں کے رابطے تھے جن میں 12 یا تو گرفتار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں سانحہ صفورا چورنگی کے مرکزی ملزم طاہر منہاس عرف سائیں جے آئی ٹی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس کے مطابق طاہر منہاس عرف سائیں داعش کراچی کا سربراہ ہے۔ طاہر منہاس کا تعلق تحصیل سرائے عالمگیر سے ہے۔ طاہر سائیں کو دو بار دہشت گردی کی تربیت کیلئے افغانستان بھجوایا گیا۔ ملزم نے افغانستان میں ہتھیار چلانے کی تربیت لی اس نے حیدر آباد سے دہشت گردی کی وارداتیں شروع کیں۔ سانحہ صفورا میں ریکی سے واردات تک 12دہشت گرد شامل تھے۔ سانحہ صفورا میں ملزم دائود نے بس دیکھ کر دیگر ملزمان کو اشارہ کیا پچھلے دروازے سے طاہر سائیں اور منصور داخل ہوئے، دہشت گردی کی واردات کے ملزمان موٹر سائیکلوں پر فرار ہوئے۔ ملزمان نے خون آلود کپڑوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی تاہم کپڑے مکمل طور پر نہیں جل سکے تھے۔