اس سے پہلے ہمارے معاملات کوئی اور دیکھے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہئے: چیئرمین سینٹ

05 اگست 2015

اسلام آباد (نامہ نگار+ ایجنسیاں) چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اس سے قبل کہ ہمارے معاملات کوئی اور دیکھے ہمیں اپنے مستقبل کا فیصلہ ازخود کرنا چاہئے، باتیں ہورہی ہیں کہ سینٹ الیکشن شفاف نہیں، ہوئے ارکان سینٹ صحت مند ایوان میں بحث کریں اور سوچ سمجھ کر تجاویز دیں تاکہ اس کے مطابق الیکشن کے طریقہ کار مرتب کئے جا سکیں، 7 اگست کو سینٹ میں الیکشن سے متعلق بحث کا آغاز ہوگا ، ارکان سینٹ کی حاضری ضروری ہے۔ سینٹ نے نیشنل ٹیرف کمشن بل سمیت 4 بلوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی ہے جبکہ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے سینٹ میں کشمیر کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کا راستہ صرف کشمیر سے نکلتا ہے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ورکنگ بائونڈری اور لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے۔ ’’را‘‘ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات اٹھائے جائیں۔ وزیراعظم اور پاکستان کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی اور متعلقہ فورم پر اٹھائیں گے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر سیزفائر دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہو گا۔ علاوہ ازیں سینٹ نے نیشنل ٹیرف کمشن بل 2015ئ، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز بل 2015ئ، کائونٹر ویلنگ بل 2015ء اور حفاظتی اقدامات (ترمیمی) بل 2015ء سمیت چار بلوں کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے بلوں کی اتفاق رائے سے منظوری پر سینٹ کے تمام ارکان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بلوں کی منظوری سے پاکستان کے تجارتی مفادات کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ سینٹ نے سی ڈی اے کی جانب سے ایگریکلچر ریسرچ سنٹر کی 1400 ایکڑ اراضی کوکمرشل پلاٹوں میں تبدیل کرنے کانوٹس لے لیا۔ سینٹ نے سی ڈی اے کی ملک دشمن اورقومی ادارے کی فروخت کی سوچ کے خلاف آواز بلندکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بھیانک منصوبہ کاخواب کس نے دیکھا؟ اور بغیر لون دینے کیلئے تل گیا، چیئرمین سینٹ رضاربانی کا کہنا ہے کہ معلوم ہواہے کہ این اے آر سی زمین پر الیکٹرانک اورپرنٹ میڈیاکے لئے ہائی سوسائٹی بنا ئی جانی ہے، اس پرمزیدبحث کی جائے گی۔ سینٹ کو بتایا گیا گزشتہ پانچ سال کے دوران او جی ڈی سی ایل نے ملک بھر میں تیل کے دس کنویں دریافت کئے ہیں، ایس ایس جی سی ایل میں بلوچستان کے ڈومیسائل رکھنے والے ملازمین کی تعداد مختص کوٹہ سے زیادہ ہے، آئندہ سال مردم شماری کے دوران ہاؤسنگ یونٹس کی کمی کے حوالے سے بھی سروے کیا جائے گا، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے وزارت پانی و بجلی اور وزارت قانون سے متعلقہ سوالات موخر کر دیئے۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل کی طرف سے تیل کے کامیاب کنوئوں پر 7051.21 ملین روپے کی لاگت آئی ہے۔ وزیر مملکت پٹرولیم جام کمال نے پی پی ایل کے ملازمین کی بڑی تعداد کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ سوئی گیس فیلڈ میں 1729 ملازمین سے 1178 کا تعلق سوئی ڈیرہ بگٹی سے ہے، یہ تعداد سوئی گیس فیلڈ کے کل ملازمین کا 68 فیصد ہے جو بلوچستان کے مختص کوٹہ سے بھرتی سے کہیں زیادہ ہے۔ ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے بتایا کہ بیوروکریسی فون تک نہیں سنتی۔ وزیر مملکت پٹرولیم نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان سے زیادتیاں ہوئی ہیں تو ان کا ازالہ کیا جائیگا، کسی صوبہ اور ضلع کے عوام کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائیگی۔ سینیٹر نزہت صادق کے سوال پر وزیر ہائوسنگ و تعمیرات اکرم خان درانی نے بتایا کہ قومی مردم شماری مارچ اپریل 2016ء میں کی جائے گی، اس دوران ملک بھر میں ہائوسنگ یونٹس کی کمی کے حوالے سے بھی سروے کیا جائیگا۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کراچی میں بجلی کے بار بار بریک ڈائون سے متعلق تحریک التواء بحث کیلئے منظور کر لی۔ تحریک پر رواں ہفتے بحث کی جائیگی۔ گزشتہ روز ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سنیٹر تاج حیدر نے کراچی میں بار بار بریک ڈائون سے متعلق تحریک التوا منظوری کے تعین کیلئے پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک کی جانب سے ہفتے میں چار مرتبہ بریک ڈائون کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، سسٹم کی مرمت نہیں کی جاتی۔ وفاقی وزیر ہائوسنگ اینڈ ورکس اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ وزیراعظم ہائوسنگ پروگرام کے تحت بے گھر افراد کیلئے 2018ء تک 5 لاکھ سستے گھر تعمیر کئے جائیں گے، وزیر مملکت جام کمال خان نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل نے گزشتہ پانچ سال کے دوران 7 ارب 5 کروڑ روپے کی لاگت کے تیل و گیس کی تلاش کیلئے 10کنویں کھودے جو کامیاب رہے۔ بعدازاں سینٹ کا اجلاس آج سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔